🟠حضرت امام موسیٰ کاظم علیه السلام🟠
امام
بہترین نمونہ عمل
لقب: سید ابو الحسن
والد ماجد: امام جعفر الصادق علیہ السلام
پسر بزرگوار: امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام
جائے ولادت: مدینہ منورہ
ثقہ، صدوق
مسلمانوں کے امام
بغداد میں ہارون رشید کے ہاتھوں ظلم و ستم کی قید میں رہے اور وہیں قید میں شہادت پائی۔
اللہ کے نیک بندے۔
عبادت اور علم میں مشہور۔
ایک مشہور روایت ہے کہ ایک دفعہ دیکھا گیا کہ وہ رات کے پہر میں مسجدِ نبوی ﷺ میں داخل ہوئے اور ایک سجدۂ طویل میں گر گئے اور سجدے میں بار بار یہ دعا مانگتے رہے:«عَظُمَ الذَّنْبُ عِنْدِي فَلْيَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِكَ يَا أَهْلَ التَّقْوَى وَيَا أَهْلَ الْمَغْفِرَةِ»
«میرے گناہ بہت بڑھ گئے ہیں، تیرے پاس سے معافی ہی سب سے بہتر ہے اے وہ جس سے ڈرا جاتا ہے، اے وہ جس سے مغفرت طلب کی جاتی ہے» اور وہ یہ کلمات صبح صادق تک دہراتے رہے۔
وہ بے پناہ سخی، کریم اور رحیم طبیعت کے مالک تھے۔
جب حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو سندی بن شاہک کے پاس قید کیا گیا تو اس کی بہن (جو بہت دین دار خاتون تھیں) نے درخواست کی کہ قید کی ذمہ داری انہیں سونپ دی جائے۔ سندی نے اجازت دے دی۔ وہ امام کی خدمت میں پیش رہتیں۔ بیان کرتی ہیں:«جب وہ عشاء کی نماز ادا فرماتے تو اللہ کی حمد و ثنا اور دعا شروع کر دیتے اور رات گزرنے تک اسی حال میں رہتے۔ رات گزرنے کے بعد کھڑے ہو کر صبح کی نماز تک عبادت فرماتے۔ پھر طلوعِ آفتاب تک ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتے، سورج نکلنے کے بعد کچھ دیر بیٹھتے، پھر وضو کرتے، مسواک کرتے، ناشتہ تناول فرماتے، ظہر سے پہلے تک قیلولہ (آرام) فرماتے، پھر وضو کر کے عصر کی نماز، پھر قبلہ رخ بیٹھ کر ذکر میں مصروف رہتے یہاں تک کہ مغرب، مغرب کے بعد نوافل اور پھر عشاء تک…»
وہ بہن اکثر یہ فرمایا کرتیں:«خسارے میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اس بزرگ شخصیت کی شان میں جسارت کی۔
وہ واقعی عبدِ صالح، ولیِ کامل تھے۔»
بغداد میں کاظمین کے نام سے ان کا مقدس روضہ مبارک بڑا ہی عظیم اور مشہور ہے
اسی مقدس مقام میں ان کے پوتے امام محمد تقی الجواد علیہ السلام بھی مدفون ہیں۔
تاریخِ شہادت: رجب المرجب، سنہ ۱۸۳ ہجری
📚 سیر اعلام النبلا
🔴 اہلسنت عالم دین احمد بن يوسف بن احمد الشهير القرماني کا فضائل امام موسي کاظم (علیه السلام) بیان کرنا:
☜☜هو الامام الکبیر القدر، الأوحد، الحجة، الساهر لیله قائما، القاطع نهاره صائما، المسمی لفرط حلمه وتجاوزه عن المعتدین کاظما هوالمعروف عند أهل العراق بباب الحوائج، لأنه ما خاب المتوسل به فی قضاء حجاة قط
وہ عظیم المرتبت امام ہیں، یکتائے زمانہ، حجّتِ خدا، جو راتوں کو عبادت میں قیام کرتے اور دن کو روزہ رکھتے تھے۔ اپنے بے پناہ حلم اور زیادتی کرنے والوں سے درگزر کی وجہ سے “کاظم” کہلائے۔ عراق کے اہلِ علم و عوام کے نزدیک وہ “بابُ الحوائج” کے نام سے مشہور ہیں، کیونکہ ان کے وسیلے سے مانگنے والا کبھی اپنی حاجت پوری ہونے سے محروم نہیں رہا۔
📚 أخبار الدول و آثار الأول فی التاریخ
التألیف احمد بن يوسف بن احمد الشهير القرماني
🔴 احمد بن یوسف قرمانی امامؑ کے بارے میں لکھتے ہیں:
وہ عظیم قدر، ممتاز، خدا کی حجت امام تھے۔
راتوں کو جاگ کر عبادت کرتے،
دنوں کو لگا تار روزے رکھتے،
اور زیادتی کرنے والوں کو معاف کرنے اور حلم کی کثرت کی وجہ سے
آپ کا لقب کاظم رکھا گیا۔
وہ اہلِ عراق کے نزدیک باب الحوائج کے نام سے مشہور تھے،
کیونکہ کوئی بھی شخص جو ان کے ذریعے حاجت چاہتا تھا
کبھی محروم نہیں لوٹتا تھا۔
📚 اخبار الدول وآثار الأول في التاريخ، ج ۱، ص ۳۳۷
✦ ابن حجر ہیثمی — کتاب الصواعق المحرقة میں لکھتے ہیں:
موسیٰ الکاظم وہی ہیں
جو علم، معرفت، کمال اور فضل میں
امام جعفر صادقؑ کے وارث تھے۔
انہیں کاظم کہا گیا
بیش از حد حلم اور درگزر کرنے کی وجہ سے۔
وہ عراق والوں کے نزدیک
باب قضاء الحوائج کے طور پر معروف تھے۔
اور وہ اپنے زمانے میں
سب سے زیادہ عبادت گزار،
سب سے زیادہ عالم،
اور سب سے زیادہ سخی تھے۔
🎉 ہارون نے پوچھا:
تم خود کو رسول اللہ ﷺ کی اولاد کیسے کہتے ہو
جبکہ تم علیؑ کی نسل سے ہو؟
امامؑ نے آیت تلاوت کی:
“اور ہم نے اس کی اولاد میں داؤد، سلیمان … اور عیسیٰ کو قرار دیا”
(الأنعام 84-85)
حالانکہ عیسیٰؑ کا کوئی باپ نہ تھا۔
🔺 پھر فرمایا:
اللہ نے مباہلے میں حکم دیا:
“آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو”
(آل عمران 61)
اور مباہلے میں رسول اللہ ﷺ
فقط علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ کو لائے،
پس حسن و حسین رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ہیں۔
🎈 جب ہارون حج پر گیا تو بعض لوگوں نے بدگمانی پھیلائی
کہ دولت ہر طرف سے موسیٰ کاظمؑ کے پاس جاتی ہے
یہاں تک کہ انہوں نے ۳۰ ہزار دینار کا باغ خرید لیا ہے۔
🔹 ہارون نے بصرہ کے امیر
عیسیٰ بن جعفر بن منصور کو حکم دیا
اور انہوں نے امامؑ کو ایک سال قید میں رکھا۔
بعد میں حکم قتل بھیجا گیا
مگر عیسیٰ بن جعفر نے معافی مانگی
اور لکھا کہ
امام موسیٰ بن جعفرؑ نے
ہمارے خلاف کچھ نہیں کیا
اور اگر کوئی بھی تحویل لینے نہ آیا
تو میں انہیں رہا کر دوں گا۔
🔴 ہارون نے پھر سِندی بن شاہک کو حکم دیا
کہ انہیں لے کر قتل کرے۔
کھانے میں — اور کہا گیا کہ کھجور میں —
زہر ملا دیا گیا۔
شدید بخار لاحق ہوا
اور تین دن بعد
آپؑ کی عمر ۶۵ سال میں شہادت واقع ہوئی۔
🌿 ایک روز ہارون نے امامؑ کو کعبہ کے پاس بیٹھا دیکھا
تو کہا:
"لوگ تم سے چھپ کر بیعت کرتے ہیں؟"
🔵 امامؑ نے فرمایا:
"میں دلوں کا امام ہوں
اور تو جسموں کا امام ہے۔"
جب دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے روضے کے پاس آواز بلند کی
ہارون نے کہا:
"السلام علیک یا ابن العم"
(اے چچا زاد)
امامؑ نے جواب دیا:
"السلام علیک یا أبت"
(اے میرے پدر)
یہ سن کر ہارون برداشت نہ کر سکا
اور اسی کے بعد گرفتار کیا گیا
اور بغداد بھیجا گیا۔
⚪️ تمام عمر قید میں رہے
اور جب رہائی ملی
تو جنازہ تھا
جس پر ہتھکڑیاں اور بیڑیاں موجود تھیں
اور آپؑ کو مغربی بغداد میں دفن کیا گیا۔
📚 الصواعق المحرقة علی أهل الرفض والضلال والزندقة
جلد ۲، ص ۵۹۰ — ۵۹۳
Gallery
Tap any image to view full screen