🔴 کاظمین کی زمین امام موسی کاظم ع نے خریدی تھی 

 

علی بن حسین مسعودی نے لکھا ہے کہ بعض مورخین نے اظہار کیا ہے کہ جہاں امام موسی کاظم ع دفن ہوئے وہاں کی زمین انہوں نے اپنی شہادت سے قبل (کسی صحابی کے زریعے سے) خرید فرمائی تھی( اثبات الوصیتہ صفحہ ١٦٤)

 

ابراہیم زنگنہ کا بیان ہے کہ بعض شیعہ مورخین مثلا شیخ جمال الدین یوسف بن حاتم عاملی جو محقق حلی کے شاگرد تھے ابن طاؤس حلی سے انہیں اجازہ بھی حاصل تھا اپنی کتاب الدرالنظیم میں تاکید کی گی ہے جس بقع میں امام موسی کاظم ع دفن ہوئے آپ نے پہلے ہی وہ زمین خرید لی تھی جو مقبرہ قریش کے پاس باغ شونیزیہ صغیر میں واقع تھی جب رجب ١٨٣ھ میں سندی بن شاہک نے آپ ع کو زہر دیا اور آپ شہید ہو گئے تو آپ کو اسی بقع میں دفن کیا گیا جو مقابر عباسین سے جدا تھا اسی طرح ٢٢٠ھ میں امام محمد تقی ع آپ کے پہلو میں دفنائے گئے اور ان دونوں قبروں پر عمارت بنائی گئ اور یہ جگہ کاظمین مشہور ہو گئ 

اس کے نزدیک اک مسجد باب التین واقع تھی امام ع کے چاہنے والے تقیہ میں اسی مسجد کی زیارت کرتے تھے جس کی وجہ سے یہ جگہ مشہد باب التین بھی کہی جانے لگی 

 

کتاب:مشاہیر مدفون در کاظمین ع 

صفحہ: ١٩

 

🔴 روضہ امام موسی کاظم ع کے مشرقی دروازے پر لکھے گئے اشعار 

 

یہ روضہ کا مشرقی دروازہ ہے جو سونے کا ہے لمبائی تین میٹر اور چوڑائی دو میٹر ١٣٧٤ھ میں بنایا گیا ہے اس پر داخلے کی دعا لکھی ہوئی ہے اسی طرح دوسرا تختہ جو نیچے کی طرف ہے اور چار جانب دروازے کے اوپر ہے اس پر آیہ تطہیر لکھی ہوئی ہے اور ٥ شعر عربی کے لکھے ہوئے ہیں جو دروازے کے تین طرف لکھے ہوئے ہیں 

ترجمہ اشعار

١.ہدایت لکھی ہوئی ہے کہ حرم موسی بن جعفر ع میں داخلے کے لئے بہشت فردوس میں داخلہ اس دروازے سے کریں 

 

٢.حرم موسی بن جعفر ع لطف خداوندی اور آسمانی زینت سے سجا ہوا ہے اس میں سونا جواہرات نہیں لگائے گئے ہیں

 

٣.بہ خدا حرم موسی بن جعفر ع ایسا دروازہ ہے کہ اسکا عکس پڑے تو سورج چھپ جائے گا

 

٤.سچائی اور پاکیزگی کی وجہ سے نیت صاف ہو جاتی ہے 

 

٥.یہ دروازہ گناہ گاروں کے لیے باعث امن ہے اور لطف خداوندی کا سر چشمہ ہے 

 

کتاب : تاریخ کاظمین 

صفحہ: ١٢٢

 

مظاہر عباس