🔴 امام موسی کاظم ؑ فی رجال اہلسنہ
یوں تو ہمارے آئمہ ؑ کی سیرت و کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں ھے اور اس سلسلے میں ہمارے فقھاء نے کافی محنت سے ان کے حالات قلمبند کیے ہیں لیکن
حقیر نے کتب رجال اھلسنت کی روشنی میں اپنے مولا و آقا ؑ کی شان کو ان کتابوں سے پیش کرنے کی کوشش کی ھے جو کہ اھلسنت کی معتبر رجالی کتب تصور کی جاتی ہیں
امید ھے کہ آپ اس تحریر سے مستفید ہوں گے
1 سبط ابن جوزی
اپنی کتاب تذکرة الخوائص میں لکھتے ہیں
موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب ؑ و یلقب بالکاظم والمامون والطیب والسید و کنیة ابو الحسن و یدع بالعبد الصالح لعبادة واجتہادہ و قیامہ بالیل
وکان موسی جواداً حلیما وانما سمی کاظم لانہ کان اذا بلغہ عن احمد شئ بعث الیہ بمال
اخبرنا ابو محمد البراز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حذف اسناد حدثنا شفیق البلخی قال خرجت حاجاً فی ستة تسع واربعین و مائة فنزلت القادسیة واذا یشاب حسن الوجہ شدید السمرة علیہ ثوب صوف مشتمل بشملة رجلیہ نعلان و قد جلس منفر دأعن الناس فقلت فی نفسی ھذاالفتی من الصوفیاء یرید ان یکون کلا علی الناس واللہ لا مضین الیہ ولا بختہ قد نوت منہ فلما رأنی مقبلا قال یا شقیق اجتنبو کثیرا من الظن الایة فقلت فی نفسی ھذا عبدالصالح قد نطق علی مافی خاطری ۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی بن جعفر بن محمدبن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب ؑ آپ کے القابات کاظم مامون طیب اور سید ہیں اور کنیت ابو الحسن ؑ ھے آپ کی عبادت اور اس میں مشقت اور رات بھر کھڑے ہو کر عبادت کرنے کی وجہ سے عبد صالح کہا جاتا ھے
آپ سخی اور حلیم الطبع تھے آپ کو کاظم اس لیے کہا جاتا ھے کہ جب کسی کی طرف سے آپ کو کوئ تکلیف پہنچتی تو آپ اس کے پاس مال بھیجتے تھے
ہمیں ابو محمد بزار نے خبر دی حذف اسناد کہ شفیق بلخی نے کہا کہ میں ١٤٩ ہجری میں حج کے لیے گیا جب مقام قادسیہ میں اترا تو اچانک مجھے ایک حسین چہرہ نظر آیا جو بہت گندم گوں تھا اس کے اوپر اونی کپڑے تھے ایک چادر اوڑھی تھی پاؤں میں نعلین تھی وہ لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا تھا میں نے دل میں سوچا یہ نوجوان صوفی بننا چاہتا ھے تاکہ لوگوں پر بار بنا رہے خدا کی قسم میں اس کے پاس جاوں گا اور سرزنش کروں گا پس میں اس کے قریب گیا جب مجھے آتے دیکھا تو کہا ایک شفیق بہت سے گمانوں سے اجتناب کرو پس میں نے اپنے دل میں کہا یہ تو کوئ خدا کا نیک بندہ ھے جس نے میرے دل کا راز بتا دیا ھے
تذکرة الخوائص سبط ابن جوذی
ص ٣٤٨
2 خطیب بغدادی تاریخ بغداد میں لکھتے ہیں
موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب ابو الحسن الھاشمی ؑ
اخبرنا الحسن بن ابی بکر قال اخبرنا الحسن بن محمد بن یحیحی العلوی قال حدثنی جدی قال کان موسی بن جعفر یدعی العبد الصالح من عبادتہ و اجتھادہ
محمد بن یحیی العلوی اپنے اباء سے سے روایت کرتے ہیں کہ موسی بن جعفر ؑ اپنی عبادات و ریاضت میں عبد صالح تھے
تاریخ بغداد ج ١٥ ص ١٤
3امام ابی سعد السمعانی قبر امام موسی الکاظم ؑ کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے
ملاحظہ ہو الانساب سمعانی ج 12 ص 479
4 ماہر رجال شمس الدین ذھبی اپنی کتاب میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں
موسی ابن جعفر بن محمد بن علی بن العلوی المقلب الکاظم عن ابیہ قال ابو حاتم صدوق امام و قال ابوہ ابو حاتم الرازی ثقہ امام قلت روی عنہ بنوہ علی رضا و ابراہیم و اسماعیل و حسین واخواہ علی و محمد انما اوردتہ لان العقیلی ذکرہ فی کتابہ
موسی بن جعفر بن محمد بن علی العلوی ان کا لقب کاظم ھے
انہوں نے اپنے والد امام جعفر صادق ؑ سے روایات نقل کی ہیں
ابن ابو حاتم نے کہا یہ صدوق امام ہیں ان کے والد ابو حاتم الرازی نے کہا یہ ثقہ امام ہیں
ان سے ان کے بیٹے امام علی رضاؑ
اسماعیل و ابراہیم و حسین رحم اللہ عنہ
اور ان کے بھائ علی بن جعفر اور محمد بن جعفر نے روایات نقل کی ہیں
میں نے ان کا تذکرہ اس لیے کیا کہ عقیلی نے بھی ان کا تذکرہ اپنی کتاب میں کیا ھے
المیزان الاعتدال ج ٤ ص ٢٠١
5 جمال الدین ابی حجاج یوسف المزی
اپنی کتاب تہذیب الکمال فی اسماء الرجال میں لکھتے ہیں
موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب ؑ القرشی الھاشمی ابو الحسن المدنی ؑ
قال ابو حاتم ثقہ صدوق امام من ائمة المسلمین
موسی بن جعفر صادق ؑ ثقہ صدوق اور مسلمانوں کے آئمہ میں سے امام ہیں
تہذیب الکمال المزی ج ٢٧ ص ٤٣
موسسة الرسالة
6خطیب بغدادی نے اپنی کتاب الموضوع الاھام الجمع والتفریق میں جناب موسی بن جعفر صادق ؑ کی روایات کا ذکر کیا ھے
ملاحظہ ہو
الجمع والتفریق خطیب بغدادی ج ٢ ص ٤٠٣
7 حافظ ذہبی اپنی کتاب جس میں سنن ابن ماجہ کے رجال پر بحث کی گئ ھے
اس میں لکھتے ہیں
موسی کاظم ھو ابن جعفر الھاشمی فی الکاشف ثقہ امام
تقریب لابن حجر صدوق ثقہ ہیں
جو کہ ہارون الرشید کی قید میں فوت ہوۓ
المجرد فی اسماء رجال سنن ابن ماجہ ص ١٩١ الرقم ١٥٤٨ علامہ ذھبی
8علامہ ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب تقریب التہذیب میں لکھتے ہیں کہ موسی ابن جعفر بن محمد بن علی ساتویں طبقے کہ صدوق اور عابد راوی ہیں جو کہ ١٨٣ ھجری میں فوت ہوۓ
تقریب التہذیب اردو ص ٢١٨
9 شمس الدین ذھبی اپنی کتاب الکاشف جو کہ صحیحین یعنی صحاح ستہ کے راویان پر لکھی گئ ھے اس میں جناب موسی کاظم ؑ کے متعلق ابو حاتم کا قول نقل کرتے ہوۓ لکھتے ہیں وقال ابو حاتم ثقہ
کہ ابو حاتم نے مولا ؑ کو ثقہ صدوق کہا ھے
الکاشف فی معرفة من لہ روایة فی الکتب الستة
ج ٢ ص ٣٠٣ ذھبی
10 صفی الدین خزرجی خلاصة تہذیب الکمال
میں لکھتے ہیں
) مُوسَى بن جَعْفَر بن مُحَمَّد بن عَليّ بن الْحُسَيْن بن عَليّ بن أبي طَالب الْهَاشِمِي أَبُو الْحسن الكاظم الْمدنِي عَن أَبِيه وَعنهُ ابْنه على الرِّضَا وأخواه عَليّ وَمُحَمّد ابْنا جَعْفَر بن مُحَمَّد وَطَائِفَة قَالَ أَبُو حَاتِم ثِقَة
موسی بن جعفر بن محمد بن علی ؑ کو ابو حاتم رازی نے ثقہ قرار دیا ھے
خلاصة الخزرجی ص ٣٩٠
10 ابن خلکان نے اپنی کتاب وفیات الاعیان میں خطیب بغدادی کے قول کو نقل کیا ھے
موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب ابو الحسن الھاشمی ؑ
اخبرنا الحسن بن ابی بکر قال اخبرنا الحسن بن محمد بن یحیحی العلوی قال حدثنی جدی قال کان موسی بن جعفر یدعی العبد الصالح من عبادتہ و اجتھادہ
محمد بن یحیی العلوی اپنے اباء سے سے روایت کرتے ہیں کہ موسی بن جعفر ؑ اپنی عبادات و ریاضت میں عبد صالح تھے
تاریخ بغداد ج ٥ ص ٣٠٨
ابن خلکان
11 ابن حجر عسقلانی
مولا موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین ؑ کا تعارف کرواتے ہوۓ لکھتے ہیں
روی عن ابیہ و عبداللہ بن دینار و عبدالملک بن قدامہ الجمعی
کہ آپ نے اہنے بابا امام جعفر صادق ؑ عبداللہ بن دینار سے روایت کی ھے
روی عنہ اخوہ محمد وعلی آپ سے آپ بھائ علی بن جعفر ؒاور محمد بن جعفر ؒ نے روایت کی ھے جبکہ آپ کی اولاد سے ابراہیم اسماعیل علی رضا ؑ حسین بن موسی ؒ نے اور صالح بن یزید اور محمد بن صدقہ العنبری نے روایت کی ھے
قال ابو حاتم ثقہ صدوق امام من ائمة المسلمین قال یحیی بن الحسن بن جعفر النسابة قال موسی بن جعفر یدعی العبد الصالح من عبادة و اجتہادہ
امام حاتم نے ان کو ثقہ صدوق مسلمین کے آئمہ میں سے امام قرار دیا ھے یحیحی بن حسن نے آپ کو اپنی عبادات و ریاضات کی وجہ سے عبد صالح لکھا ھے
تہذیب التہذیب ج١٠ ص ٣٤٠
ابن حجر عسقلانی
تحریر و تحقیق سید ساجد بخاری
🔴 امام موسی کاظم علیہ السلام کے فضائل و کمالات
علماء اھل سنت کی نظر میں۔
۔۔۔۔25رجب شھادت کے دن بھت شاندار تحریر
تعارف و نسب
آپ کا نام موسی اور ان کا لقب کاظم ہے ۔ ان امام کی والدہ گرامی ایک با فضیلت و کرامت بی بی ہیں کہ جن کا نام حمیدہ ہے، اور امام کے والد بزرگوار سلسلہ امامت اھل بیت کے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام ہیں، امام موسی کاظم علیہ السلام ابواء کے مقام، کہ جو مدینہ کے قریب ایک گاؤں ہے، پر اس دنیا میں تشریف لائے
امام علیہ السلام نے اپنی امامت کا کچھ زمانہ مدینہ میں گزارا تو باقی زمانے میں وہ بغداد میں تھے۔
امام کی زندگی میں سماجی اور دینی پہلو کے علاوہ خداوند کی عبادت اور اس کی بندگی شروع سے آخر تک نمایاں ہے۔
دوران زندگی:
امامت سے پہلے کا دور جو 128 ہجری سے 148 آپ اپنے والد بزرگوار امام جعفر صادق کے ساتھ گزارے، اور امامت کے بعد کا دور 148 ہجری سے 183 تک ہے، جو منصور دوانیقی ،مہدی عباسی ، ہادی عباسی ، اور ہارون رشید پر مشتمل ہے ، سب سے زیادہ آپ کی امامت کا دور عصر ہارون میں تھا جس کی مدت 23 سال تھی اور ہارون عباسی دور کا پانچواں خلیفہ تھا، اس کے دور میں حضرت زیادہ تر قید خانہ میں رہے۔
سن 183 ہجری قمری میں دوران قید زھر سے شہید کردیے گئے
اہل سنت کے بزرگ عالم دین ابن طلحہ تحریر کرتے ہیں کہ:
هو الامام ، الكبير القدر العظيم الشأن ، الكثير التهجّد ، الجادّة في الإجتهاد، المشهود له بالكرامات ، المشهور بالعبادة ، المواظب علي الطاعات ، يبيّت الليل ساجدا و قائما و يقطع النهار متصدقاً و صائماً ولفرط علمه و تجاوزه عن المعتدين عليه دُعي كاظما ، كان يجازي المسيء بإحسانه إليه ، ويقابل الجاني عليه بعفوه عنه ، و لكثرة عباداته كان يسمي بالعبد الصالح ، ويُعرف بالعراق بباب الحوائج إلي الله ، لنجح المتوسلين إلي الله تعالي به ، كراماته تحار منها العقول۔
ترجمہ۔۔۔۔۔
وہ ایک عظیم القدر اور عظیم الشان امام تھے، بہت زیادہ تہجد گذار اور محنت و کوشش کرنے والے تھے ، جن کی کرامات ظاہر تھیں اور جو عبادت میں مشہور اور اطاعت الٰہی پر پابندی سے گامزن رہنے والے تھے، راتوں کو رکوع و سجود میں گزارتے تھے اور دن میں روزہ رکھتے اور خیرات فرمایا کرتے تھے، اور بہت زیادہ حلم و بخشش اور اپنی شان میں گستاخی کرنے والوں کی بخشش کی وجہ سے آپ کو کاظم کے نام سے پکارا جاتا تھا، اور جو شخص آپ کی شان میں گستاخی کرتا تھا آپ اس کا جواب نیکی اور احسان کے ذریعہ دیتے تھے، اپنے اوپر ظلم و ستم کرنے والوں کو بخش دیا کرتے تھے، اور بہت زیادہ عبادت کی وجہ سے آپ کا نام عبد صالح پڑ گیا، اور آپ عراق میں باب الحوائج الی اللہ کے نام سے مشہور ہوئے، کیونکہ ان کے وسیلہ سے خداوند سے متوسل ہوا جاتا ہے جس کا نتیجہ بھی برآمد ہوتا ہے۔ اور آپ کی کرامات عقلوں کو حیران کر دیتی ہیں.....،
حوالہ۔۔۔۔
کشف الغمه :ج2،ص212۔۔۔۔
اسی طرح آپ کی شان میں اہل سنت کے بہت بڑے عالم ابن حجر لکھتے ہیں کہ:
و كان معروفاً عند أهل العراق بباب قضاء الحوائج عند الله و كان أعبد أهل زمانه و أعلمهم و أسخاهم،
آپ عراقیوں کے درمیان خدا کی طرف سے باب اللہ کے نام سے مشہور تھے اور اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عبادت گزار، سب سے بڑے عالم اور سب سے زیادہ سخی انسان تھے۔
حوالہ۔۔۔
الصواعق المحرقه :ص203
امام موسی کاظم علیہ السلام : اپنے زمانے کے لوگوں میں بہت بڑے عابد شمار ہوتے تھے۔
حوالہ ۔۔۔
إبن حجر الهیتمی، الصواعق المحرقة، ج2، ص590-593، تحقیق: عبد الرحمن بن عبد الله الترکی و کامل محمد الخراط ، مؤسسة الرسالة - بیروت ، 1997م.
اسی طرح ان کی عبادت اور ان کی محنت کی وجہ سے ان کو، عبد صالح کہا جاتا تھا۔
حوالہ۔۔۔۔۔
عبد الرحمن بن علی بن محمد أبو الفرج، صفة الصفوة، تحقیق: محمود فاخوری - د.محمد رواس قلعه جی، دار المعرفة – بیروت، 1399ق - 1979م.
ذہبی نے لکھا ہے کہ: قد کان موسی من أجواد الحکماء و من العباد الأتقیاء،
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سخاوت مند حکماء اور خدا کے پرہیزگار بندوں میں سے تھے۔
حوالہ۔۔۔۔۔۔
ذہبی، میزان الاعتدال ، ج 4 ، ص 204، بیروت ، دار المعرفة،
تاریخ یعقوبی میں آیا ہے کہ:
کان موسی بن جعفر من اشدّ الناس عبادة،
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے زمانے کے عابد ترین شخص تھے۔
حوالہ۔۔۔۔
احمد بن ابی یعقوب، تاریخ الیعقوبی ، ج2 ، ص414 ،
جمال الدین محمد بن طلحہ شافعی نے اپنی کتاب میں اس طرح لکھا ہے کہ:
ان کی عبادت مشہور اور خدا کی اطاعت و عبادت میں محتاط اور ملازم تھے، شب کو سجدے میں اور صبح کو قیام کی صورت میں گزارتے تھے، اپنے دن کو صدقہ دے کر اور روزے سے تمام کیا کرتے تھے۔۔۔۔
التماس دعا ریاض قادری
🔴 علامہ یوسف بغدادی سبط ابن جوزی حنفی تحریر فرماتے ہیں کہ: ایک دن ہارون الرشید نے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے کہا کہ آپ فدک لینا چاہیں تو میں دیدوں ، آپ نے فرمایا کہ میں جب اس کے حدود بتاؤں گا تو، تو اسے دینے پر راضی نہ ہو گا اور میں اسی وقت لے سکتا ہوں جب اس کے پورے حدود دئیے جائیں، اس نے پوچھا اس کے حدود کیا ہیں فرمایا پہلی حد، عدن ہے دوسری سمرقند ہے، تیسری حد افریقہ ہے، چوتھی حد سیف البحر ہے، جو خزر اور آرمینیہ کے قریب ہے۔ یہ سن کر ہارون رشید آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ پھر ہمارے لیے کیا باقی رہا ؟ حضرت نے فرمایا کہ اسی لیے تو میں نے لینے سے انکار کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ہی سے ہارون رشید نے حضرت کے قتل کی منصوبہ بندی کر لی تھی۔
خواص الامة، سبط ابن جوزی س 416
ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ: ہارون رشید نے آپ کو بغداد میں قید کر دیا ” فلم یخرج من حبسه الا میتا مقیدا“ اور تاحیات قید رکھا، آپ (ع) کی شہادت کے بعد آپ کے ہاتھوں اور پیروں سے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کاٹی گئیں۔ آپ کی شہادت ہارون رشید کے زہر سے ہوئی جو اس نے سندی ابن شاہک کے ذریعہ دلوایا تھا۔
صواعق محرقہ،ص 132...
عالم ابن حجر لکھتے ہیں کہ:
و كان معروفاً عند أهل العراق بباب قضاء الحوائج عند الله و كان أعبد أهل زمانه و أعلمهم و أسخاهم،
آپ عراقیوں کے درمیان خدا کی طرف سے باب اللہ کے نام سے مشہور تھے اور اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عبادت گزار، سب سے بڑے عالم اور سب سے زیادہ سخی انسان تھے۔
الصواعق المحرقه :ص203....
ذہبی نے لکھا ہے کہ: قد کان موسی من أجواد الحکماء و من العباد الأتقیاء،
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سخاوت مند حکماء اور خدا کے پرہیزگار بندوں میں سے تھے۔
ذہبی، میزان الاعتدال ، ج 4 ، ص 204، بیروت ، دار المعرفة،
شیخ مفید اپنی کتاب الارشاد میں لکھتے ہیں کہ:
امام موسی کاظم علیہ السلام خوف خدا سے اس قدر روتے تھے کہ آپ کی داڑھی آنسؤوں سے تر ہو جاتی تھی اور سب سے زیادہ صلہ رحمی اور قرابتداروں سے میل ملاقات کو اہمیت دیتے اور اس کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ راتوں کو مدینہ منورہ کے بے نواؤں کی ضروریات پوری کرتے اور ان کی دلجوئی کرتے تھے اور ان کے لیے نقد رقم اور آٹے اور کھجوروں کے تھیلے لے جایا کرتے تھے اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ عطیات کس بزرگ کی طرف سے ان کے لیے ارسال کیے جا رہے ہیں۔
کتاب الارشاد ص 575