🔴 بِـشر حافی اور امام موسیٰ بن جعفر ع 🔴
مصادر 📚 شیعی علامہ حلی از منھاج الکرامہ فی معرفتِ آئمہ م نقل کرتے ہیں ♨️
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام جب بغداد میں پریشانی کی زندگی گزار رہے تھے تو ایک دن راستے سے گزر ہے تھے کہ ایک گھر کے اندر رقص کی محفل سجی ہوئی تھی اور گانے کی آواز باہر آرہی تھی اس وقت گھر کے دروازے سے ایک کنیز کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لیے باہر آئی امامؑ نے اس سے پوچھا کہ یہ مکان کسی بندے کا ہے یا آزاد کا؟ اس نے فوراً جواب دیا کہ آزاد کا۔ آپؑ نے فرمایا کہ بے شک یہ آزاد ہے اگر بندہ ہوتا تو اپنے مالک کی اطاعت کرتا اور یہ کہہ کر آپؑ آگے بڑھ گئے ♨️
کنیز گھر کے اندر واپس گئی تو صاحب خانہ بشر نے تاخیر کا سبب پوچھا تو اس نے واقعہ بیان کیا بشر کے دل پر واقعہ کا اس قدر اثر ہوا کہ دوڑ کر امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت اس کے پاؤں میں جوتے نہیں تھے اس نے امامؑ سے اپنے حرام عمل یعنی گانے اور رقص کرنے کی معافی مانگی تو امامؑ نے فرمایا تو خدا سے معافی طلب کر اور خدا تجھے معاف کر دے گا۔ اس نے خدا سے معافی طلب کی اور اللہ نے اس کو معاف کر دیا ♨️
اس واقعے کے بعد وہ گلیوں اور بازاروں میں ننگے پاؤں چلتا رہا اس نے کبھی بھی پاؤں میں جوتے نہ پہنے۔ بشر سے کسی نے پوچھا تو پاؤں میں جوتے کیوں نہیں پہنتا تو بشر نے جواب دیا: کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو بساطت اور فرش تعمیر کیا ہے اور بندے کی مجال نہیں ہے کہ مالک کے فرش پر جوتا پہن کر چلے اور وہ کہتا کہ کل میں نے خدا کے حضور امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے دربار میں معافی کی درخواست کی،
تو اس وقت میرے پاؤں میں جوتے نہیں تھے اسی وجہ سے میں نے بعد میں جوتے پہننا پسند نہیں کیا
حوالہ 📚 منھاج الکرامہ فی معرفتِ آئمہ ع
ابن مطھر الحلی علیہ رحمہ ص 59
🔴 امام کاظم علیہ السلام اور صفوان جمّال کا مکالمہ 🔴
صفوان بن مہران، بہت زیادہ اونٹوں کے مالک تھے اور اپنا گذر بسر انہی اونٹوں کو کرائے پر دیکر کرتے تھے۔ اسی سبب انہیں جمّال (اونٹ والا) بھی کہتے تھے۔
ایک دن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے تو امام علیہ السلام نے ان سے فرمایا:
«یَا صَفْوَانُ! کُلُّ شَیْءٍ مِنْکَ حَسَنٌ جَمِیلٌ مَا خَلَا شَیْئاً وَاحِداً!»
اے صفوان تمہاری ساری چیزیں نیک اور اچھی ہیں سوائے ایک چیز کے۔
صفوان نے امام سے پوچھا: میری جان آپ پر قربان! مولا وہ کونسی چیز ہے؟
تو امام علیہ السلام نے جواب دیا: «إِکْرَاؤُکَ جِمَالَکَ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ یَعْنِی هَارُونَ!»
تمہارا اس شخص (ہارون الرشید) کو اونٹ کرائے پر دینا۔
صفوان نے کہا: «وَ اللَّهِ مَا أَکْرَیْتُهُ أَشَراً وَ لَا بَطَراً وَ لَا لِلصَّیْدِ وَ لَا لِلَّهْوِ وَ لَکِنِّی أَکْرَیْتُهُ لِهَذَا الطَّرِیقِ(یَعْنِی طَرِیقَ مَکَّةَ) وَ لَا أَتَوَلَّاهُ بِنَفْسِی وَ لَکِنِّی أَبْعَثُ مَعَهُ غِلْمَانِی»
اللہ کی قسم! میں نے کسی لالچ اور برائی کے سبب یہ کام نہیں کیا بلکہ اسے مکہ (یعنی حج پر) جانے کے لئے اونٹ کرائے پر دئے ہیں اور میں خود بھی ساتھ نہیں گیا بلکہ ایک غلام کو اسکے ساتھ بھیجا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: «یَا صَفْوَانُ! أَ یَقَعُ کِرَاؤُکَ عَلَیْهِمْ؟!!»
اے صفوان! کیا اس سے کرائے کے طلبکار ہو؟
جواب دیا: جی مولا!
تو امام علیہ السلام نے فرمایا: «أَ تُحِبُّ بَقَاءَهُمْ حَتَّى یَخْرُجَ کِرَاؤُکَ؟»
کیا چاہتے ہو کہ وہ تمہارا کرایہ دینے تک زندہ رہے؟
جواب دیا: جی مولا!
امام علیہ السلام نے فرمایا: «مَنْ أَحَبَّ بَقَاءَهُمْ فَهُوَ مِنْهُمْ وَ مَنْ کَانَ مِنْهُمْ کَانَ وَرَدَ النَّارَ!»
جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ لوگ زندہ رہیں (اور ہم اہل بیت علیہم السلام کے حق پر غاصب رہیں۔) اسکا شمار انہی میں سے ہے اور جو ان میں سے ہوگا اسکا ٹھکانا جہنم ہے۔
صفوان کہتے ہیں کہ:
📋«فَذَهَبْتُ فَبِعْتُ جِمَالِی عَنْ آخِرِهَا»
امام علیہ السلام کی اس گفتگو کے بعد میں نے جاکر فورا سارے اونٹوں کو بیچ دیا۔ جب یہ خبر ہارون تک پہنچی تو مجھے پیغام بھیجوا کر بلوایا اور کہا: مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم نے اپنے اونٹوں کو بیچ دیا ہے؛ اسکی کیا وجہ ہے؟
میں نے کہا: ہاں! کیونکہ بوڑھا ہوچکا ہوں اور اپنے غلاموں کے بل بوتے پر اس کام کو نہیں چلا سکتا۔
ہارون نے غضب کی حالت میں کہا: «هَیْهَاتَ! هَیْهَاتَ! إِنِّی لَأَعْلَمُ مَنْ أَشَارَ عَلَیْکَ بِهَذَا أَشَارَ عَلَیْکَ بِهَذَا مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ!»
ھرگز! ھرگز! میں جانتا ہوں تمہیں کس نے کہا تھا، تمہیں موسی بن جعفر (علیہ السلام) نے کہا تھا۔
صفوان نے کہا:
📋«مَا لِی وَ لِمُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ؟!!»
میرا موسی بن جعفر سے کیا تعلق؟!!
تو ہارون نے جواب دیا:
📋«دَعْ هَذَا عَنْکَ! فَوَ اللَّهِ لَوْ لَا حُسْنُ صُحْبَتِکَ لَقَتَلْتُکَ»
بس رہنے دو! اگر تمہارے ساتھ پرانا تعلق نہیں ہوتا تو میں تمہیں قتل کردیا۔
📚 رجال الکشّی، ج۲، ص۷۴۰، ح۸۲۸