نجمہ خاتون شیعوں کے ساتویں امام حضرت موسی کاظم ؑ کی زوجہ اور آٹھویں امام حضرت امام علی رضا ؑ کی والدہ ہیں ۔یہ ایک کنیز تھیں جنہیں حمیدہ نے خرید کر امام موسی کاظم ؑ کو ہدیہ کیا تھا ۔بعض جگہ آپ کا نام تکتم ذکر ہوا ہے ۔
نسبی تعارف
آپ بزرگ عجمی کنیز تھیں جو عربوں کے درمیان پیدا ہوئیں ۔بعض نے انہیں شمال آفریقہ کے شہر نوبہ اور بعض نے انہیں فرانس کے جنوب میں واقع جزیرے مارسی کا کہا ہے۔ اس لحاظ سے خیزران مرسیہ اور شقراء نوبیہ کے ناموں سے بھی جانی جاتی ہیں۔
نام اور القاب
آپ کا معروف ترین نام نجمہ خاتون ہے لیکن نوبیہ اروی،سمانہ،تکتم اور خیزران بھی مذکور ہوا ہیں ۔لقب شقراء اور ام البنین کنیت ہے۔ صدوق کی روایت کے مطابق جب نجمہ خاتون حضرت امام موسی کاظم سے متعلق ہوئیں تو آپ کا نام تکتم رکھا گیا اور جب حضرت امام علی رضا کی ولادت ہوئی تو طاہرہ رکھا گیا۔
ازدواج
حضرت امام موسی کاظم سے انکی شادی کی تاریخ معلوم نہیں ہے ۔حمیدہ خاتون نے خواب دیکھا کہ رسول گرامی قدر ؐ نے اُنہیں حکم دیا کہ نجمہ کی شادی موسی کاظم ؑ سے کر دو۔ جلد ہی اس کے ہاں ایک بیٹا متولد ہو گا ۔میں نے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے نجمہ کی شادی حضرت امام موسی کاظم سے کر دی۔
مقام و منزلت
حضرت امام جعفر صادق ؑ کی زوجہ حضرت امام موسی کاظم سے خطاب کرتے ہوئے کہتی ہیں:
میں نے اس سے زیادہ مرتبے کی حامل کسی کنیز کو نہیں دیکھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جلد ہی خداوند کریم اس سے ایک نسل کو واضح اور آشکار کرے گا[1] ۔۔غلام فروش(جس سے نجمہ خاتون کو خریدا گیا) سے ایک حکایت منقول ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل کتاب کی ایک خاتون نے نجمہ خاتون کی ابتدائے پیدائش سے ہی ایک برزگ خاتون ہونے کی خبر دی ہے [2]۔
شیخ صدوق بھی علی بن میثم کی ایسی ہی ایک روایت میں اس خواب کی طرف اشارہ کرتے جو حمیدہ خاتون نے دیکھا تھا: رسول اللہ حمیدہ کو فرماتے ہیں یہ کنیز نجمہ موسی کاظم کو بخش دو کیونکہ جلد ہی اس سے دنیا کے افضل ترین مولود کی پیدائش ہو گی لہذا حمیدہ حضرت امام موسی کاظم کو نجمہ بخش دیتی ہیں اس وقت وہ دو شیزہ تھیں [3][4]۔امام موسی کاظم نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا ہے [5]۔
عبادت
حضرت امام رضا ؑ فرماتے میں کہ میری والدہ ماجدہ میرے حمل کے دوران کسی قسم کے بوجھ کا احساس نہیں کرتی تھیں نیز وہ اس دوران اپنے خواب میں تسبیح و تحلیل کی آواز سنتی تو بیدار ہو جاتیں لیکن وہاں پر کسی کو موجود نہ پاتیں۔ میری والدہ ایک عابدہ اور با فضیلت خاتون تھیں جو کثرت سے ذکر خدا میں مشغول رہتیں۔
ایک اور روایت میں آیا ہے: نجمہ خاتون نے حضرت امام علی رضا کے حمل کے دوران نماز اور عبادت کو انجام دینے کی خاطر ایک کنیز کی درخواست کی۔[6]
وفات اور محل دفن
نجمہ خاتون کی تاریخ وفات کے بارے میں ہمیں کوئی خبر نہیں ملی ہے لیکن بعض اقوال کی روشنی میں ان کا جائے دفن مشربہ ام ابراہیم ہے ۔[7]
حوالہ جات
1: صدوق،امالی، ص۲۴
2: عیون أخبار الرضا علیهالسلام، ج۱، ص۱۸
3: صدوق،امالی، ص۲۶
4: صدوق، عیون اخبار الرضا، ج ۲، ص ۲۴
5: إثبات الوصیہ، المسعودی،ص:۲۰۲
6: عیون أخبار الرضا علیهالسلام، ج۱، ص۱۵
7: فدك و العوالي، الحسيني الجلالي ،ص:55
🔴 امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اولادیں :-
امام کاظم (ع) کی ۳۷ اولادیں تھیں. امام رضا (ع)، احمد، حمزه اور محمد آپ کے معروف ترین بیٹے اور حضرت معصومہ قم (س) معروف ترین بیٹی ہیں -
آپ کے فرزندوں کی تعداد کے بارے میں تاریخی روایات مختلف ہیں۔ شیخ مفید کا کہنا ہے کہ امام کاظم(ع) کی 37 اولادیں ہیں جن میں 18 بیٹے اور 19 بیٹیاں شامل ہیں- (١)
١- علی بن موسى الرضا عليہما السلام
٢- إبراہيم
٣- عباس
٤- قاسم،
(ان سب کی والدہ نجمہ خاتون سلام اللہ تھیں)۔
٥- إسمعيل
٦- جعفر
٧- ہارون
٨- حسين، ان کی والدہ ام ولد تھیں۔
٩- أحمد
١٠- محمد
١١- حمزة، جن کی والدہ ام ولد تھیں۔
١٢- عبد اللہ
١٣- إسحق
١٤- عبيد اللہ
١٥- زيد
١٦- حسن
١٧- فضل
١٨- سليمان، ان کی والدہ ام ولد تھیں۔
١٩- فاطمۂ كبرى
٢٠- فاطمۂ صغرى
٢١- رقيہ
٢٢- حكيمہ
٢٣- أم أبيہا
٢٤- رقيہ صغرى
٢٥- كلثوم
٢٦- أم جعفر
٢٧- لبابہ
٢٨- زينب
٢٩- خديجہ
٣٠- عليّہ
٣١- آمنہ
٣٢- حسنہ
٣٣- بريہہ
٣٤- أم سلمہ
٣٥- ميمونہ
٣٦- أم كلثوم، ان کی مائیں بھی ام ولد ہیں۔
علی بن موسیٰ (ع)، اعظم و افضل اولاد ہیں جن کا مدفن مشہد مقدس میں ہے۔
احمد بن موسیٰ (ع) معروف بہ شاہ چراغ کا مدفن شیراز میں ہے۔
حسین بن موسیٰ (ع) جو شیراز میں مدفون ہیں۔
محمد بن موسیٰ (ع) جو شیراز میں مدفون ہیں۔
حمزہ بن موسیٰ (ع) جو تہران کے نواحی شہر "رے" میں مدفون ہیں۔
فضل بن موسیٰ (ع) جو ساوہ کے نواحی گاؤں آوه میں مدفون ہیں۔
سلیمان بن موسیٰ (ع) جو ساوہ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر "آوہ" نامی بستی میں مدفون ہیں۔
ہارون موسیٰ (ع) جو ساوہ میں مدفون ہیں۔
اسحق بن موسیٰ (ع) جو ساوہ میں مدفون ہیں۔
عبداللہ بن موسیٰ (ع) جو ساوہ شہر کے نواحی سب تحصیل قرہ چای کے گاؤں اوجان میں مدفون ہیں۔
قاسم بن موسیٰ (ع) جو عراقی صوبہ بابل کے شہر حِلّہ میں مدفون ہیں۔
آپ کی بیٹی فاطمۂ معصومہ مقدس شہر قم میں مدفون ہیں۔
پیروان اہل بیت (ع) میں سے بعض شیعہ امام صادق (ع) کی حیات میں ہی آپ کے بڑے بیٹے اسمعیل بن جعفر کی امامت کے قائل تھے۔ اسمعیل کا انتقال ہوا تو کچھ لوگوں نے ان کی موت کا یقین نہیں کیا اور انہیں امام سمجھتے رہے۔ امام صادق(ع) کی شہادت کے بعد ان میں سے بعض نے اسمعیل کی حیات سے مایوس ہو کر ان کے بیٹے محمد بن اسمعیل کو امام سمجھا اور اسماعیلیہ کہلائے۔
کچھ لوگ امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد عبداللہ افطح کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کی پیروی کی اور فطحیہ کہلائے۔ امام موسی کاظم (ع) کے زمانے کے دوسرے فرقوں میں ناووس نامی شخص کے پیروکاروں کا فرقہ ناووسیہ اور اور آپ کے بھائی محمد بن جعفر دیباج کی امامت کا قائل فرقہ شامل ہیں۔
امام موسی کاظم (ع) کی شہادت کے بعد امام رضا (ع) کی امامت پر اعتقاد نہ رکھنے والے افراد نے امام موسی کاظم (ع) کی امامت پر توقف کیا اور آپ کو مہدی اور قائم قرار دیا اور واقفیہ کہلائے۔ (٢)
جبکہ مہدویت اور قائمیت کے تفکر کی جڑیں بنیادی شیعہ اصولوں میں پیوست ہیں اور اس کا سرچشمہ خاندان رسالت سے منقولہ احادیث ہیں کہ خاندان رسالت کا ایک فرد "قائم" اور "مہدی" (بارہویں امام علیہ السلام) کے عنوان سے قیام کرکے دنیا کو عدل و انصاف کا گہوارہ بنائے گا۔
١- مفید، الارشاد، ج 2، ص 244.
٢- نوبختی، فِرَقُ الشّیعۃ، ص77. رسول جعفریان، حیات فکری و سیاسی ائمہ، ص 379-384۔
🔴 حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ۱۹ دختران تھیں۔
ــــــــــــــــــــ
بعض غالی شیخ عباس قمی کی کتاب منتہی الآمال سے یہ عبارت نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اکیس دختران تھیں اور ان میں سے کسی کی بھی شادی نہیں ہوئی تھی۔
تو اس سلسلہ میں چند باتیں عرض کرتے ہیں:
۱۔عباس قمی نے اس قول کو تاریخ قم سے نقل کیا ہے اور اس کے علاوہ متقدمین میں سے کسی بھی کتاب میں یہ قول درج نہیں ہے۔
۲۔یہ قول بلا سند ہے جس کی سند نہ ہونے کی وجہ سے حجت نہیں ہے۔
۳۔مشہور قول یہ ہے کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ۱۹ دختران تھیں لہذا یہ بات مشہور قول کے خلاف ہے۔
۴۔شیخ مفید کی کتاب الارشاد میں یہ بات واضح ہے کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ۱۹ دختران تھیں اور ہم اسی قول سے اتفاق کرتے ہوئے مذکورہ قول کو جھوٹا اور منگھڑت قرار دیتے ہیں۔
چنانچہ شیخ مفید نے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اولاد کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی ۱۹ دختران کے نام لکھیں ہیں:
۱۔فاطمه كبرىٰ
۲۔فاطمه صغرىٰ
۳۔رقیه
۴۔حكیمه
۵۔ام ابیها
۶۔رقیه صغرىٰ
۷۔كلثوم
۸۔ام جعفر
۹۔لبابه
۱۰۔زینب
۱۱۔خدیجه
۱۲۔علیّه
۱۳آمنه
۱۴۔حسنه
۱۵۔بریهه
۱۶۔عائشه
۱۷۔ام سلمه
۱۸۔میمونه
۱۹۔ام كلثوم
(الارشاد،جلد۲،صفحہ:۲۴۴،شیخ مفید)
ــــــــــــــــــــ
اور حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی انہی دختران میں سے فاطمه كبرىٰ یا فاطمه صغرىٰ بعد میں معصومه کے لقب سے مشہور ہوئیں تو یہ اسی لقب سے مشہور ہیں جن کی زیارت گاہ قم میں واقع ہے۔
اور جہاں تک ان کی شادیوں کا معاملہ ہے تو اس سلسلہ میں اور دوسرے آئمہ اطہار علیہم السلام کی زیادہ تر اولاد کے بارے میں یہ بات معلوم نہ ہو سکی ہے کہ ان کی شادیاں کن سے ہوئیں تھیں کیونکہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اہل سنت کی تاریخ کی کتابوں کے مقابلہ میں ہمارے پاس تاریخ پر لکھی گئی کتابیں کم ہیں اور بعض کتابوں میں اہل سنت کی کتابوں سے بھی روایات کو نقل کیا گیا ہے اور ہماری احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ ناپید ہے تو یہ کچھ علماء کی غفلت کی وجہ سے بھی ہوا تھا اور اسی طرح آئمہ اطہار علیہم السلام کے ہر فرزند کی شادی کے بارے میں معلومات حاصل نہ ہو سکی ہے اور ابھی پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ اہل سنت کی جن چھ کتابوں کو صحاح ستہ کہا جاتا ہے تو ان کا اردو ترجمہ ہو چکا ہے اور ہماری کتب اربعہ میں سے صرف دو کتابوں کا اردو ترجمہ ہوا ہے لیکن کئی سالوں سے استبصار اور تہذیب الاحکام کا اردو ترجمہ نہیں کیا گیا ہے اور حیرت ہے کہ اصول کافی کے اردو ترجمہ میں شیخ کلینی کے متعدد صفحات پر مشتمل مقدمہ کو حذف کر دیا گیا ہے اور من لایحضره الفقیه میں اذان والی حدیث کے ضمن میں شیخ صدوق کے بیان کو بھی حذف کردیا گیا ہے جو کہ نہایت افسوس کی بات ہے جس کی وجوہات اور توضیحات بعد میں پیش کی جائیں گیں۔