شہادتِ امام موسی الکاظم ع
[٥/١٣٥٣] العيون و ألامالي: أبي عن سعد عن اليقطيني عن الحسن بن محمد بن بشار قال: حدثني شيخ من أهل قطيعة الربيع من العامة ممن كان يقبل قوله قال: قال لي: قد رأيت بعض من يقرون بفضله من أهل هذا البيت فما رأيت مثله قط في نسكه و فضله قال: قلت : من؟ وكيف رأيته؟ قال: جمعنا أيام السندي بن شاهك ثمانين رجلا من الوجوه ممن ينسب إلى الخير، فأدخلنا على موسى بن جعفر فقال لنا السندي: يا هؤلاء انظروا إلى هذا الرجل هل حدث به حدث؟ فإن الناس يزعمون أنه قد فعل مكروه بـه، و يكثرون في ذلك، و هذا منزله و فرشه موسّع علیه غير مضيق و لم يرد به أمير المؤمنين سوءا، وإنما ينتظره أن يقدم فيناظره أمير المؤمنين، وها هو ذا صحيح، موسّع عليه في جميع أمره فاسألوه. قال: و نحن ليس لنا هم إلا النظر إلى الرجل، و إلى فضله وسمته فقال: أما ما ذكر من التوسعة و ما أشبه ذلك فهو على ما ذكر غير أني أخبركم أيها النفر اني قد سقيت الس----م في تسع تمرات و إني أخضر غدا وبعد غد أمو--- ت. قال: فنظرت إلى السندي بن شاهك يرتعد ويضطرب مثل الشعفة، قال الحسن: وكان هذا الشيخ من خيار العامة شيخ صديق، مقبول القول، ثقة ثقة جدا عند الناس.
حسن بن محمد بن بشار ،قطعیۃ الربیع سے روایت کرتے ہیں ( جو کہ عامۃ الناس میں مقبول اور دانا سمجھا جاتا تھا) کہ میں نے خاندان رسول خدا ص کے بعض اہل فضل کو دیکھا ہے مگر عبادات وفضیلت میں جیسے موسی بن جعفر کو پایا کسی کو نہیں پایا میں حسن بن بشار نے پوچھا کہ یہ تم پر کس طرح عیاں ہوا اس نے بتایا کہ یہ مجھ پرسندی بن شاہک کے زندان میں قی--- د کے دوران عیاں ہوا اس نے بتایا کہ جب امام عالی مقام سندی بن شاہک کے زند---ان میں ق--ید تھے تو اس نے اسی (۸۰) رؤسا شہرکو اکٹھا کیا اور زندان میں جناب موسی بن جعفر کے پاس لے کر گیا میں بھی ان روسا کے ہمراہ تھا پھر ہمیں مخاطب کر کے امام کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ ان پر سختی کی جارہی ہے حالانکہ ان کی منزل یہی ہے پھر بھی انہیں یہاں بستر فراہم کیا گیا ہے اور کسی قسم کی سختی نہیں کی گی اور امیرالمومنین (ہارون رشید ) کا ارادہ بھی ان کے ساتھ برائی کا نہیں ہے ہمیں ان کی قدر و منزلت اور فضیلت سے کسی طرح کا خوف نہیں حالانکہ لوگ ان کے بارے میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں اس پر امام عالی مقام نے اپنے سر کو اٹھایا اور فرمایا کہ جو کچھ میری فضیلت و کرامت کے بارے میں کہا جاتا ہے حق ہے میں تمہیں اس کی پہلے ہی اطلاح دیتا ہوں کہ مجھے فرمایا انگور کے نو دانوں میں ز---- ہر ڈال کر دیا جاۓ گا جس کے کھانے سے اگلے روز میرے جسم کی رنگت سبز ہو جاۓ گی اور پھر اس سے اگلے روز میں وفات پا جاؤں گا یہ سن کر سندی بن شاہک خوف سے کانپنے لگ گیا اور اس طرح مضطرب ہو گیا جیسے درخت کی شاخیں ہوا میں مضطرب ہو جاتی ہیں ۔
[۱/۰] العيون: المكتب عن علي بن إبراهيم عن اليقطيني عن موسى بن القاسم البجلي عن علي بن جعفر قال: جاءني محمد بن إسماعيل بن جعفر بن محمد و ذكر لي أن محمد بن جعفر دخل على هارون الرشيد فسلم عليه بالخلافة ثم قال له: ما ظننت أن في الأرض خليفتين حتى رأيت أخي موسى بن جعفر يسلم عليه بالخلافة، وكان ممن سعی بموسی بن جعفر یعقوب بن داود وكان يرى رأي الزيدية.
علی بن جعفر سے روایت ہے کہ میرے پاس محمد بن اسماعیل بن جعفر الصادق آئے اور کہا محمد بن جعفر الصادق ہارون رشید کے دربار میں گئے اور اس سے خلیفہ کہہ کر سلام کیا اور بعد ازاں اس سے کہا کہ زمین پر بیک وقت دو خلیفہ نہیں ہوسکتے مجھے تعجب ہے کہ میرے بھائی موسی کاظم ع کو بھی لوگ خلیفہ سمجھ کر سلام کرتے ہیں ۔ امام موسی الکاظم ع کی چغل خوری کرنے میں یعقوب بن داؤد کا بھی کردار ہے اور وہ زیدی مذہب تھا۔
[۱۳۵۰ / ٢] الكافي: عن علي بن ابراهيم عن محمد بن عيسي عن موسى بن القاسم البجلي عن علي بن جعفر ﷺ قال: جاء ني محمد بن إسماعيل و قد اعتمرنا عمرة رجب ونحن يومئذ بمكة، فقال: ياعم إني أريد بغداد و قد أحببت أن أودع عمي أبا الحسن يعني موسى بن جعفر و أحببت أن تذهب معي إليه، فخرجت معه نحو أخي و هو في داره التي بالحوبة و ذلك بعد المغرب بقليل، فضربت الباب فأجـابنـي أخـي فـقـال: مـن هـذا فقلت: علي، فقال: هو ذا أخرج وكان بطئ الوضوء فقلت: العجل قال : و أعجل، فخرج و عليه إزار ممشق قد عقده في عنقه حتى قعد تحت عتبة الباب، فـقـال عـلـي بـن جـعفر: فانكببت عليه فقبلت رأسه و قلت: قد جئتك في أمر إن تره صوابا فالله وفق له، وإن يكن غير ذلك فما أكثر ما نخطي قال: و ما هو؟ قلت : هذا ابن أخيك يريد أن يودعك و يخرج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
علی بن جعفر کہتے ہیں کہ محمد بن اسمٰعیل میرے پاس آئے ہم نے عمرہ رجب ادا کیا اور ہم ابھی مکہ ہی میں تھے کہ محمد نے کہا چچا میں بغداد جانا چاہتا ہوں میری خواہش ہے کہ اپنے چچا ابوالحسن یعنی موسیٰ بن جعفر سے رخصت ہولوں میری درخواست ہے کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں میں ان کے ساتھ اپنے بھائی کے مکان پر پہنچا جو صوبہ میں تھا یہ مغرب سے کچھ پہلے تھا۔ میں نے دق الباب کیا میرے بھائی نے پوچھا کون ہے۔ میں نے کہا علی ہوں، فرمایا میں ابھی آتا ہوں، چونکہ وضو دیر میں کرتے تھے اس لئے میں کہا ذرا جلدی کیجئے ۔ آپ دروازہ کی دہلیز پر بیٹھ گئے علی ابن جعفر نے جھک کر سر پر بوسہ دیا اور کہا میں ایک ایسے امر کے لئے آیا ہوں کہ آپ اس کو درست کریں۔ تو اکثر ہم سے خطا ہوتی ہی ہے حضرت نے فرمایا وہ کیا ہے میں نے کہا۔ یہ آپ کے بھتیجے آپ سے رخصت ہونے آئے ہیں بغداد جا رہے ہیں۔ فرمایا ان کو بلاؤ میں نے بلا لیا وہ ایک گوشہ میں تھے۔ جب وہ آئے تو حضرت کے سر پر بوسہ دیا اور کہا۔ میں آپ پر فدا ہوں مجھے کچھ نصیحت فرمائیے فرمایا میری نصیحت یہی ہے کہ مجھے ق---- تل کرانے کے بارے میں اللہ سے ڈرنا۔ اس نے کہا جو آپ کے ساتھ بدی کا ارادہ کرے خدا اس پر عذا---- ب نازل کرے اور اس کے لئے بد--- دعا کی، پھر حضرت کے سر پر بوسہ دے کر کہا۔ اے چچا مجھے نصیحت کیجئے۔ فرمایا۔ میرے خو----ن کے بارے میں خدا سے ڈرنا۔ اس نے کہا جو آپ سے بدی کرے خدا کا اس پر عذا---- ب ہو پھر حضرت کے سر کو بوسہ دے کر کہا اے چچا مجھے نصیحت کیجیئے آپ نے پھر وہی فرمایا۔ جب الگ ہوئے۔ میں ان کے ساتھ چلا حضرت نے فرمایا۔ علی بھائی آپ رک جائیے۔ میں رک گیا حضرت گھر کے اندر گئے اور مجھے بلاکر سو ۱۰۰ دینار کی ایک تھیلی دے کر فرمایا۔ اپنے بھتیجے سے کہیئے کہ اس رقم سے اپنے سفر میں مدد حاصل کرے۔ علی نے کہا میں نے یہ رقم چادر کے ایک گوشہ میں باندھ لی۔ پھر آپ نے سو دینار اور دیئے اور فرمایا یہ بھی اسے دے دو۔ میں نے کہا جب آپ کو اس سے خوف ہے جیسا کہ آپ نے بیان کیا تو پھر آپ اس کی مدد کیوں کر رہے ہیں فرمایا جب میں صلۂ رحم کروں گا تو وہ قطع رحم کرے گا تو خدا اس کی ع----مر کو کم کردے گا پھر آپ نے چمڑے کا ایک تکیہ اٹھایا جس میں کھرے تین ہزار درہم تھے فرمایا یہ بھی اسے دے دو۔ میں یہ سب رقم لے کر باہر نکلا اور ان میں سے پہلی رقم اس کو دی وہ بہت خوش ہوا اور حضرت کو دعائیں دینے لگا۔ پھر میں نے باقی رقمیں دیں جن سے وہ اتنا خوش ہوا کہ میں سمجھا کہ اب وہ بغداد نہ جائے گا لیکن وہ چلا گیا اور جب ہارون کے سامنے گیا تو اس کو خلیفہ رسول اللہ کہہ کر سلام کیا اور کہا کہ میرے خیال میں روئے زمین پر دو خلیفہ تو نہیں ہونے چاہییں۔میں نے اپنے چچا موسیٰ بن جعفر کو دیکھا کہ لوگ خلیفہ رسول کہہ کر سلام کرتے ہیں ہارون نے ایک لاکھ درہم اس کے پاس بھیجے لیکن وہ مر---- ض خنا---- ق میں ایسا مبتلا ہوا کہ نہ دیکھ سکا نہ چھو سکا۔
[۳/۱۳۵۱] الكافي: عن محمد بن يحيى عن محمد بن الحسين عن صفوان قال: قلت للرضا: أخبرني عن الامام متى يعلم أنه إمام؟ حين يبلغه أن صاحبه قد مضى أو حين يمضي؟ مثل أبي الحسن ا قبض ببغداد و أنت هاهنا؟ قال: يعلم ذلك حـيـن يـمضي صاحبه، قلت: بأي شئ؟ قال: يلهمه الله۔
صفوان کہتے ہیں میں نے امام رضا (ع) سے کہا مجھے بتائیے کہ امام کو کب پتا چلتا ہے کہ وہ امام ہوا جب کہ اس کو یہ خبر معلوم ہوتی ہے کہ امام سابق فوت گیا یا وفات کا وقت ہی معلوم ہوجاتا ہے فرمایا وفات کے وقت ہی۔ میں نے کہا کیسے ؟ فرمایا اللہ اس کو الہام کرتا ہے