مسیب بن زید کہتا ہے جیسے امام علیہ السلام نے فرمایا تھا ویسے ہی ہوا سندی ملعون نے لوگوں کو بلایا اور کہا دیکھو تمھارے امام زہر سے نہیں بلکہ اپنی موت سے دنیا سے جا رہے ہیں
جب لوگ اکٹھے ہوئے تو امام علیہ السلام نے فرمایا : مجھے زہر دیا گیا ہے،
تو سندی کہتا ہے میں شرمندہ ہوں میں آپ کی تجھیز و تکفین کا انتظام کرتا ہوں
آپ ؑ نے فرمایا: مجھے تمھاری ضرورت نہیں ، تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا ایک جوان آئے اور امام علیہ السلام سے لپٹ کر روتے رہے اور اس کے بعد امام علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوئے جوان نے غسل و کفن دیا اور نماز جنازہ پڑھائی اور غائب ہوگئے ۔
حوالہ جات
عيون اخبارالرضا(ع ) ، ج 1 ، ص 85 .
مرتضی مطهری- سیری در سیره ائمه اطهار- صفحه 168-166
اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمّة، ج۳، ص۴۲
تاریخ بغداد، ج۱۳.
اعیان الشیعة، ج۲.
حضرت موسى كاظم، ص۱۹.
مفید، محمد بن محمد، الارشاد، ج۲، ص۱۷.
#تعلیمات_اہلبیت