🔴 شیعہ گروہ بندی
پیروان اہل بیت(ع) میں سے بعض شیعہ امام صادق(ع) کی حیات میں ہی آپ کے بڑے بیٹے اسمعیل بن جعفر کی امامت کے قائل تھے۔ اسمعیل کا انتقال ہوا تو ان کی موت کا یقین نہین کیا اور انہیں پھر بھی امام سمجھتے رہے۔ امام صادق(ع) کی شہادت کے بعد ان میں سے بعض نے اسمعیل کی حیات سے مایوس ہوکر ان کے بیٹے محمد بن اسمعیل کو امام سمجھا اور اسماعیلیہ کہلائے۔ بعض دوسرے امام صادق(ع) کی شہادت کے بعد عبداللہ افطح کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کی پیروی کی اور فطحیہ کہلائے۔ امام موسی کاظم(ع) کے زمانے کے دوسرے فرقوں میں ناووس نامی شخص کے پیروکاروں کا فرقہ ناووسیہ اور اور آپ کے بھائی محمد بن جعفر دیباج کی امامت کا قائل فرقہ شامل ہیں۔
امام موسی کاظم(ع) کی شہادت کے بعد بھی امام رضا(ع) کی امامت پر اعتقاد نہ رکھنے والے افراد نے امام موسی کاظم(ع) کی امامت پر توقف کیا اور آپ کو مہدی اور قائم قرار دیا اور واقفیہ کہلائے۔[49] مہدویت اور قائمیت کے تفکر کی جڑیں بنیادی شیعہ اصولوں میں پیوست ہیں اور اس کا سرچشمہ خاندان رسالت سے منقولہ احادیث کی ہیں جن کی بنا پر خاندان رسالت کا ایک فرد "قائم" اور "مہدی" کے عنوان سے قیام کر کے دنیا کو عدل و انصاف کا گہوارہ بنائے گا۔
غالیوں کی سرگرمیاں
امام کاظم کے دور امامت میں غالیوں نے بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔اس دور میں فرقہ بشیریہ بنا جو محمد بن بشیر سے منسوب تھا اور یہ شخص امام موسی بن جعفر کے اصحاب میں تھا۔ وہ امام کی زندگی میں امام پر جھوٹ و افترا پردازی کرتا تھا ۔ [50] امام کاظم محمد بن بشیر کو نجس سمجھتے اور اس پر لعنت کرتے تھے.[51]
شیعہ تحریکیں
بنو عباس کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں میں ایک شہید فخّ کے عنوان سے مشہور قیام حسین بن علی بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب کا قیام ہے جن کی تحریک ناکام ہوئی؛ گوکہ اس قیام کا حکم امام(ع) نے نہيں دیا تھا لیکن آپ اس تحریک کی تشکیل سے باخبر تھے اور حسین بن علی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ امام(ع) کی طرف سے جہاد میں استقامت کی تلقین اور حسین بن علی کی شہادت کی خبر دینا، اس بات کی دلیل ہے کہ امام(ع) اس قیام سے آگہی رکھتے تھے۔[52] دیگر علوی تحریکوں میں یحیی بن عبداللہ اور ادریس بن عبداللہ کی تحریکوں کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔[53]
علمی خدمات
امام کاظم سے روایات، مناظرہ جات اور گفتگوئیں شیعہ کتب میں مذکور ہیں ۔ [54][55]
شیعہ منابع میں اکثر امام کاظم سے احادیث منقول ہوئی ہیں ۔جن میں سے اکثر تعداد کلامی چون توحید[56]، بدا[57] اور ایمان[58] نیز اخلاق کے عنوان سے منقول ہیں ۔ [59] اسی طرح جوشن صغیر جیسی مناجات اسی امام سے مذکور ہیں ۔ان سے منقول روایات کی اسناد میں الکاظم، ابیالحسن، ابیالحسن الاول، ابیالحسن الماضی، العالم[60] و العبد الصالح سے امام کو یاد کیا گیا ہے ۔ عزیزالله عطاردی نے ۳،۱۳۴ احادیث امام کاظم سے اکٹھی کی ہیں جنہیں مُسْنَدُ الامام الکاظم کے نام سے اکٹھا کیا گیا ہے [61] اہل سنت عالم دین ابوعمران مروزی نے مسند امام موسی کاظم کے عنوان سے بعض احادیث ذکر کی ہیں ۔ [62]
عقل کے بارے میں امام سے منسوب ایک رسالہ لکھا گیا جس میں ہشام بن حکم کو خطاب کیا گیا ہے ۔[63][64]
فتح بن عبدالله کے سولات کے جواب میں ایک رسالہ توحید کے نام سے امام کے حوالے سے مذکور ہے ۔ [65][66]
علی بن یقطین نے بھی امام موسی بن جعفر سے مسائل دریافت کئے جو مسائل عن ابی الحسن موسی بن جعفر کی صورت میں انہوں نے لکھے ۔[67][68]
مناظرے اور گفتگوئیں
امام کاظم کے مناظرات اور گفتگوئیں مختلف کتب میں مذکور ہوئی ہیں جن میں سے بعض خلفائے بنی عباس ،[69] یہودی دانشمندوں ، [70] مسیحیوں، [71] ابوحنیفہ [72] اور دیگران سے منقول ہیں ۔ باقر شریف قرشی نے تقریبا آٹھ مناظرے اور گفتگوئیں مناظرے کے عنوان کے تحت ذکر کی ہیں ۔[73] امام کاظم (ع) نے مہدی عباسی کے ساتھ فدک اور قرآن میں حرمت خمر کے متعلق گفتگو کی . [74] امام (ع) نے ہارون عباسی سے مناظرہ کیا ۔جب کہ وہ اپنے آپکو پیامبر(ص) سے منسوب کر کے اپنے آپ کو پیغمبر کا رشتہ دار سمجھتا تھا ، امام کاظم(ع) نے اسکے سامنے اسکی نسبت اپنی رشتہ داری کو رسول اکرم سے زیادہ نزدیک ہونے کو بیان کیا۔[75] موسی بن جعفر نے دیگر ادیان کے علما سے بھی مناظرے کئے جو عام طور پر سوال و جواب کی صورت میں تھے جن کے نتیجے میں وہ علما مسلمان ہو گئے ۔ [76]
ابو حنیفہ
روایت کے مطابق ابوحنیفہ نے کسی مسئلے کے استفسار کی خاطر امام صادق(ع) سے ملاقات کی ۔لیکن امام صادق(ع) سے پہلے اسکی نظر امام موسی کاظم پر پڑی جنکا سن 5سال تھا تو اس نے ان سے سوال کیا۔: گناہ خدا سے صادر ہوتا ہے یا بندے سے ؟ امام کاظم(ع) نے جواب میں کہا:گناہ یا تو خدا کی طرف سے صادر ہوتا ہے اور اس میں بندے کی کسی قسم کی کوئی دخالت نہیں ہے پس اس صورت میں بندے کی جانب سے اس میں کسی قسم کی دخالت نہ ہونے کی بنا پر خدا اسے مجازات نہیں کرے گا ۔ یا اس گناہ میں خدا اور بنده دونوں شریک ہیں ۔ اس صورت میں خدا انسان کی نسبت قوی تر ہے اور قوی کی موجودگی میں قوی کو حق حاصل نہیں کہ صرف اپنے ضعیف شریک کو سزا دے ۔ یا گناہ بندے کی جانب سے اور خدا کا اس میں کسی قسم کا دخل نہیں ہے ۔اس صورت میں اگر خدا چاہے تو اسے سزا دے یا اسے بخش دے ۔خدا وہ ذات ہے جس سے ہر حال میں مدد لی جاتی ہے ۔ ابوحنیفہ نے یہ جواب سن کر کہا میرے لئے یہ جواب کافی ہے اور امام صادق کے گھر سے چلا گیا ۔ [77]
بریہہ
شیخ صدوق اور دیگروں کی ہشام بن حکم سے منقول روایت کے مطابق مسیحی علما میں سے بریہہ ایک گروہ کے ہمراہ ہشام کے پاس آیا اور اس نے مناظرہ کیا ۔ ہشام نے کامیابی حاصل کی .پھر وہ سب امام صادق سے ملاقات کرنے کیلئے عراق سے مدینہ آئے۔ امام صادق کے گھر داخل ہوتے ہوئے ان کی ملاقات امام موسی کاظم سے ہوئی ۔بعض روایات کے مطابق ہشام نے امام موسی کاظم سے واقعہ بیان کیا اور ان عیسائیوں کی امام سے گفتگو ہوئی کہ جس کے بعد بریہہ اور اسکی بیوی مسلمان ہو کر امام کے خدمتکار ہوگئے [78]۔ ہشام نے ان کی بات چیت اور مسلمان ہونے کا واقعہ امام صادق کے سامنے بیان کیا تو امام صادق نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ذُرِّیَّهً بَعْضُها مِن بَعْضٍ وَاللهُ سَمیِعُ عَلیِمُترجمہ:جو ایک نسل ہے جن کے بعض بعض سے ہیں (یہ اولاد ہے ایک دوسرے کی) اور خدا بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔ (34)۔ [79]
ہارون عباسی
ہارون پیامبر کی قبر کے پاس آیا اور حاضرین کے سامنے رسولخدا ؐ سے اپنی رشتہ داری ظاہر کرنے کی خاطر میرے چچا کے بیٹے کہہ کر رسول اللہ کو خطاب کیا۔ امام کاظمؑ وہاں موجود تھے آپ نے میرے باپ کہہ کر رسول خدا کو خطاب کیا [80]۔ ایک روایت کی بنا پر ہارون نے امام سے کہا: لوگوں کو کیوں اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ وہ تمہیں پیغمبر کی طرف نسبت دیں یا تم تو رسول اللہ کے بیٹوں میں سے نہیں بلکہ علی کے فرزندوں میں سے ہو ؟ امام نے اسے جواب دیا : اے خلیفہ! اگر پیغمبر زندہ ہو جائیں اور تم سے تمہاری بیٹی کا رشتہ طلب کریں تو تم انہیں رشتہ دو گے ؟ ہارون نے جواب دیا : کیوں نہیں بلکہ میں عرب پر اس بات کی وجہ سے فخر ومباہات کروں گا ۔ امام کاظم نے جواب دیا : لیکن پیغمبر کسی بھی حالت میں مجھ سے میری بیٹی کا رشتہ نہیں مانگیں گے کیونکہ وہ میرے نانا ہیں ۔ [81]
حوالے
نوبختی، فِرَقُ الشّیعۃ، ص77. رسول جعفریان، حیات فکری و سیاسی ائمہ، ص 379-384۔
↑ عاملی ، التحریر الطاوسی ص۵۲۴
↑ کشّی ۱۴۰۹ق رجال ص۴۸۲
↑ کلینی، الکافی، ج 1، ص 366۔
↑ علی اکبر تشیّد، قیام سادات علوی؛ مہدی پیشوائی، سیرہ پیشوایان، ص 426-429.
↑ طبرسی۱۴۰۳ق الاحتجاج ج۲، ص۳۸۵-۳۹۶
↑ مجلسی۱۴۰۳ق بحارالانوار ج۱۰، ص۲۳۴-۲۴۹
↑ کلینی۱۴۰۷ق ،الکافی ج۱، ص۱۴۱
↑ کلینی ۱۴۰۷ق ، الکافی ج۱، ص۱۴۸-۱۴۹
↑ کلینی ،۱۴۰۷ق ، الکافی ج۲، ص۳۸-۳۹
↑ قرشی۱۴۲۹ق ،حیاة الامام موسی بن جعفر ج۲، ص۱۹۰-۲۷۸، ۲۹۷-۳۰۷
↑ کلینی ۱۴۰۷ق الکافی ج۱، ص۱۴۹
↑ عطاردی ۱۴۰۹ق ، مسند امام الکاظم ج۱، مقدمہ
↑ مروزی ۱۴۲۵ق ،مسندالاامام موسی بن جعفر علیہ السلام ص۱۸۷-۲۳۲}}
↑ کلینی ۱۴۰۷ق ،الکافی ج۱، ص۱۳-۲۰
↑ احمدی میانجی|۱۴۲۶ق ، مکاتیب الائمہ ج۴، ص۴۸۳-۵۰۱
↑ احمدی میانجی ۱۴۲۶ق ،مکاتیب الائمہ ج۴، ص۳۵۷-۳۵۹
↑ قرشی۱۴۲۹ق ،حیاة الامام موسی بن جعفر ج۲، ص۲۳۸
↑ طوسی ۱۴۲۰ق ،الفہرست ص۲۷۱
↑ احمدی میانجی ۱۴۲۶ق ،مکاتیب الائمہ ج۴، ص۳۵۷-۳۵۹
↑ ابن شہر آشوب، المناقب، ج۴، ص۳۱۲-۳۱۳. صدوق، عيون أخبار الرضا، ج۱، ص۸۴-۸۵. کلینی، الکافی، ج۶، ص۴۰۶.
↑ مجلسی، بحارالانوار، ج۱۰، ص۲۴۴-۲۴۵.
↑ ابن شہر آشوب، المناقب، ج۴، ص۳۱۱-۳۱۲.
↑ کلینی، الکافی، ج۳، ص۲۹۷.
↑ قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۱، ص۲۷۸-۲۹۴.
↑ کلینی، الکافی، ج۶، ص۴۰۶. حر عاملی و ۱۴۰۹ق، وسائل الشیعہ.
↑ صدوق، عيون أخبار الرضا، ج۱، ص۸۴-۸۵. شبراوی، الاتحاف بحب الاشراف، ص۲۹۵. مجلسی، بحارالانوار، ج۱۰، ص۲۴۱-۲۴۲.
↑ مجلسی، بحارالانوار، ج۱۰، ص۲۴۴-۲۴۵. ابن شہر آشوب، المناقب، ج۴، ص۳۱۱-۳۱۲. صدوق، توحید، ص۲۷۰-۲۷۵.
↑ ابن شعبہ حرانی، تحف العقول، ص۴۱۱-۴۱۲. مجلسی، بحارالانوار، ج۱۰، ص۲۴۷.
↑ صدوق، توحید، ص۲۷۰-۲۷۵. مجلسی، بحارالانوار، ج۲۶، ص۱۸۰، ۱۸۳-۱۸۴.
↑ کلینی، الکافی، ج۱، ص۲۲۷.
↑ ابن اثیر، الکامل، ج۶، ص۱۶۴.
↑ صدوق، عيون أخبار الرضا، ج۱، ص۸۴-۸۵.
🔴 موضوع امام موسی کاظم علیہ سلام کے دور میں شیعوں کی غفلتیں کیا کیا تھیں
وبهذا الاسناد، عن محمد بن سليمان (٤)، عن إبراهيم بن عبد الله الصوفي قال: حدثني موسى بن بكر الواسطي قال: قال لي أبو الحسن (عليه السلام) لو ميزت شيعتي لم أجدهم إلا واصفة (٥) ولو امتحنتهم لما وجدتهم إلا مرتدين ولو تمحصتهم (٦) لما خلص من الألف واحد ولو غربلتهم غربلة لم يبق منهم إلا ما كان لي إنهم طال ما اتكوا على الأرائك، فقالوا: نحن شيعة علي، إنما شيعة علي من صدق قوله فعله
امام موسی کاظم علیہ سلام نے اگر میں اپنے شیعوں پر نظر دوڑاؤں تو مجھے صرف باتیں بنانے والے ہی ملیں گےاور اگر ان کو آزماؤں تو سب مرتد ہو جائیں گے، اور اگر ان کو پرکھوں تو ہزاروں میں سے ایک آدمی بھی خالص ہاتھ نہ آے گا اور اگر چھانوں تو میرے متعلقین کے علاوہ کوئی نہیں بچے گا، مدتوں سے وہ تختوں پر تکیہ لگائے یہی کہے جا رہے ہیں کہ ہم علیؑ کے شیعہ ہیں,,
علی علیہ السلام کا شیعہ تو صرف وہ ہے جس کا کردار اس کی گفتار کی تصدیق کرے....!
📚 اصول کافی جلد ۸ صفحہ ٢٢٨ ح ٢٦٠
🔴 ہارون کے دربار میں امام موسی کاظم (علیہ السلام) کا سپاہی علی بن یقطین
علی بن یقطین ،ساتویں امام موسی کاظم (علیہ السلام) کے ممتاز شاگرد تھے ۔ علی بہت ہی پاک و پاکیزہ اور گرانقدر شخص تھے اور امام موسی کاظم (علیہ السلام) کے نزدیک بہت ہی بلند وبالا مقام رکھتے تھے ۔ شیعوں کے یہاں ان کا بہت زیادہ احترام پایا جاتا ہے (١) ۔ علی بن یقطین کی بنی امیہ کی حکومت کے اختتام پر ١٢٤ ہجری میں شہر کوفہ میں ولادت ہویی ۔ ان کے والد یقطین بنی عباس کے طرفدار تھے ، اسی وجہ سے (بنی امیہ کے خلیفہ ) ""مروان بن حمار"" نے ان کو گرفتار کرنا چاہا لیکن یہ فرار ہوگیے ۔ یقطین کی زوجہ اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنے دونوں بیٹوں "" علی اور عبید"" کو لے کر مدینہ چلی گییں، بنی امیہ کی حکومت کے زوال اور بنی عباس کے حکومت سنبھالنے کے بعد یقطین کوفہ میں واپس آگیے اور ""ابوالعباس سفاح"" کے ساتھ مل کیے ۔ ان کی زوجہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ کوفہ واپس آگییں (٢) ۔ جی ہاں ! علی بن یقطین نے کوفہ میں پرورش پایی اور ساتویں راہنما امام موسی کاظم (علیہ السلام) کے شاگردوں میں قرار پایے ۔ علم رجال اور مورخین کے علماء کی گواہی کے مطابق علی بن یقطین کا شمار امام موسی کاظم کے برجستہ اور ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے اور انہوں نے آپ سے بہت زیادہ استفادہ اور بہت سی احادیث نقل کی ہیں لیکن امام صادق (علیہ السلام) سے صرف ایک حدیث نقل کی ہے (٣) ۔ (ان کی شخصیت بہت ہی مشہور تھی اور آپ کاشمار اپنے زمانہ کے علمی افراد میں ہوتا تھا ، آپ کی مندرجہ ذیل تالیفات ہیں :
١۔ ما سیل عنہ الصادق (علیہ السلام) من الملاحم (٤) ۔
٢۔ مناظرہ الشاک بحضرتہ (٥)۔
٣۔ وہ مسایل جو امام موسی کاظم (علیہ السلام) سے حاصل کیے تھے (٦) ۔
تاریخ میں علی بن یقطین کا ایک افتخار یہ ہے کہ وہ ہر سال بہت سے لوگوں کو اپنی نیابت میں خانہ خدا کی زیارت کے لیے بھیجتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کو دس سے بیس ہزار درہم دیتے تھے (١٤) ۔ ہر سال ان کی تعداد کبھی ١٥٠ سے زیادہ ، کبھی ٢٥٠ سے اور کبھی ٣٠٠ سے زیادہ ہوتی تھی (١٥) ۔اس عمل کو وہ اسلام میں حج کی خاص فضیلت اور ا ہمیت کو مدنظر رکھتے ہویے انجام دیتے تھے اور یہ علی بن یقطین کے تقوی اورزہد پر بہترین دلیل ہے، لیکن اگر حج پر جانے والوں کی کُل تعداد اور ان کو جو پیسہ دیا جاتا تھا ، کو دیکھا جایے تو اس مسیلہ میں اور بھی زیادہ گہرایی نظر آتی ہے ۔ اگر نیابت کے ذریعہ حج پر جانے والوں کے گروہ اور ان کو دییے جانے والے پیسہ کا حساب کیا جایے مثلا ان کی ایک سال میں کُل تعداد دو سو افراد اور ان کو جو پیسہ ہر سال دیا جاتا ہے وہ دس ہزار درہم ہوں تو یہ سب تقریبا بیس لاکھ درہم ہوتے ہیں ۔ دوسری طرف یہ پیسہ جو ہر سال ادا کیا جاتا تھا یقینا علی بن یقطین کے خرچ کا ایک حصہ اور ان کے جاری اور زکات و خمس اور تمام مستحبی صدقات سے بچنے کے بعد رہتا ہوگا ۔ اس حساب کو مدنظر رکھتے ہویے علی بن یقطین کے پاس کس قدر مال ہوگا جو اس خرچ کو برداشت کرتا ہے ؟
شیعہ علماء میں سب سے پہلے مرحوم شیخ بہایی نے اس مسیلہ کی طرف توجہ کی ہے اورانہوں نے ایک بہت ہی لطیف نکتہ بیان کیا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ امام موسی کاظم (علیہ السلام) نے علی بن یقطین کو خراج اور مسلمانوں کے بیت المال میں تصرف کرنے کی اجازت دے رکھی تھی اور علی بن یقطین اس مال کو حج کی اجرت کے عنوان سے شیعوں کو دیتے تھے تاکہ دشمنوں اور مخالفین کواعتراض کرنے کا کویی بہانہ نہ مل سکے ۔ اس بناء پر نواب حج کو حج پر بھیجنے کا پروگرام بہت ہی منظم تھا اور علی بن یقطین اس کام کے ذریعہ شیعوں کی اقتصادی بنیاد کو قوی کرتے تھے ۔ اس بات کی تایید کے لیے یہ بات کافی ہے کہ نواب حج کے درمیان بہت سی بڑی شخصیتیں جیسے ""عبدالرحمن بن حجاج"" اور عبداللہ بن یحیی کاھلی "" نظر آتے ہیں جو کہ امام علیہ السلام کے خاص صحابی تھے اور حکومت سے دور اور اس کی خصوصیات سے محروم تھے ۔
حوالہ جات:
1. شيخ طوسى، الفهرست، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 234.
2. شيخ طوسى، الفهرست، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 234. نجاشى، فهرست اسماء مصنفى الشيعه، قم، مكتبه الداورى، ص 194.
3. نجاشى، فهرست اسماء مصنفى الشيعه، قم، مكتبه الداورى، ص 195.