🔴 ہارون رشید کے امام موسٰی کاظم علیہ السلام سے اہم سوالات
ہارون رشید امام موسیٰ کاظم ع سے : میں آپ سے کچھ سوالات کرنا چاهتا هوں جو میرے ذهن میں ایک مدّت سے موجود هے اور ابھی تک ان سوالوں کو کسی سے پوچھا بھی نہیں هے، مجھ سے یہ بھی بتایا گیا هے کہ آپ کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے هیں لهذا میرے جواب کو صحیح اور سچّے طریقہ سے بیان فرمایئے !۔
امام موسٰی کاظم (ع) نے فرمایا : اگر مجھے بیان کرنے کی آزادی ملے تو جو کچھ میں جانتا تمهارے سوالوں کے متعلق بیان کروں گا ۔
ہارون رشید نے کہا: آپ کو بیان کرنے کی آزادی هے جو چاهیں آپ بیان کرسکتے هیں !!!۔
هارون نے سوال کیا: آپ لوگوں کا عقیده هے آپ اولادِ ابوطالب هم اولادِ عباس سے افضل و برتر هیں؟ درحالیکہ هم اور آپ لوگ ایک هی درخت کی شاخیں هیں ۔ ابوطالب اور عباس دونوں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے چچا تھے اور رسول اسلام (ص) کی قرابت داری کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق بھی نہیں هے ۔
امام (ع) نے فرمایا: هم لوگ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی نسبت تم لوگوں سے زیاده نزدیک هیں ۔
هارون نے کہا وه کس طرح ؟۔
امام (ع) نے جواب میں فرمایا: اس لئے کہ همارے جد ابوطالب اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے والد ایک ھی ماں باپ سے تھے لیکن عباس صرف ماں کے رشتہ بھائی هوتے تھے ۔
هاورن نے کہا میرا دوسرا سوال یہ هے کہ آپ لوگ کیوں دعویٰ کرتے هیں کہ رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے میراث پائیں گے؟ جبکہ هم سب کو معلوم هے جس وقت پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی رحلت هوئی هے اس وقت ان کے چچا عباس (یعنی همارے جد) زنده تھے ۔ لیکن ان کے دوسرے چچا ابوطالب (یعنی آپ کے جد) انتقال کرگئے تھے اور یہ واضح هے کہ جب تک چچا زنده هیں اس وقت تک بھتیجے کو میراث نہیں ملے گی ۔
امام (ع) نے کہا: کیا مجھے بیان کرنے کی کھلی چھوٹ هے ؟۔
هارون نے کہا: میں نے گفتگو کے شروع هی میں کہا ھے کہ آپ کو بیان کی کھلی چھوٹ هے ۔
امام (ع) نے ارشاد فرمایا: حضرت علی ابن ابو طالب (ع) کا ارشاد هے: "اولاد کے هوتے هوئے، ماں باپ اور بیوی و شوهر کے علاوه کسی کو میراث نہیں ملے گی اور اولاد کے هونے کی صورت میں چچا کے لئے قرآن اور احادیث میں بالکل کوئی میراث ثابت نہیں هے ۔ پس جو لوگ چچا کو (میراث کے مسئلہ میں) باپ کے حکم میں قرار دیتے هیں وه اپنی طرف سے گڑھتے هیں، ان کی باتوں کی کوئی دلیل نہیں هے ۔ لهذا حضرت زهرا سلام الله علیہا بنت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے هوتے ان کے چچا عباس کو میراث نہیں ملے گی "۔
هارون نے کہا آپ سے ایک سوال بھی هے کہ آپ حضرات کیوں اجازت دیتے هیں کہ لوگ آپ کو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کریں اور کہیں: اولادِ رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم جبکہ آپ لوگ اولادِ علی (ع) میں سے هیں ؟۔
امام (ع) نے جواب میں فرمایا: اگر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم زنده هوجائیں اور تمهاری لڑکی سے شادی کرنا چاهیں تو کیا تم انہیں اپنی لڑکی دوگے ؟۔
هارون نے کہا سبحان الله کیوں نہیں دوں گا، بلکہ میں تو اس صورت میں تمام عرب، عجم اور قریش پر فخر بھی کروں گا ۔
امام (ع) نے ارشاد فرمایا: اگر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم زنده هوجائیں تو میری لڑکی سے شادی کی خواستگاری نہیں کریں گے اور میں بھی انہیں اپنی لڑکی نہیں دوں گا ۔
هاورن نے کہا اس کی وجہ کیا هے ؟۔
امام (ع) نے فرمایا: چونکہ وہ همارے والد هیں (خواه والده هی کی طرف سے) لیکن تمهارے باپ نہیں هیں، لهذا میں اپنے کو رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا فرزند کہہ سکتا هوں ۔
هارون نے کہا آپ لوگ کیوں اپنے کو ذرّیت و اولاد رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم جانتے هیں جبکہ اولاد و ذریت لڑکے طرف سے شمار هوتی هے نہ کی لڑکی طرف سے ؟۔
امام (ع) نے فرمایا: مجھے اس سوال کے جواب سے معاف کرو ۔
هارون نے کہا: نہیں، آپ جواب دیجیئے اور قرآن سے دلیل دیجئے ۔
امام (ع) نے فرمایا:
" وَ وَهَبْنَا لَهُ إِسحَقَ وَ يَعْقُوب كلاًّ هَدَيْنَا وَ نُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَ مِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَ سلَيْمَنَ وَ أَيُّوب وَ يُوسف وَ مُوسي وَ هَرُونَ وَ كَذَلِك نجْزِي الْمُحْسِنِينَ وَ زَكَرِيَّا وَ يحْيي وَ عِيسي وَ إِلْيَاس كلٌّ مِّنَ الصلِحِينَ وَ إِسمَعِيلَ وَ الْيَسعَ وَ يُونُس وَ لُوطاً وَ كلاًّ فَضلْنَا عَلي الْعَلَمِينَ وَ مِنْ ءَابَائهِمْ وَ ذُرِّيَّاتهِمْ وَ إِخْوَانهِمْ وَ اجْتَبَيْنَاهُمْ وَ هَدَيْنَاهُمْ إِلي صرَطٍ مُّستَقِيمٍ؛ سورہ مبارکہ انعام، آيہ شریفہ 87- 8۴۔
اور ھم نے ابراھیم کو اسحاق و یعقوب دیئے اور سب کو ھدایت بھی دی اور اس کے پہلے نوح کو ھدایت دی اور پھر ابراھیم کی اولاد میں داؤد, سلیمان ایوب، یوسف, موسٰی اور ھارون قرار دیئے اور ھم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ھیں، اور زکریا, یحیٰی, عیسیٰ اور الیاس کو بھی رکھا جو سب کے سب نیک کرداروں میں تھے، اور اسماعیل, الیسع, یونس اور لوط بھی بنائے اور سب کو عالمین سے افضل و بہتر بنایا، اور پھر ان کے باپ دادا, اولاد اور برادری میں سے اور خود انہیں بھی منتخب کیا اور سب کو سیدھے راستہ کی ھدایت کردی ۔
اس وقت میں تم سے پوچھتا هوں کہ اس آیت میں عیسیٰ (ع) کو جناب ابراهم علیہ السلام کی ذریت و اولاد میں شمار کیا گیا هے کیا وه باپ کی طرف سے منسوب هیں یا ماں کی طرف سے ؟۔
هارون نے کہا: قرآن کے ثبوت کے مطابق حضرت عیسیٰ (ع) کا کوئی باپ نہیں تھا ۔
امام (ع) نے فرمایا: پھر وه ماں کی طرف سے اولاد میں شمار کئے گئے هیں لهذا هم بھی اپنی ماں حضرت فاطمہ زهرا سلام الله علیھا کی طرف سے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ذرّیت میں شمار هوتے هیں ۔
کیا دوسری آیت بھی تمہارے لئے پڑھوں ؟ ۔
هارون نے کہا پڑھئے !۔
امام (ع) نے فرمایا : " فَمَنْ حَآجَّکَ فِیهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَ أَبْنَاءکُمْ وَ نِسَاءنَا وَ نِسَاءکُمْ وَ أَنفُسَنَا و أَنفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَی الْکَاذِبِینَ؛ سورہ مبارکہ آل عمران، آيہ شریفہ ۶1۔
پیغمبر علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ھم لوگ اپنے اپنے فرزند, اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں ۔
کسی شخص نے بھی دعویٰ نہیں کیا ھے کہ پیغمبر (ص) نے نصارائے نجران سے مباھلہ میں على و فاطمہ و حسن و حسين علیھم السلام کے علاوہ کسی اور کو مباھلہ میں اپنے ساتھ لے گئے ھوں، لہذا ابنائنا (اپنے بیٹوں) کے مصداق آیت میں حسن و حسين (علیهما السلام) ھیں، اس کے باوجود کہ یہ حضرات ماں کی طرف سے پیغمبر (ص) سے منسوب ھیں ۔
📚 عيون اخبار الرضا،ج 1، ص 81، طبع قم؛ احتجاج طبرسى، طبع سنگى نجف، ص 211- 213؛ بحار الانوار، ج ۴8، ص 129- 12۵۔
🔴 ہارون نے سانپ کے ڈر سے امام موسیٰ کاظم علیه السلام کی اطاعت و فرمانبرداری کی:
قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ رَأَيْتُ كَاظِمَ الْغَيْظِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ عِنْدَ الرَّشِيدِ وَ قَدْ خَضَعَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عِيسَى ابْنُ أَبَانٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِمَ تَخْضَعُ لَهُ قَالَ رَأَيْتُ مِنْ وَرَائِي أَفْعَى تَضْرِبُ بِنَابِهَا وَ تَقُولُ أَجِبْهُ بِالطَّاعَةِ وَ إِلاَّ بَلَّعْتُكَ فَفَزِعْتُ مِنْهَا فَأَجَبْتُهُ.
اعمش سے منقول ہے که مَیں نے ایک دفعه دیکھا که امام موسیٰ کاظم علیه السلام ہارون رشید کے پاس اسکے دربار میں موجود ہیں اور ہارون آپکے سامنے انتہائی متواضع اور عاجزی و انکساری کا اظہار کر رہا ہے۔ جب آپ وہاں سے تشریف لے گئے تو عیسیٰ بن ابان نے ہارون سے پوچھا: آپ انکے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کیوں کر رہے تھے؟ اس نے جواب دیا: مَیں نے دیکھا که میرے پیچھے ایک بہت بڑا سانپ منه کھولے ہوئے کھڑا ہے اور وہ مجھ سے کہه رہا ہے که انکی اطاعت و فرمانبرداری کرو ورنه مَیں تمہیں نگل لوں گا۔ یه منظر دیکھ کر مَیں اس سانپ سے ڈر گیا تھا اور انکے سامنے متواضع ہوکر اطاعت و فرمانبرداری کر رہا تھا۔
📘 دلائل الإمامـــــة: ص 320 ح 266
📘 نوادر المعجزات: ص 326 ح 126
📘 مدینة المعاجز: جلد 6 ص 198 ح 1938
🔴 امام موسی کاظم علیہ السلام کی حاضر جوابی
ھارون رشید نے امام موسی کاظم سے پوچھا کہ آپ کس طرح خود کو آنحضرت ؐ کی اولاد کہتے ھیں جبکہ تم علی کی اولاد ھو تو امام موسی کاظم نےھارون کے سامنے یہ آیت " ونوحا ھدینا" الی عیسی تلاوت کی کہ جب قرآن کے مطابق حضرت عیسی بے غیر باپ کے حضرت نوح کے بیٹے ھو سکتے ھیں تو اولاد فاطمہ کیوں حضورؐ کی اولاد نہیں ھوسکتی ۔(صواعق محرقہ)
خظیب بغدادی یہ واقع تاریخ بغداد میں تقل کیا ھے
ھارون رشید حج کے لیے گیا اور حضور اکرمؐ کے روضہ پر سلام کے لیے گیا وھاں پر امام موسی کاظم بھی تھے ھارون نے بارگاہ رسالت میں سلام پیش کیا اور کہا السلام علیک یا رسول اللہ ابن امی دوسروں کے سامنے فخر کے لیے حضور کو چچا زاد کہا تو امام موسی کاظم نے سلام پیش کرتے ھوئے فرمایا اسلام علیکم یا ابت تجھ پر سلام ھو اے میرے والد ھارون رشید کا چہرہ سن کر فق ھوگیا اور کہا یہ ھے فخر کی بات اے ابوالحسن آپ نے سچ کہا۔
امام رازی کہتا ھے ان دلائل سے ثابت ھے کہ امام حسن اور امام حسین حضورؐ کی اولاد ھیں
📚 اقتساب : ابو حنیفہ شھید اھل بیت تالیف ابوالحسن شریف اللہ الکوثری جامعہ بنوری ص27
🔴 امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا ھارون رشید کو لاجواب کرنا اور خود کو قرآن سے فرزند رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت فرمانا
ہارون رشید کے حالات میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ قبرِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کھڑ ے ہو کر کہتا ہے کہ:
اے خدا کے رسول آپ پر سلام اے پسرِ عمّو آپ پر سلام، وہ یہ چاہتا تھا کہ میرے اس عمل سے لوگ یہ پہچان لیں کہ خلیفہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچازاد بھائی ہے
۔ اسی وقت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام
قبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک آئے اور فرمایا اے ﷲ کے رسول! آپ پر سلام
، اے پدر بزرگوار! آپ پر سلام،
ہارون رشیدامام کے اس عمل سے بہت غضبناک ہوا۔ فورا امام کی طرف رخ کر کے کہتا ہے، آپ فرزند رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ہونے کا دعوی کیسے کر سکتے ہیں؟
جب کہ آپ علی مرتضی علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا
تو نے قرآن کریم میں سورۂ انعام کی آیت نہیں پڑھی جس میں خدا فرماتا ہے قبیلۂ ابراہیم سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسی، ہارون، زکریا، یحیی، عیسی، اور الیاس یہ سب کے سب ہمارے نیک اور صالح بندے تھے ہم نے ان کی ہدایت کی اس آیت میں خداوند نے حضرت عیسی علیہ السلام
کو گزشتہ انبیاء کا فرزند قرار دیا ہے ۔حالانکہ عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ حضرت مریم کی طرف سے پیامبران سابق کی طرف نسبت دی ہے اس آیۂ کریمہ کی رو سے بیٹی کا بیٹا فرزند شمار ہوتا ہے
۔ اس دلیل کے تحت میں اپنی ماں فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کے واسطہ سے فرزند نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں۔ اس کے بعد امام فرماتے ہیں کہ اے ہارون! یہ بتا کہ اگر اسی وقت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا میں آ جائیں اور اپنے لیے تیری بیٹی کا سوال فرمائیں تو کیا تو اپنی بیٹی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت میں دے گا یا نہیں ؟
ہارون برجستہ جواب دیتا ہے نہ صرف یہ کہ میں اپنی بیٹی کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت میں دونگا بلکہ اس کارنامے پر تمام عرب و عجم پر افتخار کرونگا۔ امام فرماتے ہیں کہ تو اس رشتے پر تو سارے عرب و عجم پر فخر کریگا لیکن یاد رکھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری بیٹی کے بارے میں یہ سوال نہیں کر سکتے اس لیے کہ ہماری بیٹیاں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیاں ہیں اور باپ پر بیٹی حرام ہے۔ امام کے اس استدلال سے حاکم وقت نہایت پشیمان ہوا۔ امام موسی کاظم علیہ السلام نے علم امامت کی بنیاد پر بڑے بڑے مغرور اور متکبر بادشاہوں سے اپنا علمی سکّہ منوا لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ہارون امام کی دلیل کے آگے منہ کی کھا کر چپ ہو گیا اور امام کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور آپ کو حوالہ زندان کر دیا کیا۔
حوالہ جات کتب اھل سنت
تذکرة الخواص :ص 359
مطالب السول ص 279
نورالابصارص 135
شواہدالنبوت ص 193
صواعق محرقہ ص 121
ارجح المطالب ص 452۔۔۔۔۔۔
التماس دعا ریاض قادری