📜 عن الحسن بن علي الوشاء, عن الرضا (ع), قال: سألته عن زيارة قبر أبي الحسن (الكاظم ع), هل هي مثل زيارة قبر الحسين (ع)؟ قال: نعم.

 

📃 حسن بن علی الوشاء روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امام رضا علیہ السلام سے پوچھا:

 

"کیا امام کاظم علیہ السلام کی قبر کی زیارت امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کے برابر ہے؟"

 

امام علیہ السلام نے فرمایا: "ہاں۔"

 

📚 التهذيب، جلد 6، صفحہ 81

📚 جامع الأخبار، صفحہ 28

📚 الوافي، جلد 14، صفحہ 1534

📚 وسائل الشيعة، جلد 14، صفحہ 544

 

📜 عن الحسين بن يسار الواسطي قال: سألت أبا الحسن الرضا (عليه السلام) ما لمن زار قبر أبيك؟ قال: زره, قلت: فأي شي‏ء فيه من الفضل, قال: فيه من الفضل كفضل من زار والده, يعني رسول الله (ص), قلت: جعلت فداك, فإن خفت ولم يمكني أن أدخل, قال فسلم من وراء الحائر.

 

حسین بن یسار واسطی نے روایت کی ہے:

میں نے امام علی رضا علیہ السلام سے پوچھا: "جو شخص آپ کے والد (مولا موسیٰ کاظم ع) کی قبر کی زیارت کرے، اس کے لیے کیا فضیلت ہے؟"

امام علیہ السلام نے فرمایا: "زیارت کرو۔"

میں نے عرض کیا: "اس میں کیا فضیلت ہے؟"

امام علیہ السلام نے جواب دیا: "اس کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت۔"

میں نے کہا: "آپ پر قربان جاؤں! اگر مجھے خوف ہو اور میں مزار میں داخل نہ ہو سکوں تو کیا کروں؟"

امام علیہ السلام نے فرمایا: "پھر حائر (قبر کے احاطے) کے باہر سے ہی سلام کر دو۔"

 

📚 المزار للمفيد، صفحہ 191

📚 جامع الأخبار، صفحہ 28

📚 المزار الكبير، صفحہ 40

📚 وسائل الشيعة، جلد 14، صفحہ 545

📚 الفصول المهمة، جلد 1، صفحہ 485

📚 العوالم، جلد 11، صفحہ 837

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد