⭕ امام موسٰی کاظمؑ ⭕

 

حضرت امام موسٰی کاظمؑ کی ولادت باسعادت، اسم مبارک، کنیت، القاب اور بادشاہان وقت۔۔۔

 

🔷ولادت باسعادت

حضرت امام موسٰی کاظمؑ بتاریخ 7 صفرالمظفر 128ھ مطابق 745ء یوم شنبہ بمقام ابوا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے پیدا ہوئے۔(1)

 

🔷علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ پیدا ہوتے ہی آپ نے ہاتھوں کو زمین پر ٹیک کر آسمان کی طرف رخ کیا اور کلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایا آپ نے یہ عمل بالکل اسی طرح کیا جس طرح حضرت رسولِخداؐ نے ولادت کے بعد کیا تھا۔ آپ کے داہنے بازو پر کلمہ "تمت کلمة ربک صدقا وعدلا" لکھا ہوا تھا۔ آپ علم اولین وآخرین سے بہرہ ور متولد ہوئے تھے۔ آپ کی ولادت سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو بیحد مسرت ہوئی تھی۔ اور آپ نے مدینہ جا کر اہل مدینہ کو دعوت طعام دی تھی۔(2)

آپ دیگر آئمہ کی طرح مختون اور ناف بریدہ متولد ہوئے تھے۔

 

🔷اسم مبارک

آپ کے والدماجد حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے خداوندمتعال کے معین کردہ نام ”موسٰی“ سے موسوم کیا۔

علامہ محمدرضا لکھتے ہیں کہ موسٰی قبطی لفظ ہے اور مو اور سی سے مرکب ہے۔ 'مو' کے معنی پانی اور 'سی، کے معنی درخت کے ہیں۔

 

اس نام سے سب سے پہلے حضرت کلیم اللہ موسوم کئے گئے تھے۔ اوراس کی وجہ یہ تھی کہ خوف فرعون سے مادرِ موسٰی نے آپ کو اس صندوق میں رکھ کر دریا میں بہایا تھا جو ”حبیب نجار“ کا بنایا ہوا تھا اور بعد میں ”تابوت سکینہ“ قرار پایا، تو وہ صندوق بہہ کر فرعون اور جناب آسیہ تک پانی کے ذریعہ سے ان درختوں سے ٹکراتا ہوا جو خاص باغ میں تھے پہنچا تھا لہذا پانی اور درخت کے سبب سے ان کانام موسٰی قرار پایا تھا۔(3)

 

🔷کنیت

ابوالحسن، ابوابراہیم، ابوعلی، ابوعبداللہ تھی۔

 

🔷القاب

آپ کے القاب کاظم، عبدصالح، نفس زکیہ،صابر، امین، باب الحوائج وغیرہ تھے۔

شہرت عامہ کاظم کو ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بدسلوک کے ساتھ احسان کرتے اور ستانے والے کو معاف فرماتے اور غصہ کو پی جاتے تھے، بڑے حلیم، بردبار اور اپنے ظلم کرنے والے کو معاف کر دیا کرتے تھے۔(4)

 

🔷لقب باب الحوائج کی وجہ

علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ کثرت عبادت کی وجہ سے عبدصالح اورخدا سے حاجت طلب کرنے کے ذریعہ ہونے کی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کہا جاتا ہے۔ کوئی بھی حاجت ہوجب آپ کے واسطے سے طلب کی جاتی تھی توضرور پوری ہوتی تھی۔(5)

 

🔷علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ جب مجھے کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے میں امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے روضے پر چلا جاتا ہوں اور ان کی قبر پر دعا کرتا ہوں میری مشکل حل ہوجاتی ہے۔(6)

 

🔷باشاہانِ وقت

حضرت امام موسٰی کاظمؑ 128 ھجری میں مروان الحمار اموی کے عہد میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد۔۔۔

132 ھجری میں سفاح عباسی خلیفہ ہوا (ابوالفداء)۔

136 ھجری میں منصور دوانقی عباسی خلیفہ بنا۔

158 ھجری میں مہدی بن منصور مالکِ سلطنت ہوا(حبیب السیر)۔

169 ھجری میں ہادی عباسی کی بیعت کی گئی(ابن الوردی)۔

170 ھجری میں ہارون الرشید عباسی ابن مہدی خلیفہ وقت ہوا۔

183 ھجری میں ہارون کے زہر دینے سے امام علیہ السلام بحالتِ مظلومی قیدخانہ میں شہید ہوئے۔(7)

 

📚حوالہ جات؛

1)انوارالنعمانیہ، ص126۔ واعلام الوری، ص171۔ جلاءالعیون، ص269، شواہدالنبوت، ص192۔ روضةالشہداء، ص436۔

2)جلاءالعیون، ص270۔

3)جنات الخلود، ص29۔

4)مطالب السؤل، ص276۔ شواہدالنبوة، ص192۔ روضةالشہداء، ص432۔ تاریخ خمیس، جلد2، ص32۔

5)مطالب السؤل، ص278۔ صواعق محرقہ، ص131۔

6)مناقب، جلد3، ص125، طبع ملتان۔

7)صواعق محرقہ اخبارالخلفاء بن راعی۔