🔴 *امام موسی الکاظم (ع) کے قید خانے میں معمولات*
جب امام موسی الکاظم کو ابو منصور سندی بن شاہک ، مولی منصور دوانیقی کے پاس قید میں رکھا گیا اور اس نے اپنی دیندار بہن سے نگرانی کے لئے کہا، تو وہ رضا مند ہوگئی، چنانچہ وہ کہتی ہے کہ قید خانے میں آپ (ع) کا یہ معمول تھا:
جب امام موسی الکاظم (ع) عشاء کی نماز پڑھ لیتے ، تو اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور دعا میں مشغول ہوجاتے ، حتی کہ ساری رات اسی عالم میں گزر جاتی ، پھر رات کے آخری حصے میں کھڑے ہو کر فجر تک نماز پڑھتے رہتے، پھر فجر کی نماز ادا کرتے اور طلوع شمس تک ذکر میں مصروف ہوجاتے ، پھر چاشت کے وقت بیٹھے رہتے ، بعدازاں اٹھ کر مسکواک کرتے اور کچھ تناول فرماتے، پھر زوال سے کچھ پہلے تک آرام کرتے ، اس کے بعد اٹھ کر وضو کرتے اور ظہر سے عصر تک نماز میں مشغول رہتے، عصر سے مغرب کے مابین قبلے کی جانب متوجہ ہو کر ذکر کرتے ، پھر مغرب سے عشاء تک نماز میں مشغول ہو جاتے ، یہ آپ (ع) کا معمول تھا
سندی کی بہن جب کبھی آپ (ع) کو دیکھتی تو کہتی : وہ لوگ برباد ہوں ، جنھوں نے اس نیکوکار بندے کو قید کر رکھا ہے ۔
📚 تهذيب الكمال في أسماء الرجال . ج ٧ . ص ٢٥٦
🖋 سید حسنی الحلبی
🔴 حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام مسجد الحرام میں اعتکاف کی حالت میں بیٹھے تھےاعتکاف میں حتٰی الامکان تین روز تک مسجد سے باہر نہیں نکلنا چاہئے . امام کے ایک صحابی نے آپ کو دیکھا تو آپ علیہ السلام کے قدموں میں آپڑا اور کہنے لگا مولا! قرض خواہ میری جان کو آگیا ہے میرے پاس قرض اتارنے کیلئے کچھ نہیں ہے مجھے اپنی پناہ میں لےلیجئے .
امام علیہ السلام نے فرمایا ابھی تو امداد کرنا میرے لیے ممکن نہ ہوگا سائل نے کہا پس ایسا کریں کہ میری ضمانت لے لیں تاکہ مجھے مہلت مل جائے آپ علیہ السلام نے یہ بات قبول کرلی. ضمانت کیلئے مسجد سے باہر آئے پوچھا گیا آپ تو اعتکاف کی حالت میں تھے .جواب دیا مومن کی حاجت روائی کا ثواب اعتکاف سے زیادہ ہے. اگر کوئی مضطر کسی مسلمان سے اپنی رفع حاجت کیلئے رجوع کرے تو جہاں تک ممکن ہو امداد کرنی چاہئے , یہ ایک واجبی عمل ہے .
حوالہ کتاب: مظالم ص 196 , دستغیب شیرازی
🔴 ◼ شہادت امام موسی کاظم ع 💔
◼ علی بن محمد بن زیاد صمیری نے روایت کیا کہ سندی بن شاہک نے امام موسی کاظم ص کو زہر آلود کھجوریں دیں جن میں سے آپ ص نے دس کھجور کھا لیئے تھے۔ سندی بن شاہک نے کہا اور کھائیں ؟
آپ ص نے فرمایا: بس جتنا تجھکو مجھے کھلانے کی ضرورت تھی میں نے کھا لیں۔ اسکے بعد اس ملعون نے آپ کی شہادت سے قبل قاضیوں اور عادلوں کو بُلا کر انہیں دکھایا اور کہا، لوگ کہتے ہیں کہ ابوالحسن ص بہت سختی اور اذیت میں ہیں۔ اب تم لوگ دیکھ لو یہ بلکل ٹھیک ہیں اور انہیں کوئی مرض نہیں اور نہ ہی ان پر کوئی سختی کی گئی ہے۔
یہ سُن کر امام موسی کاظم ص نے ان لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا: تم لوگ میرے لیئے گواہی دینا کہ مجھے مسلسل تین دن سے زھر دیکر قتل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میں بظاہر صحیح نظر آتا ہوں لیکن مجھے زھر دیا جاچکا ہے۔ جس کے اثر سے آج شام کو میرا جسم بیحد سُرخ ہوجائے گا اور کل بیحد زرد پھر پرسوں بیحد سفید ہوجائے گا اور اسکے بعد میں اللہ کی رضا و رحمت کیطرف سفر کرجاوں گا ( شہید ہوجاوں گا )۔
پھر آپ ص نے جیسا فرمایا ویسا ہی ہوا تیسرے دن آپ ص اللہ کی رحمت و رضوان کیطرف چلے گئیے ( شہادت پائی )۔ آپ ص کی شہادت 183 ھجری میں ہوئی۔ اس وقت آپ ص کا سن چون ( 54 ) سال کا تھا۔ آپ ص نے اپنے بابا امام جعفر الصادق ص کے ساتھ بیس سال گذارے اور انکے بعد تنہا اپنی امامت کے عہد میں چوبیس ( 24 ) سال بسر کیئے۔
📕 عيون المعجزات ( شیخ حسین بن عبد الوہاب 5 ویں صدی ھجری ) صفحه 106۔
بحار الأنوار جلد 48 صفحه 248۔
#تعلیمات_اہلبیتؑ #تعلیمات_اہلبیت #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #امام #واقعہ #Tareekh #ImamMusaKazim #25Rajab #talimaat_e_ahlbait #PlzLikeandFollowthePage #PlzShare #imam Sadia Rubab #SHAREIT #share #ShareThisPost #اللہھم_صل_علی_محمد_آل_محمد_وَعجل_فرجھم