Back to امام موسیٰ کاظم ع

امام موسیٰ کاظم ع کی امامت پر نصوص

امام موسیٰ کاظم ع کی امامت پر نصوص
امام موسیٰ کاظم ع کی امامت پر نصوص
امام موسیٰ کاظم ع کی امامت پر نصوص
امام موسیٰ کاظم ع کی امامت پر نصوص

 

آپ علیہ السلام کی امامت پر نصوص

 

• أحمد بن مهران، عن محمد بن علي، عن عبد الله القلا، عن الفيض بن المختار قال: قلت لأبي عبد الله عليه السلام خذ بيدي من النار من لنا بعدك؟ فدخل عليه أبو إبراهيم عليه السلام - وهو يومئذ غلام - فقال: هذا صاحبكم، فتمسك به.

 

راوی کہتا ہے میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کہا۔ دوزخ سے بچانے میں میری مدد کیجئے ، یہ فرمائیے کہ آپ کے بعد امام کون ہے اسی وقت موسی کاظم علیہ السلام آئے ، وہ اس وقت کم سن تھے ( امام جعفر صادق ع نے فرمایا) یہ ہے تمہارا امام ، اس کی پیردی کرو

 

• عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن علي بن الحكم، عن أبي أيوب الخزاز، عن ثبيت عن معاذ بن كثير، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قلت له: أسأل الله الذي رزق أباك منك هذه المنزلة أن يرزقك من عقبك قبل الممات مثلها، فقال:

قد فعل الله ذلك قال: قلت: من هو - جعلت فداك -؟ فأشار إلى العبد الصالح 

وهو راقد فقال: هذا الراقد وهو غلام.

 

راوی کہتا ہے میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کہا میں سوال کرتا ہوں اس خدا سے جس نے آپ کےآباء طاہرین کو آپ جیسی صفات عطا فرمائی کہ وہ رسول خدا کے بعد بھی آپ ہی جیسے کو ( امام ) معین کرے 

فرمایا : " خدا نے ایسا کیا ہے "

میں نے پوچھا وہ کون ہے آپ نے اشارہ کیا ۔عبد صالح ( امام موسی کاظم ع ) کی طرف وہ اس وقت سورہے تھے اور وہ اس وقت کم سن تھے ۔

 

• أحمد بن مهران، عن محمد بن علي، عن موسى الصيقل، عن المفضل بن عمر قال: كنت عند أبي عبد الله عليه السلام فدخل أبو إبراهيم عليه السلام وهو غلام، فقال: استوص به، وضع أمره عند من تثق به من أصحابك 

 

مفصل بن عمر سے مروی ہے کہ میں امام جعفرصادق علیہ اسلام کے پاس تھا کہ امام موسی کاظم علیہ السلام در حالانکہ 

وہ صغیرسن تھے ، تشریف لاۓ ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا میں ان کے لئے وصیت کرتا ہوں میں تم ان کی امامت کا ذکر کر وہ اپنے معتمد اصحاب کے سامنے ۔

 

• أحمد بن مهران، عن محمد بن علي، عن يعقوب بن جعفر الجعفري قال: حدثني إسحاق بن جعفر قال: كنت عند أبي يوما، فسأله علي بن عمر بن علي فقال:

 

جعلت فداك إلى من نفزع ويفزع الناس بعدك؟ فقال: إلى صاحب الثوبين الأصفرين والغديرين - يعني الذؤابتين 

- وهو الطالع عليك من هذا الباب، يفتح البابين بيده جميعا، فما لبثنا أن طلعت علينا كفان آخذة بالبابين ففتحهما ثم دخل علينا أبو إبراهيم.

 

اسحاق بن جعفر نے بیان کیا کہ میں اپنے والد کے پاس ایک دن تھا پس ان سے علی بن عمر نے پوچھا آپ کے بعد ہم اور دوسرے لوگ کس طرف رجوع کریں فرما دو زرد لباس اور گیسوؤں والے کی طرف اور وہ بھی اس دروازے سے آنے والاہے اور دروازہ کے دونوں کواڑ وہ اپنے ہاتھ سے کھولے گا۔

 تھوڑی دیر بعد دو ہاتھ نمودار ہوئے اور دروازہ کھلا اوراس سے موسی کاظم ع برآمد ہوئے ۔

 

• علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي نجران، عن صفوان الجمال، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال له منصور بن حازم: بأبي أنت وأمي إن الأنفس يغدا عليها ويراح، فإذا كان ذلك فمن؟ فقال أبو عبد الله عليه السلام: إذا كان ذلك فهو صاحبكم وضرب بيده على منكب أبي الحسن عليه السلام الأيمن - في ما أعلم - وهو يومئذ خماسي وعبد الله بن جعفر جالس معنا.

 

منصور ابن حازم نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، دن اور رات گزرتے جارہے ہیں ہیں جب آپ دنیا میں نہ ہوں تو ہمارا امام کون ہے؟

 

فرمایا یہ تمہارا امام ہے اور اپنا ہاتھ امام

موسی کاظم علیہ اسلام کے داہنے کندھے پر رکھا اور وہ اس وقت پانچ سال کے تھے اور عبداللدین جعفر ہمارے پاس تھے ۔

 

الکافی ج ۱ ، کتاب الحجت ، باب نصوص موسیٰ ابن جعفر ع ص ۱۸،۶ ،۱۸۷

 

🖋 سید علی حیدر شیرازی

 

۔

۔

۔

 

🔻 امامی منابع میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی 

 

امامت کے معتبر اسناد کے ساتھ کئی گزارشات موجود ہیں۔

خاص طور پر کتاب شریف کافی میں جناب کلینی نے ایسی احادیث نقل کی ہیں جن کی تمام اسناد رجال کے اعتبار سے معتبر اور قابل قبول ہیں۔ یہاں ہم ایک روایت پیش کر رہے ہیں جس کی سند بھی مکمل صحیح ہے:

 

✍ روایت نمبر 12:

أحمد بن إدريس عن محمد بن عبد الجبار عن صفوان عن ابن مسکان عن سليمان بن خالد قال:

دعا أبو عبد الله (علیہ السلام) أبا الحسن (علیہ السلام) یومًا و نحن عنده فقال لنا: عليكم بهذا فهو و الله صاحبکم بعدي

 

🔸 ترجمہ:

سلیمان بن خالد کہتے ہیں:

ایک دن امام جعفر صادق علیہ السلام نے اباالحسن علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا اور ہم بھی وہاں موجود تھے۔

انہوں نے ہم سے فرمایا: "اس صاحب کے ساتھ رہیں، کیونکہ وہ، اللہ کی قسم، میرے بعد آپ کا امام ہے۔"

 

📗📔 ماخذ:

اصول الکافی، کتاب الحجة، باب الإشارة والنص على أبي الحسن موسی علیه السلام، حدیث نمبر 12

 

▪️ روات کی سند کا جائزہ:

 

1⃣ أحمد بن إدريس

 

نجاشی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

بن أحمد أبو علي الأشعري القمي كان ثقة، فقيها، في أصحابنا، كثير الحديث، صحيح الرواية

ترجمہ: احمد بن ادریس اشعری قمی ہمارے اصحاب میں سے ایک معتبر، فقیہ اور درست روایت رکھنے والا تھا۔

 

📚 رجال النجاشی، جلد 1، صفحہ 92

 

2⃣ محمد بن عبد الجبار

 

شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

محمد بن عبد الجبار … ثقة

ترجمہ: محمد بن عبد الجبار ایک معتبر اور قابل اعتماد شخص تھے۔

 

📚 رجال الطوسی، جلد 1، صفحہ 391

 

3⃣ صفوان بن یحیی البجلی

 

نجاشی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

صفوان بن یحیی البجلی … ثقة ثقة عین

ترجمہ: صفوان بن یحیی البجلی انتہائی معتبر اور بزرگ شخصیت تھے۔

 

📚 رجال النجاشی، جلد 1، صفحہ 197

 

4⃣ ابن مسکان (عبد اللہ بن مسکان)

 

نجاشی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

عبد اللہ بن مسکان … ثقة عین

ترجمہ: عبد اللہ بن مسکان معتبر اور قابل اعتماد شخصیت تھے۔

 

📚 رجال النجاشی، جلد 1، صفحہ 214

 

5⃣ سلیمان بن خالد بن دہقان

 

نجاشی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

سلیمان بن خالد … كان فقیها و وجها

ترجمہ: سلیمان بن خالد فقیہ اور معتبر شخصیت تھے۔

 

📚 رجال النجاشی، جلد 1، صفحہ 183

 

نتیجہ:

یہ روایت اہل تشیع اور اہل سنت کے معتبر راویوں کے ذریعہ صحیح سند کے ساتھ روایت کی گئی ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی امامت باوثوق اور معترفہ ہے

 

۔

 

۔

 

📜 عن الفيض بن المختار، قال: قلت لأبي عبد الله (الصادق ع): خذ بيدي من النار، من لنا بعدك؟ فدخل عليه أبو إبراهيم (يعني الكاظم عليه السلام)، وهو يومئذ غلام، فقال: هذا صاحبكم فتمسكوا به.

 

فیض بن مختار روایت کرتے ہیں:

📃 میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: "مجھے آگ (جہنم) سے بچا لیجیے، ہمارے لیے آپ کے بعد کون ہوگا؟"

اسی دوران امام موسیٰ کاظم علیہ السلام، جو اس وقت ایک کم عمر لڑکے تھے، اندر تشریف لائے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

"یہ تمہارے میرے بعد کے امام ہیں، ان سے وابستہ رہو۔"

 

1. الکافی، جلد 1، صفحہ 307

2. الإرشاد، جلد 2، صفحہ 217

3. روضة الواعظين، جلد 1، صفحہ 213

4. إعلام الورى، صفحہ 297

5. كشف الغمة، جلد 2، صفحہ 220

6. الصراط المستقيم، جلد 2، صفحہ 163

7. الوافي، جلد 2، صفحہ 350

8. إثبات الهداة، جلد 4، صفحہ 216

9. حلية الأبرار، جلد 4، صفحہ 321

10. بهجة النظر، صفحہ 81

11. بحار الأنوار، جلد 48، صفحہ 18

12. العوالم، جلد 21، صفحہ 36

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#talimaat_e_ahlbait

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4