کرامات و معجزات
🔴 حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے بعض کرامات
واقعہ شقیق بلخی
علامہ محمدبن شافعی لکھتے ہیں کہ آپ کے کرامات ایسے ہیں کہ ”تحارمنہاالعقول“ ان کودیکھ کرعقلیں چکراجاتی ہیں ،مثال کے لیے ملاحظہ ہو؟ ۱۴۹ ھ میں شقیق بلخی حج کے لیے گئے ان کابیان ہے کہ میں جب مقام قادسیہ میں پہنچاتومیں نے دیکھاکہ ایک نہایت خوب صورت جوان جن کارنگ سانولہ (گندم گوں) تھا وہ ایک عظیم مجمع میں تشریف فرماہیں جسم ان کاضعیف ہے وہ اپنے کپڑوں کے اوپر ایک کمبل ڈالے ہوئے ہیں اورپیروں میں جوتیاں پہنے ہوئے ہیں تھوڑی دیر بعدوہ مجمع سے ہٹ کر ایک علیحدہ مقام پرجاکربیٹھ گئے، میں نے دل میں سوچا کہ یہ صوفی ہے اورلوگوں پرزادراہ کے لیے باربنناچاہتاہے ،میں ابھی اس کی ایسی تنبیہ کروں گاکہ یہ بھی یادرکھے گا،غرضیکہ میں ان کے قریب گیاجیسے ہی میں ان کے قریب پہنچاہوں،وہ بولے ائے شقیق بدگمانی مت کیاکرویہ اچھاشیوہ نہیں ہے، اس کے بعدوہ فورااٹھ کرروانہ ہوگئے ،میں نے خیال کیاکہ یہ معاملہ کیاہے انہوں نے میرانام لے کرمجھے مخاطب کیااورمیرے دل کی بات جان لی
اس واقعہ سے میں اس نتیجہ پرپہنچاکہ ہونہ ہویہ کوئی عبدصالح ہوں بس یہی سوچ کرمیں ان کی تلاش میں نکلااوران کاپیچھاکیا، خیال تھاکہ وہ مل جائیں گے تومیں ان سے کچھ سوالات کروں گا،لیکن نہ مل سکے،ان کے چلے جانے کے بعدہم لوگ بھی روانہ ہوئے ، چلتے چلتے جب ہم ”وادی فضہ“ میں پہنچے توہم نے دیکھاکہ وہی جوان صالح یہاں نمازمیں مشغول ہیں اوران کے اعضاء وجوارح بیدکی مانندکانپ رہے ہیں اوران کی آنکھوں سے آنسوجاری ہیں میں یہ سوچ کران کے قریب گیاکہ اب ان سے معافی طلب کروں گاجب وہ نمازسے فارغ ہوئے توبولے ائے شفیق خداکاقول ہے کہ جوتوبہ کرتاہے میں اسے بخش دیتاہوں اس کے بعدپھرروانہ ہوگئے اب میرے دل میں یہ یقین آیاکہ یقینا یہ بندہ عابد،کوئی ابدال ہے ،کیوں کہ دو باریہ میرے ارادہ سے اپنی واقفیت ظاہرکرچکاہے میں نے ہرچندپھران سے ملنے کی سعی کی لیکن وہ نہ مل سکے جب میں منزل زبالہ پرپہنچاتودیکھاکہ وہی جوان ایک کنویں کی جگت پربیٹھے ہوئے ہیں اس کے بعدانہوں نے ایک کوزہ نکال کرکنوئیں سے پانی لیناچاہا،ناگاہ ان کے ہاتھ سے کوزہ چھوٹ کرکنوئیں میں گرگیا،میں نے دیکھاکہ کوزہ گرنے کے بعدانہوں نے آسمان کی طرف منہ کرکے بارگاہ احدیت میں کہا: میرے پالنے والے جب میں پیاساہوتاہوں توہی سیراب کرتاہے اورجب بھوکاہوتاہوں توہی کھانادیتاہے خدایا!اس کوزہ کے علاوہ میرے پاس کوئی اورکوزہ نہیں ہے ،میرے مالک! میرا کوزہ پرآب برآمدکردے،اس جوان صالح کایہ کہناتھاکہ کنوئیں کاپانی بلندہوااوراوپرتک آگیاآپ نے ہاتھ بڑھاکر اپناکوزہ پانی سے بھراہوالے لیااوروضوفرماکر چاررکعت نمازپڑھی، اس کے بعدآپ نے ریت کی ایک مٹھی اٹھائی اورپانی میں ڈال کرکھاناشروع کردیایہ دیکھ کرمیں عرض پردازہواجناب والا! مجھے بھی کچھ عنایت ہومیں بھوکاہوں آپ نے وہی کوزہ میرے حوالے کردیاجس میں ریت بھری تھی خداکی قسم جب میں نے اس میں سے کھایاتواسے ایسالذیذستوپایاجیسامیں نے کھایاہی نہ تھا، پھراس ستومیں ایک خاص بات یہ تھی کہ میں جب تک سفرمیں رہابھوکانہیں ہوا اس کے بعدآپ نظروں سے غائب ہوگئے ۔
جب میں مکہ معظمہ میں پہنچاتومیں نے دیکھاکہ ایک بالو(ریت) کے ٹیلے کے کنارے مشغول نمازہیں اورحالت آپ کی یہ ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسوجاری ہیں اوربدن پرخضوع وخشوع کے آثارنمایاں ہیں آپ نمازہی میں مشغول تھے کہ صبح ہوگئی ، آپ نے نمازصبح ادافرمائی اوراس سے اٹھ کرطواف کاارادہ کیا،پھرسات بارطواف کرنے کے بعد ایک مقام پرٹہرے میں نے دیکھاکہ آپ کے گردبیشمارحضرات ہیں اورسب بے انتہاتعظیم وتکریم کررہے ہیں ،میں چونکہ ایک ہی سفرمیں کرامات دیکھ چکاتھا اس لیے مجھے بہت زیادہ فکرتھی کہ یہ معلوم کروں کہ یہ بزرگ ہیں کون؟ انہوں نے کہاکہ یہ فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم ہیں،میں نے کہابے شک یہ صاحب کرامات جومیں میں نے دیکھے وہ اسی گھرانے کے لیے سزاوارہیں (مطالب السول ص ۲۷۹ ،نورالابصارص ۱۳۵ ،شواہدالنبوت ص ۱۹۳ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ، ارجح المطالب ص ۴۵۲) ۔
مورخ ذاکرحسین لکھتے ہیں کہ شقیق ابن ابراہیم بلخی کاانتقال ۱۹۰ ھ میں ہواتھا ( تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۵۹) ۔
امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ عیسی مدائنی حج کے لیے گئے اور ایک سال مکہ میں رہنے کے بعدوہ مدینہ چلے گئے ان کاخیال تھا کہ وہاں بھی ایک سال گزاریں گے، مدینہ پہنچ کرانہوں نے جناب ابوذرکے مکان کے قریب ایک مکام میں قیام کیا۔
مدینہ میں ٹہرنے کے بعد انہوں نے امام موسی کاظم علیہ السلام کے وہاں آناجاناشروع کیا،مدائنی کابیان ہے کہ ایک شب کوبارش ہورہی تھی اورمیں اس وقت امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضرتھا، تھوڑی دیرکے بعد آپ نے فرمایاکہ اے عیسی تم فورااپنے مکان چلے جاؤکیونکہ ”انہدم البیت علی متاعک“ تمہارامکان تمہارے اثاثہ پرگرگیاہے اورلوگ سامان نکال رہے ہیں یہ سن کرمیں فورامکان کی طرف گیا، دیکھاکہ گھرگرچکاہے اورلوگ سامان نکال رہے ہیں،دوسرے دن جب حاضرہواتوامام علیہ السلام نے پوچھاکہ کوئی چیزچوری تونہیں ہوئی ،میں نے عرض کی صرف ایک طشت نہیں ملتا جس میں وضو کیاکرتاتھا، آپ نے فرمایاوہ چوری نہیں ہوا،بلکہ انہدام مکان سے پہلے تم اسے بیت الخلاء میں رکھ کربھول گئے ہو،تم جاؤاورمالک کی لڑکی سے کہو،وہ لادے گی، چنانچہ میں نے ایساہی کیا اورطشت مل گیا(نورالابصارص ۱۳۵) ۔
علامہ جامی تحریرفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک صحابی کے ہمراہ سو دینارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں بطورنذرارسال کیاوہ اسے لے کرمدینہ پہنچا، یہاں پہنچ کراس نے سوچاکہ امام کے ہاتھوں میں اس جاناہے لہذا پاک کرلیناچاہئے وہ کہتاہے کہ میں نے ان یناروں کوجوامانت تھے شمارکیا تووہ نناوے تھے میں نے ان میں اپنی طرف سے ایک دینارشامل کرکے سوپورا کردیا،جب میں حضرت کی خدمت میں حاضرہواتوآپ نے فرمایاسب دینارزمین پرڈال دو،میں نے تھیلی کھو ل کرسب زمین پرنکال دیا ، آپ نے میرے بتائے بغیراس میں سے میرا وہی دینارجومیں نے ملایاتھا مجھے دیدیا اورفرمایا بھیجنے والے نے عددکالحاظ نہیں کیا بلکہ وزن کالحاظ کیاہے جو ۹۹ میں پوراہوتاہے۔
ایک شخص کاکہناہے کہ مجھے علی بن یقطین نے ایک خط دے کرامام علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا،میں نے حضرت کی خدمت میں پہنچ کر ان کاخط دیا، انہوں نے اسے پڑھے بغیرآستین سے ایک خط نکال کرمجھے دیااورکہا کہ انہوں نے جوکچھ لکھاہے اس کایہ جواب ہے (شواہدالنبوت ص ۱۹۵) ۔
ابوبصیرکابیان ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام دل کی باتیں جانتے تھے اورہرسوال کاجواب رکھتے تھے ہرجاندارکی زبان سے واقف تھے (روائح المصطفی ص ۱۶۲) ۔
ابوحمزہ بطائنی کاکہناہے کہ میں ایک مرتبہ حضرت کے ساتھ حج کوجارہاتھا کہ راستہ میں ایک شیربرآمدہوا،اس نے آپ کے کان میں کچھ کہاآپ نے اس کواسی کی زبان میں جواب دیااوروہ چلاگیا ہمارے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس نے اپنی شیرنی کی ایک تکلیف کے لیے دعاکی خواہش کی، میں نے دعاکردی اوروہ واپس چلاگیا(تذکرة المعصومین ص ۱۹۳) ۔
🔴 احمد بن عمر الحلال کا بیان هے که اخرس نامی ایک شخص دشمن آل محمد ع تھا اور اس نے ایک دفعه امام موسی کاظم علیه السلام کے متعلق نازیبا جملے کهے- میں نے دل میں اراده کر لیا که میں اس بدبخت کو اب زنده نه چھوڑوں گا- میں اسی کام کے لیے بازار سے تیز دھار والی چھری خریدی اور دل میں سوچا که جب یه مسجد جا رها هوگا تو میں اس کا کام تمام کر دونگا- ابھی میں اپنے منصوبه کی جزئیات پر غور وفکر کرنے میں مصروف تھا که کسی نے مجھے امام موسی کاظم علیه السلام کا ایک رقعه پهنچایا- جب میں نے رقعه کھول کر پڑها تو لکھا هوا تھا:
"تجھے همارے حق کا واسطه " اخرس" پر حمله نه کرنا- میں خدا پر بھروسه رکھتا هوں اور وهی میرے لیے کافی هے"
احمد کا بیان هے که مولا ع کا رقعه پڑھ کر میں نے اپنا منصوبه ترک کر دیا- ابھی چند دن هی گزرے تھے که وه شخص مرگیا-
(الخرائج جلد٢،ص ٦٥١- الثاقب فی المناقب ، ٤٣٨)
🔴 معجزہ امام موسی کاظم ع
امام ع کا اپنے چاہنے والے شیعہ کو ایک رات میں امام حسین ، امام علی ، رسول خدا اور جناب موسی علیہم السلام اور دیگر زیارات کروانا
جناب ﺍﺣﻤﺪ ﺗﺒّﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺳﻮﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﻭٔﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮮ ﻓﻼﻥ ! ﺁﻝ ﻣﺤﻤّﺪ ﻋﻠﻴﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺷﯿﻌﮧ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﻭﮐﺎﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﺗﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮐﺮ ﺍﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﻰ ﺑﻦ ﺟﻌﻔﺮ ﻋﻠﻴﮩﻤﺎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺍﮮ ﺍﺣﻤﺪ ! ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﺿﻮ ﮐﺮﻭ۔
ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺿﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﻧﭧ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ، امام ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺳﯽ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ، ﺗﺤﻮﺭﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭼﻮﺑﯿﺲ ﺭﻛﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎیا : ﺍﮮ ﺍﺣﻤﺪ ! ﮐﻴﺎ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺟﮕﮧ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺧﺪﺍ ﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺪ ﺣﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻰ ﻋﻠﻴﮩﻤﺎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮨﮯ۔
ﭘﮭﺮ ﺍٓﭖ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﻮﺭﺍ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﻓﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺎﻓﻆ ﺳﺐ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ۔ ﺍٓﻧﺤﻀﺮﺕ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﻮﻓﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮩﺎﮞ ﺳﺘﺮﮦ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻮ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﻛﯿﺎ : ﻧﮩﯿﮟ۔
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮧ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﻮﻓﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﻴﺖ ﺍﻟﻄﺸﺖ ﮨﮯ۔
ﺍٓﭖ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﭼﻮﺑﯿﺲ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻮ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺟﮕﮧ ﮨﮯ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺧﺪﺍ ﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺪ ﻋﻠﻰّ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮨﮯ۔
ﺍٓﭖ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﺏ ﺗﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺧﺪﺍ ﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮧ ﺍﺑﺮﺍﮨﻴﻢ ﺧﻠﻴﻞ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮨﮯ۔
ﺍٓﭖ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻢ ﻣﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ، ﻣﻜّﻪ، ﺯﻣﺰﻡ ﮐﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻴﺖ ﺍﻟﺸﺮﺍﺏ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺍﮮ ﺍﺣﻤﺪ ! ﮐﻴﺎ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺧﺪﺍ ﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺪﺍ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮧ ﻣﻜّﻪ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻛﻌﺒﻪ ،ﯾﮧ ﺯﻣﺰﻡ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﻴﺖ ﺍﻟﺸﺮﺍﺏ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍٓﭖ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻟﻨﺒﻰّ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺮ ﭘﻴﻐﻤﺒﺮ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﺌﮯ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﭼﻮﺑﯿﺲ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ پوﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺧﺪﺍ ﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻭﺭ ﺍٓﻧﺤﻀﺮﺕ ص ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﻣﻄﮩﺮ ﮨﮯ۔
ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻃﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﻌﺐ ﺍﺑﻰ ﺣﺒﻴﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺍﮮ ﺍﺣﻤﺪ ! ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﺩﮐﮭﺎﻭٔﮞ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺟﯽ ﮨﺎﮞ !
ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﮮ ﺭﺍﺕ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﯽ ﺟﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﻓﻮﺭﺍً ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﮮ ﺩﻥ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓ ﺟﺎ۔ ﭘﺲ ﺩﻥ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺭﻭﺷﻨﯽ، ﻧﻮﺭﺍﻧﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻤﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻇﮩﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ۔
ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﮮ ﺩﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮮ ﺭﺍﺕ ﻟﻮﭦ ﺍٓﻭٔ۔ ﻓﻮﺭﺍً ﺭﺍﺕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﺍٓﻧﺤﻀﺮﺕ ع ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺧﻮﺩ ﺩﯾﮑﮭﺎ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ! ﯾﺎﺑﻦ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﯽ ﻗﺪﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ۔
ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺣﺎﻃﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﻇﺮﻑ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ۔
ﭘﮭﺮ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﮮ ﺍﺣﻤﺪ ! ﮐﻴﺎ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﻛﯿﺎ : ﺧﺪﺍ ﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﺎﮌ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺣﺎﻃﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﻧﺤﻀﺮﺕ ع ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮧ ﻣﻮﺳﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮏ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺣﻀﺮﺕ ع ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺍٓﺭﺍﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ! ﻓﻮﺭﺍً ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺳﻮ ﺟﺎﻭٔ۔ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﯽ۔
حواله : ﻧﻮﺍﺩﺭ ﺍﻟﻤﻌﺠﺰﺍﺕ : 160 ﺡ 3 ، ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻹﻣﺎﻣﺔ : 343 ﺡ 45 ، ﻣﺪﻳﻨﺔ ﺍﻟﻤﻌﺎﺟﺰ : 276/6 ﺡ .74