🔴 امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا زہد و تقویٰ
شیخ مفید رح فرماتے ہیں کہ ابو الحسن ع اپنے اہل زمانہ کے لحاظ سے سب سے بڑے عابد ، فقیہہ ، سخی اور کریم النفس تھے
روایت ہے کہ آپ ع نماز تہجد پڑھتے تو اسے نماز فجر سے ملا دیا کرتے تھے ، پھر تعقیبات میں مصروف رہتے ، یہاں تک کہ سورج نکل آتا
اللہ کےلیے سجدہ میں جھک جاتے ، اپنا سر دعا اور حمد و ثناء کرتے وقت نہیں اٹھاتے تھے ، یہاں تک کہ زوال شمس کا وقت ہوجاتا
آپ ع اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے
" الھم انی اسلک الراحة عند الموت العفو عند الحساب "
" خدایا ! میں موت کے وقت راحت و آرام کا اور حساب کے وقت مہربانی کا سوال کرتا ہوں"۔
اس دعا کو بار بار پڑھتے تھے
آپ ع کی ایک دعا تھی
" عظم الذنب من عبدک فلیحسن العفو من عندک "
" تیرے بندے سے عظیم گناہ ہوئے ہیں ، پس تیری طرف سے اچھی عفو و مہربانی ہو ".
آپ ع خوف خدا سے اتنا گریہ تھے کہ آپ ع کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہوجاتی
آپ ع اپنے اہل خاندان اور رشتہ داروں میں سے سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے تھے
رات کے وقت مدینہ کے فقراء کی دیکھ بھال کرتے ، ان کےلیے زنبیل لےجاتے جس میں سونا چاندی ( درہم و دینار) آٹا اور کھجوریں ہوتیں ، یہ چیزیں انہیں پہنچاتے لیکن انہیں یہ پتہ نا چلتا تھا کہ یہ چیزیں کہاں سے آئی ہیں
الارشاد ، ص ۲۳۱ ، ۲۳۲
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے طولانی سجدے
حدثنا أبو بكر محمد بن علي بن محمد بن حاتم قال: حدثنا عبد الله بن بحر الشيباني قال: حدثني الخرزي أبو العباس بالكوفة قال: حدثنا الثوباني قال: كانت لأبي الحسن موسى بن جعفر عليهما السلام بضع عشره سنه كل يوم سجده انقضاض الشمس إلى وقت الزوال
ثوبانی بیان کرتے ہیں: میں دس برس سے کچھ زیادہ عرصے تک دیکھتا رہا کہ سورج طلوع ہونے کے بعد امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سر سجدہ میں رکھتے اور زوال آفتاب تک آپ سجدہ میں رہتے
ہارون نے کئی بار اپنے محل کی چھت سے قیدخانے میں جھانک کر یہ منظر دیکھا تو اپنے دربان ربیع سے کہا : قیدخانے میں ایک مخصوص مقام پر مجھے روزانہ ایک کپڑا پڑا ہوا نظر آتا ہے ، یہ کپڑا کیسا ہے ؟
ربیع نے کہا : یہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہیں جو طلوع آفتاب کے بعد سجدہ کرتے ہیں اور زوال آفتاب تک سر سجدہ سے نہیں اٹھاتے
ہارون نے کہا : " بےشک موسیٰ بن جعفر بنو ہاشم کے راہبوں میں سے ہیں "
دربان نے کہا پھر آپ نے انہیں قید کیوں کیا ہوا ہے ؟
ہارون نے کہا : " ایسا کرنا ضروری ہے "
عیون الاخبار الرضا ، ج ۱ ، ص ۱۲۲ ، باب ۷ ،
🖋 سید علی حیدر شیرازی
🔴 ﺍﻣﺎﻡ ﻣﻮﺳﯽ ﮐﺎﻇﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﻦ ﺳﻠﻮﮎ
ﻋﻼﻣﮧ ﻋﻠﯽ ﻧﻘﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡﻣﻮﺳﯽ ﮐﺎﻇﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺗﺤﻤﻞ ﻭﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﺍﻭﺭﻏﺼﮧﺿﺒﻂ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻔﺖ ﺍﺗﻨﯽ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎﻟﻘﺐ ﮐﺎﻇﻢ ﻗﺮﺍﺭﺩﯾﺎﮔﯿﺎﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﯿﮟ ﻏﺼﮧ ﮐﻮﭘﯿﻨﮯ ﻭﺍﻻ ،
ﺁﭖ ﮐﻮﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺗﺮﺵ ﺭﻭﺋﯽ ﺍﻭﺭﺳﺨﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻈﺮﺁﺋﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﮐﻢ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮﺳﺨﺖ ﺗﮑﻠﯿﻔﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﻣﯿﺮﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﺯﯾﺒﺎﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎﮐﺮﺗﺎﺗﮭﺎ ، ﻣﮕﺮﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺎ۔
ﺟﺐ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺴﺘﺎﺧﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭﮐﮩﺎﮐﮧ ﺍﺏ ﮨﻤﯿﮟ ﺿﺒﻂ ﮐﯽ ﺗﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ، ﺗﻮﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﺪﺍﺭﮎ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺩ ﺍﺱﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺭﺍﻋﺖ ﭘﺮﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭﺣﺴﻦ ﺳﻠﻮﮎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺴﺘﺎﺧﯿﻮﮞ ﭘﺮﻧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺍ ، ﺍﻭﺭﺍﭘﻨﮯ ﻃﺮﺯﻋﻤﻞ ﮐﻮﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ
ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺳﮯ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎﮐﮧ ﺟﻮﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﭼﮭﺎﺗﮭﺎ ﯾﺎ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺳﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﯾﻘﯿﻨﺎ ﺣﻀﻮﺭﻧﮯ ﺟﻮﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻭﮨﯽ ﺑﮩﺘﺮﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺪﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﻮﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﻻ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﻼﯾﺎﺟﻮﺁﺝ ﺗﮏ ” ﻧﮩﺞ ﺍﻟﺒﻼﻏﮧ “ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﭘﺮﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﺘﺢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻭﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻭﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﻓﺘﺢ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺮﻟﻄﻒ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﮨﮯ ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻓﺮﯾﻖ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮐﮯ ﻇﺮﻑ ﮐﺎﺻﺤﯿﺢ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎﮨﮯ ﮐﮧ ” ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ! ﯾﮧ ﻋﺪﻡ ﺗﺸﺪﺩ ﮐﺎﻃﺮﯾﻘﮧ ﻧﺎﺍﮨﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﺸﺪﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﯾﻘﯿﻨﺎﺍﯾﺴﮯ ﻋﺪﻡ ﺗﺸﺪﺩﮐﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﮐﻮﭘﮩﻨﭽﺎﻧﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺑﺎﻟﻎ ﻧﮕﺎﮦ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﯽ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﻮﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﯽ ، ﻣﮕﺮﯾﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎﻋﻤﻞ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﺟﻮﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﺘﻘﺎﻣﯽ ﺗﺸﺪﺩ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺯ ﭘﯿﺪﺍﮐﺮﺳﮑﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎﻧﮧ ﮨﻮﺍﮨﻮ ﺗﻮﯾﮧ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﺮﻧﺎﭘﺴﻨﺪﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺣﺠﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﻮﺍﻭﺭﺍﺳﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺟﺎﺭﺣﺎﻧﮧ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﻼﺵ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺬﺭﻧﮧ ﻣﻞﺳﮑﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺑﻦ ﻣﻠﺠﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﻣﯿﺮﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮﺷﮩﯿﺪﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻﺗﮭﺎ ﺁﺧﺮ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﻣﯿﺮﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺤﻤﺪﺑﻦ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﻮﺳﯽ ﮐﺎﻇﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﮨﻮﺍ ، ﺁﭖ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﻔﺮﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻮﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺑﻨﯽ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﻮﺳﯽ ﮐﺎﻇﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﺎﺭﺳﻮﺩﯾﻨﺎﺭﺍﻭﺭﭘﻨﺪﺭﮦ ﺳﻮﺩﺭﮨﻢ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺧﻮﺩ ﺣﻀﺮﺕ ﮨﯽ ﻧﮯ ﻋﻄﺎﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺍﺗﮭﺎ۔
🔴 *امام موسی کاظم (ع) کا رہن سہن*
قسط 1⃣
ایک بات یاد رکھیں کہ علی (ع) (چونکہ وہ خلیفہ تھے اور بقول ان کے حاکم کو رعیہ کے غریب ترین فرد کی مانند جینا چاہیئے) کے علاوہ تمام آئمہ (ع) اچھا کھاتے تھے، اچھا پہنتے تھے، اور زمانے کی اچھی سواری سے استفادہ کرتے تھے. البتہ اس سے مراد فضول زرق و برق نہیں ہے. اس کی دوسری وجہ معاشرے کا معیار زندگی کا ترقی کرنا ہے علی (ع) کے دور میں معاشرے کا رہن سہن و معیار زندگی کچھ اور تھا اور باقی آئمہ (ع) کا کچھ اور. لہٰذا یہ بھی ایک سبب تھا کہ آئمہ (ع) کا رہن سہن الگ نظر آتا ہے.
☑ *امام موسی کاظم (ع) کا لباس*
امام (ع) کے لباس کے حوالے سے شارح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید نے جو بات بیان کی وہ یہ ہے کہ آپ (ع) اور امام رضا (ع) صوفیاء کی طرح اونی لباس پہنتے تھے جو کہ بہت ہی سادہ ہوتا تھا. (۱)
ابی الحدید کا دعوا تھا کہ امام کاظم (ع) مالی لحاظ سے مستحکم تھے مگر فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے. مگر ابی الحدید کا یہ دعوا دیگر کثیر روایات سے متضاد ہے کہ جن میں آپ (ع) اچھا لباس پہنے ہوئے پیش کیئے گئے ہیں. مثال:
يونس کہتا ہے: ابوالحسن(علیه السلام) کو میں نے نیلے رنگ کا طيلسان (کملی یا گون جو آج بھی جج اور یونیورسٹی کے گریجویٹ پہنتے ہیں) میں زیب تن دیکھا. (۲)
سليمان بن رشيد اپنے والد سے نقل کرتا ہے كہ میں نے ابوالحسن(علیه السلام) کو دیکھا کہ انہوں نے سیاہ رنگ دراعہ(جبہ جس کا اگلا حصہ کھلا ہو) اور نیلے رنگ کا طیلسان پہن رکھا تھا.(۳)
محمدبن علی روایات کرتے ہیں: ابوالحسن(علیه السلام) کو میں نے دیکھا کہ انہوں نے سر پہ قلنسوه (دراز ٹوپی جو بنی امیہ اور عباسی دور میں رائج تھی) پہنی ہوئی تھی اور ایک کوٹ پہنے ہوئے تھے.(۴)
☑ *امام موسی کاظم (ع) کی سواری*
امام (ع) کی سواری کے متعلق ملتا ہے کہ آپ مختلف جانور سواری کیلئے استعمال کرتے تھے مگر کثرت سے خچر کا ذکر ملتا ہے کیونکہ خچر اس دور کی متوسط سواری سمجھی جاتی تھی.
جب ھارون رشید حج سے واپس آیا تو مدینہ کی مشہور شخصیات اس کے استقبال کیلئے گئیں، امام (ع) بھی ان کے ساتھ تھے اور خچر پہ سوار تھے. ربیع نے امام (ع) کے پاس جا کر کہا: یہ کیسی سواری ہے کہ جس پہ سوار ہو کر خلیفہ وقت کے استقبال کو آیا جائے؟ (اس کے کہنے کا مطلب تھا کہ استقبال کیلئے کسی مہنگی و مجلل سواری پر آتے) امام (ع) نے فرمایا: خچر ایسی سواری ہے جس کا سوار نہ تکبر محسوس کرتا ہے نہ فقیری و ذلت، بلکہ یہ دونوں کے درمیان بہترین اعتدال ہے. (۵)
حمّاد بن عثمان کہتے ہیں: میں نے امام كاظم(علیه السلام) کو دیکھا کہ وہ مرو سے واپس آ رہے تھے اور خچر پہ سوار تھے (۶)
☑ *امام موسی کاظم (ع) کا مکان*
امام (ع) کے مکان کے متعلق کچھ زیادہ روایات نہیں ملتی، ایک دو روایات پیش خدمت ہیں.
حسن بن زیارت نقل کرتا ہے کہ میں امام موسی کاظم (ع) کے گھر گیا تو آپ ایک ایسے کمرے میں تھے جو پردے اور قالین سے آراستہ تھا لیکن جب دوسرے دن گیا تو انہیں ایسے کمرے میں پایا کہ جس میں ریت اور سنگریزوں کے سوا کچھ نہ تھا. مجھے حیرت ہوئی تو آپ (ع) نے فرمایا:کل جو کمرہ تم نے دیکھا وہ میری بیوی کا کمرہ تھا
(۷)
محمّد بن عيسی ابراهيم بن عبدالحميد سے نقل کرتے ہیں کہ میں امام كاظم(علیه السلام) کے ہاں گیا تو جس کمرے میں آپ (ع) نماز پڑھتے تھے، اس میں کھجور سے بنی ایک ٹوکری، قرآن اور تلوار جو دیوار پہ لٹک رہی تھی، کے علاوہ کچھ نہیں تھا.(۸)
معمّر بن خداد کہتا ہے: امام كاظم(علیه السلام) نے ایک مکان خریدا اور اپنے غلام کو حکم دیا کہ اس میں رہے اور فرمایا: تمہارا مکان چھوٹا اور تنگ تھا. غلام نے کہا: وہ میرے والد کا گھر تھا اس لیئے میں اسی مکان میں رہ رہا تھا. امام (ع) نے فرمایا: اگر تمہارا والد بیوقوف تھا تو لازم نہیں تم بھی اس کی طرح ہو. (۹)
ثابت ہوا کہ امام (ع) رہائش کیلئے چھوٹا مکان پسند نہیں فرماتے تھے.
حــــوالــــــــہ جـــــات:
۱- ابن ابي الحديد، شرح نہج البلاغہ، قم، كتابخانہ آية اللّه مرعشي نجفي، 1404ق، ج 15، ص273
۲-محمّد مناظر احسن، زندگي اجتماعي در حكومت عبّاسيان، ترجمه مسعود رجب نيا، تهران، علمي ـ فرهنگي، 1369، ص61
۳-عزيزاللّه عطاردي، مسند الامام الكاظم(ع)، مشهد، كنگره جهاني امام رضا(ع)، 1409ق، 3، ص49
۴- محمّد مناظر احسن، زندگي اجتماعي در حكومت عبّاسيان، ترجمه مسعود رجب نيا، تهران، علمي ـ فرهنگي، 1369، ص61.
۵- شيخ مفيد، الارشاد، قم، آل البيت، 1416ق، ج ۲ ص ۲۳۴
۶- محمدبن يعقوب كليني، فروع کافی، ج 8، ص86
۷- عزيزاللّه عطاردي، ایضا، ج 3، ص28.
۸- محمدباقر مجلسي، بحارالانوار، ج 48، ص100
۹- محمدبن يعقوب كليني، ایضا، ج 6، ص525