🔴 امام موسیٰ کاظمؑ پر اہل سنت کی جرح
▪️عقیلی، جو سقیفہ کے بڑے علمائے کرام میں شمار ہوتا ہے، اپنی کتاب الضعفاء میں امام موسیٰ کاظمؑ کا نام لاتا ہے 😳:
📜 1726 – موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔
📚 کتاب: الضعفاء الکبیر للعقیلی جلد: ۴ صفحہ: ۱۵۶
⁉️ اس نے امام موسیٰ کاظمؑ کا نام کتاب ضعفاء میں ذکر کیا ہے!
✍ یہ عالم اہل سقیفہ پھر لکھتا ہے 👇
📜 حديثه غير محفوظ
👈 یعنی "ان کی حدیث محفوظ نہیں ہے"
✍ یہ جرح کے الفاظ میں سے ہے، یعنی امام کی حدیث شاذ شمار کی گئی ہے۔
⭕ اس وضاحت کے لیے اہل سقیفہ کی دیگر کتابوں کے حوالہ جات پیش ہیں:
📜 فالخلاصة أن هذا الحديث شاذ غير محفوظ...
📃 ترجمہ: پس خلاصہ یہ کہ یہ حدیث شاذ اور غیر محفوظ ہے
📚 شرح المحرر في الحديث – عبدالکریم الخضیر
جلد ۷، صفحہ ۱۷
(یہاں "غیر محفوظ" کو ’’شاذ‘‘ کے معنی میں لاتا ہے)
▪️ محمود الطحان تیسیر مصطلح الحدیث میں شاذ و محفوظ کے حکم میں لکھتا ہے:
📜 5 - حکم الشاذ والمحفوظ:
من المعلوم أن الشاذ حديث مردود، 👈 أما المحفوظ فهو حديث مقبول 👉
📃 شاذ حدیث مردود ہے،
اور محفوظ حدیث قابل قبول ہے۔
👈👈 پس:
جب وہ کہتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظمؑ کی روایت ’’محفوظ نہیں‘‘
تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ’’مقبول نہیں‘‘
اور یہ امامؑ پر جرح ہے۔
▪️ امام ذہبی عقیلی کے بارے میں لکھتے ہیں:
العقيلي 👇
👈 الإمام الحافظ الناقد 👉
ابو جعفر محمد بن عمرو بن موسیٰ بن حماد العقیلی الحجازي،
مصنف کتاب الضعفاء
http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?ID=3130&bk_no=60&flag=1
🤔 سوال یہ ہے:
آخر ایک امام اور حافظِ حدیث علمائے اہل سنت
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام پر جرح کیوں کرے؟
اور کیوں ان کی روایات کو احادیثِ شاذہ میں شامل کرے⁉️
♻️ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen