سیرت
امام موسی کاظم کی خدا سے ارتباط ، لوگوں اور حاکمان وقت کے روبرو ہونے کی روشیں مختلف تھیں۔خدا سے ارتباط کی روش کو سیرت عبادی ، حاکمان وقت اور لوگوں سے ارتباط کی روش کو سیاسی اور اخلاقی روش سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
عبادی سیرت
شیعہ و سنی منابع کے مطابق امام کاظم (ع)بہت زیادہ اہل عبادت تھے ۔اسی وجہ سے انکے لئے عبد صالح استعمال کیا جاتا ہے ۔[82]بعض روایات کی بنا پر حضرت امام موسی کاظم اس قدر زیادہ عبادت کرتے تھے کہ زندانوں کے نگہبان بھی اس کے تحت تاثیر آجاتے ۔[83] شیخ مفید موسی بن جعفر کو اپنے زمانے کے عابد ترین افرادمیں سے شمار کرتے ہیں ۔ان کے بقول گریہ کی کثرت کی وجہ سے آپ کی ریش تر ہو جاتی ۔ وہ عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِكَ فَلْيَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِكَ کی دعا بہت زیادہ تکرار کرتے تھے۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرَّاحَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ وَ الْعَفْوَ عِنْدَ الْحِسَابِ کی دعا سجدے میں تکرار کرتے ۔[84] یہانتک کہ ہارون کے حکم سے جب زندان تبدیل کیا جاتا تو اس پر خدا کا شکر بجا لاتے کہ خدا کی عبادت کیلئے پہلے سے زیادہ فرصت مہیا کی ہے اور کہتے : خدایا ! میں تجھ سے عبادت کی فرصت کی دعا کرتا تھا تو تو نے مجھے اسکی فرصت نصیب فرمائی پس میں تیرا شکر گزار ہوں ۔[85]
اخلاقی سیرت
مختلف شیعہ اور سنی منابع میں امام موسی کاظم کی بردباری[86] اور سخاوت کا تذکرہ موجود ہے ۔[87]شیخ مفید نے انہیں اپنے زمانے کے ان سخی ترین افراد میں سے شمار کیا ہے کہ جو فقیروں کیلئے خود خوراک لے کر جاتے تھے[88]. ابن عنبہ نے امام موسی کاظم کی سخاوت کے متعلق کہا ہے :وہ رات کو اپنے ہمراہ درہموں کا تھیلا گھر سے باہر لے جاتے ہر کسی کو اس میں سے بخشتے یا جو اس بات کے منتظر ہوتے تو انہیں بخشتے ۔اس بخشش کا سلسلہ یہانتک جاری رہا کہ زمانے میں ان کے درہموں کا تھیلا ایک ضرب المثل بن گیا تھا ۔ [89] اسی طرح کہا گیا ہے کہ موسی بن جعفر ان لوگوں کو بھی بخشش سے محروم نہیں رکھتے تھے جو انہیں اذیت دیتے تھے ۔جب انہیں خبر دی جاتی کہ فلاں انہیں تکلیف و آذار پہچانا چاہتا ہے تو اسکے لئے ہدیہ بھجواتے ۔[90] اسی طرح شیخ مفید نے امام موسی کاظم کو اپنے گھر اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کی سب سے زیادہ سعی کرنے والا سمجھتے ہیں ۔ [91]
امام موسی کاظم کو کاظم کا لقب دینے کی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے غصے کو کنٹرول کرتے تھے ۔[92] مختلف روایات میں آیا ہے کہ آپ دشمنوں اور اپنے ساتھ بدی کرنے والوں کے مقابلے میں اپنا غصہ پی جاتے تھے ۔[93] کہا گیا ہے کہ عمر بن خطاب کی اولاد میں سے کسی نے آپ کے سامنے حضرت علی کی توہین کی تو آپ کے ساتھیوں نے اس پر حملہ کرنا چاہا لیکن امام نے انہیں اس سے روک دیا پھر اس کے کھیت میں اسکے پاس گئے.اس شخص نے آپ کو دیکھتے ہی شور مچانا شروع کر دیا کہ کہیں آپ اس کی فصل کو خراب نہ کر دیں ۔ امام اسکے قریب ہوئے اور خوش خلقی سے پوچھا کہ اس کھیت میں تم نے کس قدر خرچ کیا ہے ؟شخص نے جواب دیا : ۱۰۰ دینار!۔ پھر پوچھا : اس سے کتنی مقدار فصل حاصل ہو گی ؟ شخص نے جواب دیا :غیب نہیں جانتا ہوں . امام کاظم نے سوال : کس قدر اندازے کی امید ہے؟ شخص نے جواب دیا: ۲۰۰ دینار! امام نے اسے ۳۰۰ دینار دیتے ہوئے کہا : ۳۰۰ دینار تمہارے لئے ہے اور ابھی فصل تمہارے لئے باقی ہے ۔ پھر مسجد گئے . اس شخص نے اپنے آپ کو امام سے پہلے مسجد پہنچایا اور امام کو آتے ہوئے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور اس آیت کی بلند آواز میں تلاوت کی : اللَّه أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ خدا بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے ۔ [ انعام–۱۲۴] [94]
بشر حافی نے مشائخ صوفیہ کا مرتبہ حاصل کرنے کے بعد آپ کے کلام اور اخلاق سے متاثر ہو کر توبہ کی ۔ [95]
سیاسی سیرت
بعض منابع کہتے ہیں کہ امام تعاون نہ کرنے اور مناظروں جیسے ذرائع کے ساتھ خلفائے بنی عباس کی حکومت کے ناجائز ہونے کو بیان کرتے اور اس حکومت کی نسبت لوگوں کے اعتماد کو کم کرنے کی کوشش کرتے [96]۔ درج ذیل مقامات کو نمونے کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے :
عباسی خلفا جب اپنی حکومت کو مشروعیت بخشنے کی خاطر اپنی نسبت اور نسب رسول خدا سے جوڑتے اور یہ ظاہر کرتے کہ بنو عباس رسول خدا کے نزدیکی رشتہ داروں میں سے ہیں جیسا کہ امام اور ہارون کے درمیان ہونے والی گفتگو میں ہوا ،تو امام موسی کاظم آیت مباہلہ سمیت قرآنی آیاتسے استناد کرتے ہوئے حضرت فاطمہ کے ذریعے اپنے نسب کو رسول خدا سے ملا کر ثابت کرتے ہیں ۔[97]
جب مہدی عباسی رد مظالم کر رہا تھا تو آپ نے اس سے فدک کا مطالبہ کیا [98] . مہدی نے آپ سے تقاضا کیا کہ آپ فدک کے حدود معین کریں تو امام نے اسکے ایسے حدود معین کیے کہ جو انکی حکومت کے برابر تھے[99] ۔
ساتویں امام اپنے اصحاب کو عباسی حکومت سے تعاون نہ کرنے کی سفارش کرتے چنانچہ آپ نے صفوان جمال کو منع کیا کہ وہ اپنے اونٹ ہارون کو کرائے پر مت دے[100] ۔ اسی دوران ہارون الرشید کی حکومت میں وزارت پر فائز علی بن یقطین کو عباسی حکومت میں باقی رہنے کا کہا تا کہ وہ شیعوں کی خدمت کر سکے[101] ۔
اسکے باوجود تاریخی مستندان میں حضرت امام موسی کاظم کی طرف سے عباسی حکومت کی کھلم کھلا مخالفت کی کوئی خبر مذکور نہیں ہوئی ہے .آپ اہل تقیہ تھے اور اپنے شیعوں کو اسی کی وصیت کرتے ٍ جیسا کہ آپ نے مہدی عباسی کو اسکی ماں کی وفات پر تسلیت کا خط لکھا[102] ۔ روایت کے مطابق جب ہارون نے آپ کو طلب کیا تو آپ نے فرمایا :حاکم کے سامنے تقیہ واجب ہے لہذا میں اسکے سامنے جا رہاہوں ۔اسی طرح آپ آل ابی طالب کی شادیوں اور نسل کو بچانے کی خاطر ہارون کے ہدایاجات قبول کرتے[103]۔ یہانتک کہ آپ نے علی بن یقطین کو خط لکھا کہ خطرے سے بچاؤ کی خاطر کچھ عرصہ کیلئے اہل سنت کے مطابق وضو کیا کرے [104]۔
علویوں کے قیام
حضرت موسی بن جعفر کے زمانے میں عباسیوں کی حکومت کے دوران علویوں نے نے متعدد قیام کئے ۔عباسیوں نے اہل بیت کی حمایت اور طرفداری کا نعرہ بلند کر کے قدرت حاصل کی تھی لیکن کچھ ہی مدت میں علویوں کے سخت دشمن بن گئے ۔لہذا اس بنا پر بہت سے علویوں کو قتل کیا اور بہت سوں کو زندانی کیا[105] ۔ عباسیوں کی اس سخت گیری کی وجہ سے بہت سے علویوں نے انکے خلاف قیام کا اقدام کیا ۔قیام نفس زکیہ ،ادریسیوں کی حکومت کی تشکیل اور شہید فخ کا قیام انہی قیاموں میں سے ہیں ۔ قیام فخ سال ۱۶۹ق ہجری میں موسی بن جعفر کی امامت اور ہادی عباسی کی خلافت سے متصل ہے[106] ۔ امام نے ان قیاموں کا حصہ نہیں بنے اور نہ ہی امام کی جانب سے ان قیاموں کی واضح طور پر کہیں تائید نقل ہوئی ہے ۔یہانتک کہ یحیی بن عبدالله نے طبرستان میں قیام کے بعد امام کو ایک خط میں اسکی تائید نہ کرنے کا گلہ کیا[107] ۔
قیام فخ مدینہ میں رونما ہوا ،اسکے متعلق دو نظریے پائے جاتے ہیں :
ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ آپ اس قیام کے موافق تھے ۔اس نظریے کی تائید میں شہید فخ کے بارے میں امام کے اس خطاب کو دلیل کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے : اپنے کام میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرو کیونکہ لوگ ایمان کا اظہار کر رہے ہیں لیکن وہ اندرونی پر شرک کر رہے ہیں۔[108]
دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ یہ قیام امام کا مورد تائید نہیں تھا[109]۔
بہر حال جب امام نے شہید فخ کا سر دیکھا تو کلمہ استرجاع کی تلاوت کی اور اس کی تعریف کی [110]۔ ہادی عباسی قیام فخ کو امام کے حکم سے سمجھتا تھا اسی وجہ سے ہادی نے امام کو قتل کرنے دھمکی بھی دی تھی۔[111]
وکیل اور اصحاب
امام موسی کاظم کے اصحاب کی مشخص تعداد معلوم نہیں ہے ۔ان کی تعداد میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے :
شیخ طوسی ان اصحاب کی تعداد ۲۷۲ ذکر کی ہے.[112]
برقی نے انکی تعداد ۱۶۰ افراد شمار کی ہے .
قرشی برقی کی تعداد: ۱۶۰ کو درست نہیں سمجھتے ہیں اور انہوں نے خود[113] ۳ افراد ذکر کی ہے ۔
علی بن یقطین ہشام بن حکم، ہشام بن سالم، محمد بن ابیعمیر، حماد بن عیسی، یونس بن عبدالرحمن ، صفوان بن یحیی و صفوان جمال امام کاظم کے ان اصحاب میں سے ہیں کہ جنہیں بعض نے اصحاب اجماع میں شمار کیا[114] ۔ امام کی شہادت کے بعد بعض اصحاب جیسے علی بن ابی حمزه بطائنی ، زیاد بن مروان اور عثمان بن عیسی نے علی بن موسی الرضا (ع) کی امامت کو قبول نہیں کیا اور امام موسی کاظم کی امامت پر توقف کیا [115]۔ یہ گروہ واقفیہ کے نام سے معروف ہوا ۔ البتہ ان میں سے بعض نے دوبارہ امام علی بن موسی رضا کی امامت کو قبول کر لیا ۔
وکالت
شعبہ وکالت
امام کاظم نے اپنے زمانے میں شیعوں کے باہمی رابطے اور انکی اقتصادی توان بڑھانے کی خاطر امام جعفر صادق کے زمانے میں قائم ہونے والے وکالت کے شعبے کو وسعت دی ۔ امام موسی کاظم نے کچھ اصحاب کو مختلف جگہوں پر وکیل کے عنوان سے بھیجا۔ کہا گیا ہے کہ منابع میں ۱۳ افراد کے نام وکیل کے طور پر ذکر ہوئے ہیں [116]۔ بعض منابع کے مطابق کوفہ میں علی بن یقطین اور مفضل بن عمر ،بغداد میں عبدالرحمان بن حجاج، قندھار میں زیاد بن مروان، مصر میں عثمان بن عیسی، نیشاپور میں ابراہیم بن سلام اور اہواز میں عبدالله بن جندب امام کی جانب سے وکیل تھے [117]۔ مختلف روایات کے مطابق شیعہ حضرات اپنا خمس وکلا کے ذریعے امام موسی کاظم تک پہنچاتے یا خود امام کو دیتے ۔ شیخ طوسی نے کچھ وکلا کے واقفی ہونے کا سبب ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لوگ اپنے پاس جمع شدہ مال کی محبت میں واقفی ہو گئے[118]۔ علی بن اسماعیل بن جعفر نے ہارون عباسی کو ایک خبر دی جس کی وجہ سے امام موسی کاظم کو زندان جانا پڑا،اس خبر میں آیا ہے کہ اسے شرق و غرب سے بہت زیادہ مال بھجوایا گیا ،وہ بیت المال اور خزانے کا صاحب تھا کہ جس میں مختلف حجم کے بہت زیادہ سکے پائے گئے[119]۔
شیعوں کے ساتھ ارتباط کی ایک روش خطوط کی تھی کہ جو انہیں فقہی ،اعتقادی، وعظ،دعا اور وکلا سے مربوط مسائل کے سلسلے میں لکھے جاتے تھے ۔ یہانتک نقل ہوا کہ آپ زندان سے اپنے اصحاب کو خطوط لکھتے[120] اورانکے سوالوں کے جواب دیتے تھے۔[121]
اہل سنت کے نزدیک امام کی منزلت
اہل سنت شیعوں کے اس ساتویں امام کا ایک عالم دین کی حیثیت سے احترام کرتے ہیں ۔ان کے بعض جید علما نے ان کے علم و اخلاق کی تعریف کی[122] نیز انہوں نے انکی بردباری، سخاوت، کثرت عبادت اور دیگر اخلاقی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا ہے [123]۔ اسی طرح انکی بردباری اور عبادت کی روایات انہوں نے نقل کی ہیں[124]۔ اہل سنت کے سمعانی جیسے جید علما آپ کی قبر کی زیارت کیلئے جاتے تھے [125]۔ اور ان سے توسل کرتے تھے .علمائے اہل سنت میں سے ابوعلی خلال نے کہا :جب بھی اسے کوئی مشکل پیش آتی وہ آپ کی قبر کی زیارت کیلئے جاتا اور ان سے توسل کرتا یہانتک کہ اس کی مشکل برطرف ہو جاتی[126]۔ شافعی نے امام کو شفا بخش دارو کہا ہے۔[127] ۔
مقبرہ
حرم کاظمین
بغداد کے پاس کاظمین میں امام کاظم(ع) اور امام جواد(ع) کے مقبرے حرم کاظمین کے نام سے مشہور ہیں ۔ مسلمانوں اور خاص طور شیعوں کیلئے زیارگاہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔امام رضا(ع) سے منقول روایت کے مطابق امام موسی کاظم کی زیارت کا ثواب رسول اللہ، حضرت علی(ع) اور امام حسین(ع) کی زیارت کے برابر ہے[128] .
حوالے
، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۲۹. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۴۱۴.
↑ بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۳۳-۳۲.
↑ مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۳۲-۲۳۱.
↑ مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۴۰.
↑ ابن اثیر، الکامل، ج۶، ص۱۶۴. ابن جوزی، تذکرة الخواص، ص۳۱۲.
↑ بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۳۰-۳۳. قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۲، ص۱۵۴-۱۶۷.
↑ مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۳۲-۲۳۱
↑ ابن عنبہ، عمده الطالب، ص۱۷۷..
↑ بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۲۹.
↑ مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۳۲.
↑ ابن اثیر، الکامل، ج۶، ص۱۶۴. ابن جوزی، تذکرة الخواص، ص۳۱۲.
↑ مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۳۳. قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۲، ص۱۶۲-۱۶۰.
↑ بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۳۰.
↑ حاج حسن، باب الحوائج، ص۲۸۱. حلی، منہاج الکرامہ، ص۵۹.
↑ جعفریان، حیات سیاسی و فکری امامان شیعہ، ص۴۰۶.
↑ صدوق، عيون أخبار الرضا، ج۱، ص۸۴-۸۵. شبراوی، الاتحاف بحب الاشراف، ص۲۹۵.
↑ طوسی، تہذیب الاحکام، ج۴، ص۱۴۹.
↑ قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ص۴۷۲.
↑ کشّی، رجال، ص۴۴۱.
↑ کشّی، رجال، ص۴۳۳.
↑ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۸، ص۱۳۴.
↑ صدوق، عیون اخبارالرضا، ج۱، ص۷۷.
↑ مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۲۷-۲۲۸.
↑ اللہ اکبری، رابطہ علویان و عباسیان، ص۲۲-۲۳.
↑ جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ص۳۸۵-۳۸۴.
↑ کلینی، الكافى، ج۱، ص۳۶۷.
↑ کلینی، الکافی، ج۱، ص۳۶۶. مامقانی، تنقیح المقال، ج۲۲، ص۲۸۵.
↑ جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ص۳۸۹.
↑ اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۳۸۰.
↑ قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۱، ص۴۹۴-۴۹۶.
↑ طوسی، رجال، ص۳۲۹-۳۴۷.
↑ قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۲، ص۲۳۱.
↑ قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۲، ۲۳۱-۳۷۳.
↑ طوسی، الغیبہ، ص۶۵-۶۴.
↑ جباری، امام کاظم و سازمان وکالت، ص۱۶.
↑ جباری، سازمان وکالت، ص۴۲۳-۵۹۹.
↑ طوسی، الغیبہ، ص۶۵-۶۴.
↑ قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۲، ص۴۵۵.
↑ کلینی، الكافی، ج۱، ص۳۱۳.
↑ امین، اعیان الشیعہ، ج۱، ص۱۰۰. جباری، امام کاظم و سازمان وکالت، ص۱۶.
↑ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۵، ص۲۷۳.
↑ ابن عنبہ و ۱۴۱۷ق. بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۲۹. ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ص۳۱۲. ابن اثیر، الکامل، ج۶، ص۱۶۴. شامی، الدرالنظیم، ص۶۵۱-۶۵۳.
↑ بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۲۹-۳۳.
↑ سمعانی، الانساب، ج۱۲، ص۴۷۹.
↑ بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱، ص۱۳۳.
↑ کعبی، الامام موسی بن الکاظم علیہ السلام سیره و تاریخ، ص۲۶۱.
↑ کلینی، الکافی، ج۴، ص۵۸۳.