امام موسی کاظم علیہ السلام کے دوبارہ گرفتاری
علامہ ابن شہرآشوب،علامہ طبرسی،علامہ اربلی،علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ ۷۰ ۔ ۱۶۹ ھ میں ہادی کے بعدہارون تخت خلافت پربیٹھا، سلطنت عباسیہ کے قدیم روایات جوسادات بنی فاطمہ کی مخالفت میں تھے اس کے پیش نظرتھے، خوداس کے باپ منصورکارویہ جوامام صادق علیہ السلام کے خلاف تھا، اسے معلوم تھا ،اس کایہ ارادہ کے جعفرصادق کے جانشین کوقتل کرڈالاجائے ،یقینااس کے بیٹے ہاؤوں کومعلوم ہوچکاہوگا ،وہ توامام جعفرصادق علیہ السلام کی حکیمانہ وصیت کااخلاقی دباؤتھا جس نے منصورکے ہاتھ باندھ دئے تھے اورپھرشہربغداد کی تعمیرکی مصروفیت تھی جس نے اسے اس جانب متوجہ نہ ہونے دیاتھا، اب ہارون کے لیے سب سے پہلے یہی تصورپیداہوسکتاتھا کہ اس روحانیت کے مرکزکوجومدینہ کے محلہ بنی ہاشم میں قائم ہے توڑنے کی کوشش کی جائے، مگرایک طرف امام موسی کاظم علیہ السلام کامحتاط اورخاموش طرزعمل اوردوسری طرف سلطنت کی اندرونی مشکلات ان کی وجہ سے نوبرس تک ہارون رشیدکوبھی کسی کھلے ہوئے تشدد کاامام کے خلاف موقع نہ ملا۔
اسی دوران میں عبداللہ ابن حسن کے فرزندیحی کاواقعہ درپیش ہوااوروہ امان دئیے جانے کے بعد تمام عہدوپیمان توڑکردردناک طریقے پرقیدرکھے گئے اورپھر قتل کئے گئے باوجودیکہ یحی کے معاملات سے امام موسی کاظم علیہ السلام کوکسی طرح کاسروکارنہ تھا، بلکہ واقعات سے ثابت ہوتاہے کہ حضرت ان کوحکومت کی مخالفت سے منع فرماتے تھے مگرعداوت بنی فاطمہ کاجذبہ جویحی بن عبداللہ کی مخالفت کے بہانے سے ابھرگیاتھا ،اس کی زد سے امام موسی کاظم علیہ السلام بھی محفوظ نہ رہ سکے، ادھریحی بن خالدبرمکی نے جووزیراعظم تھا،امین (فرزندہارون رشید) کے اتالیق جعفربن محمداشعث کی رقابت میں اس کے خلاف یہ الزام قائم کیاکہ یہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے شیعوں میں سے ہے اوران کے اقتدارکاخواہاں ہے۔
براہ راست اس کامقصدہارون کوجعفرسے برگشتہ کرناتھا ،لیکن بالواسطہ اس کاتعلق حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے ساتھ بھی تھا اس لئے ہارون کو حضرت کی ضرررسانی کی فکرپیداہوگئی اسی دوران میں یہ واقعہ ہواکہ ہارون رشیدحج کے ارادہ سے مکہ معظمہ میں آیا اتفاق سے اسی سال حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام بھی حج کوتشریف لائے ہوئے تھے ہارون نے اپنی آنکھوں سے اس عظمت ومرجعیت کامشاہدہ کیاجو مسلمانوں میں امام موسی کاظم کے متعلق پائی جاتی تھی اس سے اس کے حسدکی آگ بھڑک اٹھی اس کے بعداس میں محمدبن اسماعیل کی مخالفت نے اوراضافہ کردیا۔
واقعہ یہ ہے کہ اسماعیل ،امام جعفرصادق علیہ السلام کے بڑے فرزندتھے اوراس لیے ان کی زندگی میں عام طورپرلوگوں کاخیال یہ تھا، کہ وہ امام جعفرصادق علیہ السلام کے قائم مقام ہوں گے مگر ان کاانتقال امام جعفرصادق علیہ السلام کے زمانے میں ہوگیااورلوگوں کایہ خیال غلط ثابت ہوا، پھربھی بعض سادہ لوح اس اصحاب اس خیال پررہے کہ جانشینی کاحق اسماعیل اوراولاداسماعیل میں منحصرہے انہوں نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی امامت کوتسلیم نہیں کیاچنانچہ اسماعیلیہ فرقہ بن گیا مختصرتعدادمیں صحیح اب بھی دنیامیں موجودہے محمدان ہی اسماعیل کے فرزندتھے اوراس لیے امام موسی کاظم علیہ السلام سے ایک طرح کی مخالفت پہلے سے رکھتے تھے مگرچونکہ ان کے ماننے والوں کی تعداد بہت کم تھی اوروہ افرادکوئی نمایاں حیثیت نہ رکھتے تھے اس لیے ظاہری طورپرامام موسی کاظم کے یہاں آمدورفت رکھتے تھے اورظاہری طورپرقرابت داری کے تعلقات قائم کئے ہوئے تھے۔
ہارون رشیدنے امام موسی کاظم علیہ السلام کی مخالفت کی صورتوں پرغورکرتے ہوئے یحی برمکی سے مشورہ لیا، کہ میں چاہتاہوں کہ اولادابوطالب میں سے کسی کو بلاکراس سے موسی بن جعفرکے پورے حالات دریافت کروں یحی جوخودبھی عداوت بنی فاطمہ میں ہارون سے کم نہ تھا اس نے محمدبن اسماعیل کاپتہ دیا، کہ آپ ان کوبلاکر دریافت کریں، توصحیح حالات معلوم ہوسکیں گے، چنانچہ اسی وقت محمدبن اسماعیل کے نام خط لکھاگیا۔
شہنشاہ وقت کاخط جومحمدبن اسماعیل کوپہنچاتواس نے اپنی دنیاوی کامیابی کابہترین ذریعہ سمجھ کرفورا بغداد جانے کاارادہ کرلیامگران دنوں ہاتھ بالکل خالی تھا، اتناروپیہ پاس موجودنہ تھا کہ سامان سفرکرتے ، مجبورااسی ڈیوڑھی پرآناپڑاجہاں کرم وعطاء میں دوست اوردشمن کی تفریق نہ تھی امام موسی کاظم علیہ السلام کے پاس آکربغدادجانے کاارادہ ظاہرکیاحضرت خوب سمجھتے تھے کہ اس بغدادکے سفرکاپس منظراوراس کی بنیاد کیاہے حجت تمام کرنے کی غرض سے آپ نے سفرکاسبب دریافت کیاانہوں نے اپنی پریشان حالی بیان کرتے ہوئے کہا قرضداربہت ہوگیاہوں، خیال کرتاہوں کہ شایدوہاں جاکرکوئی صورت بسر اوقات کی نکلے اورمیراقرضہ اداہوجائے حضرت نے فرمایا،وہاں جانے کی ضرروت نہیں ہے میں وعدہ کرتاہوں کہ تمہاراتمام قرضہ اداکردوں گا اورجہاں تک ہوگاتمہارے ضروریات زندگی بھی پورے کرتارہوں گا۔
افسوس ہے کہ محمدنے اس کے بعدبھی بغدادجانے کاارادہ نہیں بدلاچلتے وقت حضرت سے رخصت ہونے لگے توعرض کیاکہ مجھے وہاں کے متعلق کچھ ہدایت فرمائی جائے ، حضرت نے اس کاکچھ جواب نہ دیا جب انہوں نے کئی مرتبہ اصرارکیاتوحضرت نے فرمایاکہ ”بس اتناخیال رکھناکہ میرے خون میں شریک نہ ہونا،اورمیرے بچوں کی یتمی کاباعث نہ بننا“ محمدنے اس کے بعدبہت کہاکہ یہ بھلاکونسی بات ہے جومجھ سے کہی جاتی ہے کچھ اورہدایت فرمائیے حضرت نے اس کے علاوہ کچھ کہنے سے انکارکیا، جب وہ چلنے لگاتوحضرت نے ساڑھے چارسودیناراورپندرہ سودرہم انہیں مصارف سفرکے لیے عطا فرمائے نتیجہ وہی ہوا،جوحضرت کے پیش نظرتھا،محمدبن اسماعیل بغدادپہنچے اوروزیراعظم برمکی کے مہمان ہوئے اس کے بعدیحی کے ساتھ ہارون کے دربارمیں پہنچے ،مصلحت وقت کی بناپربہت تعظیم وتکریم کی گئی ،اثناء گفتگومیں ہارون نے مدینہ کے حالات دریافت کئے محمدنے انتہائی غلط بیانیوں کے ساتھ وہاں کے حالات کاتذکرہ کیااوریہ بھی کہا کہ”میں نے آج تک نہیں دیکھا اورنہ سناکہ ایک ملک میں دوبادشاہ ہوں“۔
اس نے کہا: کہ اس کامطلب ؟ محمدنے کہاکہ بالکل اسی طرح جیسے آپ بغدادمیں سلطنت کررہے ہیں،موسی کاظم مدینہ میں اپنی سلطنت قائم کئے ہوئے ہیں، اطراف ملک سے ان کے پاس خراج پہنچتاہے اوروہ آپ کے مقابلہ کے دعوے دارہیں انہوں نے تیس ہزاراشرفی کی ایک زمین خریدی ہے جس کانام ”سیریہ“(شبلنجی) یہی وہ باتیں تھیں جن کے کہنے کے لیے یحی برمکی نے محمدکومنتخب کیاتھا، ہارون کاغیظ وغضب انتہائی اشتغال کے درجہ تک پہنچ گیااس نے محمد کودس ہزاردینارعطاکرکے رخصت کیاخداکاکرنایہ کہ محمدکواس رقم سے فائدہ اٹھانے کاایک دن بھی موقع نہیں ملا، اسی شب کوان کے حلق میں دردپیداہوا، غالبا ”خناق“ ہوگیااورصبح ہوتے ہوتے وہ دنیاسے رخصت ہوگئے ہارون کویہ خبرپہنچی تواس نے اشرفیوں کے توڑے واپس منگوالیے ،مگرمحمدکی باتوں کااثراس کے دل پرایساجم گیاتھا کہ اس نے یہ طے کرلیاکہ امام موسی کاظم کانام صفحہ ہستی سے مٹادیاجائے۔
چنانچہ ۱۷۹ ھ میں پھرہارون رشیدنے مکہ کاسفرکیااوروہاں سے مدینہ منورہ گیا، دوایک روز قیام کے بعد کچھ لوگ امام موسی کاظم علیہ السلام کو گرفتارکرنے کے لیے روانہ کیے جب یہ لوگ امام کے مکان پرپہنچے تومعلوم ہواکہ حضرت روضئہ رسول اللہ پرہیں ان لوگوں نے روضئہ رسول کی عزت کابھی خیال نہ کیاحضرت اس وقت قبررسول کے نزدیک نمازمیں مشغول تھے بے رحم دشمنوں نے آپ کونمازکی حالت میں قیدکرلیا، اورہارون کے پاس لے گئے مدینہ رسول کے رہنے والوں میں بے حسی اس کے پہلے بھی بہت دفعہ دیکھی جاچکی تھی یہ بھی اس کی ایک مثال تھی کہ رسول کافرزندروضہ رسول سے اس طرح گرفتارکرکے لے جایاجارہاتھامگرنام ونہادمسلمانوں میں ایک بھی ایسانہ تھاجوکسی طرح کی آوازاحتجاج بلندکرتا، یہ ۲۰/ شوال ۱۷۹ ھ کاواقعہ ہے۔
ہارون نے اس اندیشہ سے کہ کوئی جماعت امام موسی کاظم کورہاکرانے کی کوشش نہ کرے، دومحملیں تیارکرائیں ایک میں امام موسی کاظم کوسوارکرایااوراس کی ایک بہت بڑی فوجی جمعیت کے حلقہ میں بصرہ روانہ کیااوردوسری محمل جوخالی تھی اسے بھی اتنی ہی جمعیت کی حفاظت میں بغدادروانہ کیامقصدیہ تھاکہ آپ کے محل قیام اورقیدکی جگہ کوبھی مشکوک بنادیاجائے یہ نہایت حسرتناک واقعہ تھاکہ امام کے اہل حرم اوربچے وقت رخصت آپ کودیکھ بھی نہ سکے اوراچانک محل سرامیں صرف یہ اطلاع پہنچ سکی کہ حضرت سلطنت وقت کی طرف سے قیدکرلیے گئے اس سے بیویوں اوربچوں میں کہرام برپاہوگیااوریقیناامام کے دل پربھی اس کاصدمہ ہوسکتاہے وہ ظاہرہے مگر آپ کے ضبط وصبرکی طاقت کے سامنے ہر مشکل آسان تھی۔
معلوم نہیں کتنے ہیرپھیرسے راستہ طے کیاگیاتھاکہ پورے ایک مہینہ سترہ روزکے بعد ۷/ ذی الحجہ کوآپ بصرہ پہنچائے گئے ایک سال تک آپ بصرہ میں قید رہے یہاں کاحاکم ہارون کاچچازادبھائی عیسی بن جعفرتھا، شروع میں تواسے صرف بادشاہ کے حکم کی تعمیل مدنظرتھی، بعدمیں اس نے غورکرناشروع کیاکہ آخر ان کے قیدکئے جانے کاسبب کیاہے؟ اس سلسلہ میں اس کوامام علیہ السلام کے حالات اورسیرت زندگی اوراخلاق واوصاف کی جستجوکاموقع بھی ملا، اورجتنا اس نے امام کی سیرت کامطالعہ کیااتنااس کے دل پرآپ کی بلندی اخلاق اورحسن کردارکااثرقائم ہوتاگیا اپنے ان اثرات سے اس نے ہارون کومطلع بھی کردیا، ہارون پراس کاالٹااثرہواکہ عیسی کے متعلق بدگمانی پیداہوگئی اس لیے اس نے امام موسی کاظم علیہ السلام کو بغدادمیں بلابھیجااورفضل بن ربیع کی حراست میں دیدیااورپھرفضل کارجحان شیعیت کی طرف محسوس کرکے یحی برمکی کواس کے لیے مقررکیامعلوم ہوتاہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے اخلاق واوصاف کی کشش ہرایک پراثرڈالتی تھی اس لیے ظالم بادشاہ کونگرانوں کی تبدیلی کی ضرورت پڑتی تھی سب سے آخرمیں امام علیہ السلام ”سندی بن شاہک“ کے قیدخانہ میں رکھے گئے یہ بہت ہی بے رحم اورسخت دل تھا ملاحظہ ہو
(مناقب جلد ۵ ص ۶۸ ، اعلام الوری ص ۱۸۰ ، کشف الغمہ ص ۱۰۸ ، نورالابصار ص ۱۳۶ ، سوانح امام موسی کاظم ص ۱۵) ۔