موسی بن جعفر عليہ السلام (128-173 ہجری قمری) جو "امام کاظم(ع)" کے نام سے معروف ہیں، شیعیان اہل بیت(ع) کے ساتویں امام ہیں۔ سنہ 128 ہجری کو ایک ایسے زمانی میں جب حکومت و خلافت بنی امیہ سے بنی عباس کی طرف منتقل ہو رہی تھی، آپ نے اس دنیا میں قدم رکھا اور سن 148 ہجری قمری کو اپنے والد ماجد امام جعفر صادق(ع) کی شہادت کے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے۔ آپ کی 35 سالہ امامت کے دوران بنی عباس کے خلفاء منصور، ہادی، مہدی اور ہارون رشید بر سر اقتدار رہے ہیں۔ منصور عباسی اور مہدی عباسی کے دور خلافت میں آپ نے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور سن 183 ہجری قمری کو سندی بن شاہک کے زندان میں جام شہادت نوش کیا یوں منصب امامت آپ کے فرزند ارجمند امام رضا علیہ السلام کی طرف منتقل ہو گئی۔
امام کاظم کی زندگی بنی عباس کی اوج اقتدار کے زمانے میں گزری ہے اس بنا پر آپ کو تقیہ سے کام لیتے تھے اور اپنے پیروکاروں کو بھی تقیہ کرنے کی سفارش کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی زندگی میں نہ بنی عباس کے حکمرانوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام دیکھنے میں آتی ہے اور نہ ان کے مقابلے میں چلائی جانے والی علوی تحریکوں جیسے قیام شہید فخ وغیرہ کی صریح حمایت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود آپ بنی عباس کے ساتھ ہونے والی مناظرات اور علمی بحث و مباحثوں میں بنی عباس سے خلافت کی مشروعیت کو سلب کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔
اسی طرح عیسائی اور یہودی علماء کے ساتھ بھی آپ(ع) کے مختلف مناظرات اور علمی گفتگو تاریخی اور حدیثی منابع میں ذکر ہوئی ہیں۔ دوسرے ادیان و مذاہب کے علماء کے ساتھ آپ(ع) کے مناظرات مد مقابل کے پوچھے گئے سوالات اور اعتراضات کے جواب پر مشتمل ہوا کرتی تھیں۔ مسند الامام الکاظم(ع) میں آپ سے منقول 3000 ہزار سے زائد احادیث جمع کی گئی ہیں جن میں سے بعض احادیث کو اصحاب اجماع میں سے بعض نے نقل کیا ہے۔ اسی طرح آپ نے سازمان وکالت کی تشکیل اور اسے مختلف مناطق میں وسعت دینے کیلئے مختلف افراد کو وکیل کے عنوان سے ان علاقوں میں مقرر کئے تھے۔ دوسری طرف سے آپ(ع) کی زندگی شیعہ مذہب میں مختلف دھڑہ بندیوں کے ظہور کے ساتھ ہمزمان تھی اور اسماعیلیہ، فطحیہ اور ناووسیہ جیسے فرقے آپ کی حیات مبارکہ ہی میں وجود میں آگئے جبکہ واقفیہ نامی فرقہ آپ کی شہادت کے بعد وجود میں آگیا۔
شیعہ اور سنی منابع میں آپ کے علم، عبادت، بردباری اور سخاوت کی تعریف تمجید کے ساتھ ساتھ آپ کو کاظم اور عبد صالح کے لقب سے یاد کرتے ہیں ۔ بزرگان اہل سنت آپ کی ایک دین شناس ہونے کے عنوان سے احترام کرتے ہیں اور شیعوں کی طرح بعض اہل سنت بھی آپ کی زیارت کیلئے جاتے ہیں۔ آپ کا مزار اپنے نواسے امام جواد علیہ السلام کے ساتھ بغداد کے نزدیک واقع ہے جو اس وقت حرم کاظمین کے نام سے مشہور پوری دنیا کے مسلمانوں خاص طور پر شیعیان کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
نسب، کنیت ، لقب
نسب:موسی بن جعفر بن محمد بن علی زین العابدین بن حسین بن علی بن ابی طالب۔
کنیت:ابو ابراہیم، ابو الحسن اور ابوعلی۔
لقب: آپ کو دوسروں کے سامنے غصہ پی جانے کی بنا پر کاظم[1][2] اور کثرتِ عبادت کی وجہ سے عبد صالحکا لقب دیا گیا.[3] باب الحوائج نیزآپ کے القاب میں سے ہے۔ [4][5][6][7] اور مدینے کے لوگ انہیں زین المجتہدین کے لقب سے یاد کرتے .[8]
اہل سنت کا مشہور عالم ابن حجر ہیتمی (متوفیٰ 974ہجری) رقمطراز ہے: آپ بہت زیادہ درگذر کرنے اور بردباری کی وجہ سے "کاظم" کہلائے اور عراقیوں کے نزدیک باب الحوائج عند اللہ (یعنی اللہ کے نزدیک حاجات کی برآوری کرنے والے) کے عنوان سے مشہور تھے۔ اور اپنے زمانے کی عابدترین، دانا ترین و عالم ترین اور انتہائی فیاض شخصیت کے مالک تھے۔[9]
انگشتریوں کے نقش
امام موسی کاظم علیہ السلام کی انگشتریوں کے لئے دو نقش:الْمُلْكُُ للہِ وَحْدَه[10] اور حَسبِيَ اللهُ منقول ہیں۔[11]
ولادت
امام کاظم(ع) اتوار 7 صفر سنہ 128 یا 129[12] ہجری کو حضرت امام صادق کی اپنی زوجہ کے ہمراہ حج سے واپسی پر مکہ اور مدینہ کے درمیان ابواء کے مقام پر پیدا ہوئے تاہم بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپ(ع) مدینہ میں پیدا ہوئے ہیں۔[13]
در محاسن میں برقی کی روایت کے مطابق ، امام صادق(ع) نے اس نومولود کی ولادت کے بعد تین دن تک عمومی ضیافت کا بندوبست کیا۔[14]
روز ولادت میں اختلاف ہے بعض نے مہینے اور دن کے بغیر صرف مقام ولادت ذکر کیا ہے [15][16][17]بعض نے کہا ہے : کسی نے ولادت کا مہینہ ذکر نہیں کیا ہے بلکہ صرف سال ذکر کیا ہے .[18][19] لیکن یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ طبری نے انکی ولادت ماه ذی الحجہ[20][21] اور بعض جیسے طبرسی 7ماہ ماه صفر سمجھتے ہیں.[22]
امام موسی کاظم(ع) 25 رجب سنہ 183 ہجری کو بغداد میں شہید ہوئے۔[23]
آپ(ع) متوسط القامہ، نورانی چہرے کے مالک تھے۔ آپ کے چہرے کی رنگت گندمی ، ڈاڑھی گھنی اور سیاہ تھی۔[24] شیخ مفید لکھتے ہیں: آپ(ع) اپنے زمانے کی عابد ترین، فقیہ ترین، سخی ترین اور بزرگوار ترین شخصیت سمجھے جاتے تھے۔[25]
موسی بن جعفر(ع) کی ولادت امویوں سے عباسیوں کی طرف حکومت کے منتقل ہوتے ہوئی .آپ کا سن چار سال تھا کہ پہلا عباسی خلیفہ مسند حکومت پر بیٹھا ۔ منابع تاریخی میں امام کاظم کی زندگی کے امامت سے پہلے دور کے متعلق کوئی معلومات نہیں ہے البتہ بچپنے میں ابوحنیفہ[26] [27] اور د دوسرے ادیان کے علما سے مدینہ میں ہونے والی چند گفتگوئیں مذکور ہیں۔ [28] [29]
مناقب کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ امام ایک اجنبی شخص کی حیثیت سے شام کے ایک دیہات میں وارد ہوئے تو ایک راہب سے گفتگو ہوئی جس کے نتیجے میں راہب ، اسکی بیوی اور اطرافیوں بھی مسلمان ہوئے ۔ [30] اسی طرح حج اور عمرے کے بارے میں کچھ روایات مذکور ہیں ۔ [31] چند مرتبہ خلفائے عباسی کی طرف سے بغداد امام احضار ہوئے .اسکے علاوہ امام کی ساری زندگی مدینہ میں رہے ۔
ازواج اور اولاد
آپ کی ازواج کی تعداد واضح نہیں ہے لیکن منقول ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کنیزیں ہیں جنہیں آپ خرید لیتے تھے اور پھر انہيں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیتے تھے۔ ان میں سب سے پہلی خاتون امام رضا(ع) کی والدہ نجمہ خاتون ہیں۔[32] آپ کے فرزندوں کی تعداد کے بارے میں تاریخی روایات مختلف ہیں۔ شیخ مفید کا کہنا ہے کہ امام کاظم(ع) کی 37 اولادیں ہیں جن میں 18 بیٹے اور 19 بیٹیاں شامل ہیں:[33]
علی بن موسى الرضا عليہما السلام
إبراہيم
عباس
قاسم، ان سب کی والدہ ام ولد (نجمہ خاتون) تھیں۔
إسمعيل
جعفر
ہارون
حسين، ان کی والدہ ام ولد تھیں۔
أحمد
محمد
حمزة، جن کی والدہ ام ولد تھیں۔
عبد اللہ
إسحق
عبيد اللہ
زيد
حسن
فضل
سليمان، ان کی والدہ ام ولد تھیں۔
فاطمۂ كبرى
فاطمۂ صغرى
رقيہ
حكيمہ
أم أبيہا
رقيہ صغرى
كلثوم
أم جعفر
لبابہ
زينب
خديجہ
عليّہ
آمنہ
حسنہ
بريہہ
عائشہ
أم سلمہ
ميمونہ
أم كلثوم، ان کی مائیں بھی ام ولد ہیں۔
علی بن موسی(ع)، اعظم و افضل اولاد ہیں جن کا مدفن مشہد مقدس میں ہے۔
احمد بن موسی (ع) معروف بہ شاہ چراغ کا مدفن شیراز میں ہے۔
حسین بن موسی(ع) جو شیراز میں مدفون ہیں۔
محمدبن موسی(ع) جو شیراز میں مدفون ہیں۔
حمزہ بن موسی(ع) جو تہران کے نواحی شہر "رے" میں مدفون ہیں۔
فضل بن موسی(ع) جو ساوہ کے نواحی گاؤں آوه میں مدفون ہیں۔
سلیمان بن موسی(ع) جو ساوہ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر "آوہ" نامی بستی میں مدفون ہیں۔
ہارون بن موسی(ع) جو ساوہ میں مدفون ہیں۔
اسحق بن موسی(ع) جو ساوہ میں مدفون ہیں۔
عبداللہ بن موسی(ع) جو ساوہ شہر کے نواحی سب تحصیل قرہ چای کے گاؤں اوجان میں مدفون ہیں۔
قاسم بن موسی(ع) جو عراقی صوبہ بابل کے شہر حِلّہ میں مدفون ہیں۔
آپ کی مشہور ترین بیٹی فاطمۂ معصومہ ہیں جو مقدس شہر قم میں مدفون ہیں۔
ایران اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں امام موسی کاظم(ع) کی اولاد موسوی سادات موجود ہے جبکہ آپ کے قرزند امام علی بن موسی رضا کی اولاد رضوی سادات کے نام سے مشہور ہے۔
اسیری اور قیدخانہ
امام کاظم(ع) کی گرفتاری کے اسباب میں مختلف قسم کے اقوال نقل ہوئے ہیں جن سے اہل تشیع کے درمیان امام(ع) کے مرتبے اور مقام و منزلت کی عکاسی ہوتی ہے۔ چنانچہ مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ عباسی دربار کے وزیر یحیی برمکی یا پھر امام(ع) کے ایک بھائی نے عباسی بادشاہ ہارون عباسی کے پاس چغل خوری اور بہتان تراشی کی تھی۔ ہارون نے امام(ع) کو دو مرتبہ قید کردیا لیکن تاریخ پہلی مدتِ قید کے بارے میں خاموش ہے جبکہ دوسری مدتِ قید سنہ 179 سے 183ہجری تک ثبت کی گئی ہے جو امام(ع) کی شہادت پر تمام ہوئی۔[34]
ہارون نے سنہ 179 میں امام(ع) کو مدینہ سے گرفتار کیا۔ امام(ع) 7 ذوالحجۃالحرام کو بصرہ میں عیسی بن جعفر کے قیدخانے میں قید کئے گئے؛ جہاں سے آپ کو بغداد میں فضل بن ربیع کی زندان میں منتقل کیا گیا۔ فضل بن یحیی کی زندان اور سندی بن شاہک کی زندان وہ قید خانے تھے جن میں امام(ع) نے اپنی عمر کے آخری لمحات تک اسیری کی زندگی گذاری۔[35]
شہادت کی کیفیت
امام کاظم(ع) 25 رجب سنہ 183ہجری کو بغداد میں واقع سندی بن شاہک کی زندان میں شہید کیا گیا۔ آپ کی شہادت کے بعد سندی نے حکم دیا کہ آپ کا جسم بے جان بغداد کے پل پر رکھ دیا جائے اور اعلان کیا جائے کہ آپ طبعی موت پر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں! [36]
آپ کی شہادت کے متعلق بیشتر تاریخ نگار آپ کی مسمومیت کے قائل ہوئے ہیں اور یحیی بن خالد اور سندی بن شاہک کو آپ کے قاتلوں کے طور پر جانے گئے ہیں۔[37] جبکہ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپ کو ایک بچھونے میں لپیٹ دیا گیا جس کی وجہ سے آپ کا دم گھٹ گیا اور شہید ہوگئے ہیں۔[38] اور بعض دیگر نے لکھا ہے کہ ہارون کے حکم پر پگھلا ہوا سیسہ امام(ع) کے گلے میں انڈیل دیا گیا۔[39] تاہم مشہور ترین قول ـ جو تواتر کی حد تک پہنچ گیا ہے ـ یہی ہے کہ یحیی برمکی ہارون کے حکم پر سندی بن شاہک کے ذریعے زہر آلود کھجوروں کے ذریعے امام کو شہید کروایا۔ روایت ہے کہ ہارون نے شیعیان آل رسول(ص) کا مرکز متزلزل کرنے، اپنے اقتدار کو طول دینے اور حکومت کے استحکام کی غرض سے آپ کی شہادت کا حکم جاری کیا اور یہودی سندی بن شاہک نے 10 زہریلی کھجوریں امام(ع) کو کھلا دیں اور کہا مزيد تناول کریں تو امام(ع) نے فرمایا: حَسبُکَ قَد بَلَغتَ ما یَحتاجُ اِلیهِ فِیما اُمِرتَ بِهِ۔ تیرے لئے یہی کافی ہے اور تجھے جو کام سونپا گیا تھا اس میں تو اپنے مقصد تک پہنچ گیا"۔
اس کے بعد سندی نے چند قاضیوں اور بظاہر عادل افراد کو حاضر کیا تاکہ ان سے گواہی دلوا سکے کہ امام بالکل صحیح و سالم ہیں۔ امام کاظم(ع) نے سندی کی سازش کو بھانپتے ہوئے درباری گواہوں سے کہا: گواہی دو کہ مجھے تین دن قبل مسموم کیا گیا ہے اور اگر چہ میں بظاہر تندرست ہوں مگر بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہوجاؤں گا؛ راوی کہتا ہے کہ امام(ع) اسی دن اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ [40]
مدفن اور زیارت کا ثواب
شیعیان آل محمد(ص) کو امام(ع) کی شہادت کی اطلاع ملی تو انھوں نے آپ کا جنازہ اٹھایا اور عقیدت و احترام کے ساتھ قبرستان قریش میں سپرد خاک کیا۔ جہاں آپ کا حرم مطہر آج بھی زیارتگاہ خاص و عام ہے۔
امام رضا علیہ السلام نے امام کاظم(ع) کی زیارت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: من زار قبر أبي ببغداد كمن زار قبر رسول الله (صلى الله عليه وآله) وقبر أمير المؤمنين (صل) إلا أن لرسول الله ولأمير المؤمنين صلوات الله عليهما فضلهما"؛(ترجمہ: جس نے بغداد میں میرے والد امام کاظم(ع) کی قبر کی زیارت کی گویا اس نے رسول خدا(ص) اور امیر المؤمنین(ع) کی زيارت کی ہے۔ سوا اس کے کہ رسول خدا(ص) اور امیرالمؤمنین(ع) کی اپنی خاص فضیلت ہے)۔ نیز حسن بن الوشاء کہتے ہیں: "سألته عن زيارة قبر أبي الحسن (عليه السلام) مثل قبر الحسين (عليه السلام)؟ قال: نعم"۔(ترجمہ: میں نے امام رضا(ع) سے پوچھا: کیا امام ابوالحسن (امام کاظم) کی قبر کی زيارت کا ثواب زیارتِ قبرِ حسین(ع) کے برابر ہے؟ فرمایا: ہاں)۔[41]
خطیب بغدادی کا کلام
خطیب بغدادی نے اپنے وقت کے حنبلی شیخ، حسن بن ابراہیم ابو علی خلال سے نقل کیا ہے: مجھے کبھی بھی کوئی دشوار مسئلہ پیش نہیں آیا مگر یہ کہ میں قبرِ موسی بن جعفر پر حاضر ہوا ہوں اور ان سے متوسل ہوا ہوں اور وہ مسئلہ خداوند متعال نے میرے لئے آسان بنا دیا ہے۔ [42]
امامت
آپ نے اپنے والد ماجد امام صادق(ع) کی شہادت کے بعد سنہ 148ہجری میں امامت کا عہدہ سنبھالا اور آپ کی امامت 35 برس کے عرصے پر محیط ہے۔ اگرچہ امام صادق(ع) نے عباسی خلیفہ منصور عباسی کی سازش ناکام بنانے کے لئے پانچ افراد کی جانشینی کا اعلان کیا تھا جن میں منصور عباسی بھی شامل تھا تاہم حقیقی شیعیان آل رسول(ص) نے آپ کی امامت کو تسلیم کیا۔[43]
دلائل امامت
بعض فقہا اور امام صادق(ع) کے با اعتماد اصحاب نے امام موسی کاظم(ع) کی امامت کے اعلان و تائید کے سلسلے میں امام صادق(ع) کے اقوال نقل کئے ہیں جن میں مفضل بن عمر جعفی، معاذ بن کثیر، عبدالرحمن بن حجاج، فیض بن مختار، یعقوب سراج، سلیمان بن خالد اور صفوان جمّال شامل ہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ امام صادق(ع) نے فرمایا: وهب الله لي غلاما، وهو خير من برأ الله (ترجمہ: خدواند متعال نے مجھے ایسا فرزند عطا کیا جو اس کی مخلوقات میں سب سے بہتر ہے)۔ [44]امام صادق(ع) نے ایک دوسری حدیث کے ضمن میں فرمایا: وَدِدْتُ أَنْ لَيْسَ لِي وَلَدٌ غَيْرُهُ حَتَّى لَا يَشْرَكَهُ فِي حُبِّي لَهُ أَحَدٌ (ترجمہ: میری پسند یہ تھی کہ اس (موسی کاظم) کے سوا میرا کوئی فرزند نہ ہوتا تاکہ کوئی اس سے میری محبت میں شریک نہ ہوتا)۔ [45]
امام صادق) کے فرزند علی بن جعفر نقل کرتے ہیں کہ میرے والد نے اپنے خواص اصحاب سے اپنے بیٹے موسی کے متعلق یوں سفارش کی :
فَإِنَّهُ أَفْضَلُ وُلْدِی وَ مَنْ أُخَلِّفُ مِنْ بَعْدِی وَ هُوَ الْقَائِمُ مَقَامِی وَ الْحُجَّةُ لِلہِ تَعَالَى عَلَى كَافَّةِ خَلْقِهِ مِنْ بَعْدِی[46] وہ میرا افضل ترین فرزند ہے اور یہ وہ ہے جو میرے بعد میری جگہ لے گا اور میرے بعد مخلوق خدا پر اللہ کی حجت ہے ۔
علاوہ ازیں رسول اللہ(ص) سے احادیث منقول ہیں جن میں 12 ائمۂ شیعہ کے اسمائے گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث امام موسی بن جعفر الکاظم علیہ السلام سمیت تمام آئمہ(ع) کی امامت ، خلافت اور ولایت کی تائید کرتی ہیں۔[47]
ہم عصر خلفاء
امام کاظم(ع) کے دوران خلافت میں درج ذیل عباسی خلفا رہے:
منصور دوانیقی ( 136سے 158 تک)
مہدی (158 سے 169 تک)
ہادی (169 سے 170 تک)
ہارون الرشید (170 سے 193 تک)[48]
حوالے
1۔ ابن اثیر ۱۳۸۵ الکامل ج۶، ص۱۶۴}}
2۔ ابن جوزی ۱۴۱۸ق تذکرة الخواص ص۳۱۲}}
3۔ بغدادی ۱۴۱۷ تاریخ بغداد ج۱۳، ص۲۹
↑ مفید ۱۴۱۳ق الارشاد ج۲، ص۲۳۶،۲۲۷
↑ طبرسی۱۴۱۷اعلام الوری ص ج۲، ص۶
↑ ابن شہر آشوب۱۳۷۹ق المناقب ج۴، ص۳۲۳
↑ قمی ۱۴۱۷ الانوار البہیہ ص ص۱۷۷
↑ مفید ۱۴۱۳ق الارشاد ج۲، ص۲۳۵}}
↑ صواعق محرقہ، ص 203.
10۔ سلطنت صرف اللہ کی ہے: مجلسی، بحارالانوار، ج48، صص10-11۔
↑ میرے لئے اللہ کی ذات ہی کافی ہے: صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 1، ص 61.
↑ بغدادی،تاریخ بغداد13/29
↑ بازپژوہی تاریخ ولادت و شہادت معصومان، ص 401
↑ سیره معصومان،ج۶،ص:۱۱۳
↑ مفید،الإرشاد، ج۲، ص۲۱۵
↑ ترجمہ إثبات الوصیہ،متن،ص:۳۵۶
↑ ترجمہ و شرح کشف الغمہ،ج۳،ص:۴۰
18۔ شوشتری،ص:۱۵
↑ حیات فکری و سیاسی آئمہ، جعفریان،ص:۳۷۵
↑ دلائل الإمامہ، الطبری،ص:۳۰۳و
↑ الدر النظیم، الشامی،ص:۶۴۹
↑ إعلام الوری، الطبرسی،ج۲،ص:۶
↑ مفید، الارشاد، ج 2، ص 215.
↑ سید محسن امین، اعیان الشیعہ، ج2، ص6۔
↑ مفید، الارشاد، ج 2، ص 231.
↑ کلینی۱۴۰۷ق ،الکافی ج۳، ص۲۹۷
↑ ابن شعبہ حرانی۱۴۰۴ تحف العقول ۴۱۱-۴۱۲۔مجلسی۱۴۰۳ق بحارالانوار ج۱۰، ص۲۴۷}}
↑ کلینی۱۴۰۷ق ،الکافی ج۱، ص۲۲۷
↑ مجلسی۱۴۰۳ق ، بحارالانوارج۱۰، ص۲۴۴-۲۴۵
↑ ابن شہر آشوب۱۳۷۹ق المناقب ج۴، ص۳۱۱-۳۱۲
↑ ابن شہر آشوب ۱۳۷۹ق، المناقب ج۴، ص۳۱۲-۳۱۳
↑ محمدتقی شوشتری، رسالہ فی تواریخ النبی و الآل، ص 75.
↑ مفید، الارشاد، ج 2، ص 244.
↑ رسول جعفریان، حیات فکری و سیاسی آئمہ، ص 393.
↑ شیخ عباس قمی، الانوار البہیہ، ص 192 – 196.
↑ شیخ مفید، الارشاد، ج 2، ص 215.
↑ باقر شریف قرشی، وہی ماخذ، ج 2، ص 508 - 510.
↑ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص 336.
↑ حمدالله مستوفی، تاریخ گزیده، ص 204.
↑ محمدباقر مجلسی، بحار الانوار، ج 48 ص247، عیون المعجزات، ص 95، فارسی ترجمہ ارشاد مفید، ج2 ص234؛ روایت ہے کہ ہارون کی بادشابی کے پندرہویں برس میں امام(ع) ہارون عابسی کے حکم پر دار المسيب نامی زندان میں سندی بن شاہک [یہودی] کے ہاتھوں زہر کھلوا کر جام شہید کئے گئے: دیکھئے: منتخب التواریخ ، ص 518)۔
↑ کلینی، الکافی، ج 4، ص 583.
↑ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد1/133۔الأمینی، الغدیر، ج5، ص279.
↑ مہدی پیشوائی، سیرہ پیشوایان، ص 414.
↑ اصول كافى جلد 2 ص 225 روايت 1 اسی روایت کے ضمن میں نومولود کی دیگر صفات و خصوصیات بیان کرتے ہوئے امام صادق(ع) نے مزید فرمایا: فوالله هو صاحبكم (ترجمہ: خدا کی قسم یہی تمہارے صاحب اور امام ہیں۔ بصائر الدرجات:129، ب 12، ح9۔ مجلسی، بحارالانوار، ج 48، ص 2.
↑ مجلسی، بحار، ج 75، ص 209.
↑ مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۲۰
مفید، الاختصاص، ص211؛ منتخب الاثر باب ہشتم ص97؛ طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص182-181؛ عاملی، اثبات الہداة بالنصوص و المعجزات، ج2، ص 285۔ جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سورہ نساء کی آیت 59 (اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم) نازل ہوئی تو رسول اللہ(ص) نے 12 ائمہ کے نام تفصیل سے بتائے جو اس آیت کے مطابق واجب الاطاعہ اور اولو الامر ہیں؛ بحارالأنوار ج 23 ص290؛ اثبات الہداة ج 3، ص 123؛ المناقب ابن شہر آشوب، ج1، ص 283۔ سورہ علی(ع) سے روایت ہے کہ ام سلمہ کے گھر میں سورہ احزاب کی آیت 33 انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا نازل ہوئی تو پیغمبر نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے کہ وہ اس آیت کا مصداق ہیں؛ بحارالأنوار ج36 ص337، کفایةالأثر ص 157۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہ(ص) کے جانشینوں کے نام پوچھے تو آپ(ص) نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے۔ سلیمان قندوزی حنفی، مترجم سید مرتضی توسلیان، ینابیع المودة، ج 2، ص 387 – 392، باب 76۔
↑ پیشوائی، وہی ماخذ، ص 413