جنگ صفین میں حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کا “کون ہے جو مقابلے میں آئے؟” کا اعلان، اور معاویہ کا ڈر کے مارے شلوار گیلا کرنا، اور عمرو عاص کا برہنہ ہونا — مخالفین کی اپنی زبانی!
جنگ صفین میں حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کا “کون ہے جو مقابلے میں آئے؟” کا اعلان، اور معاویہ کا ڈر کے مارے شلوار گیلا کرنا، اور عمرو عاص کا برہنہ ہونا — مخالفین کی اپنی زبانی!
کتاب المحاسن و المساوی سے جنگ صفین کا خلاصہ:
1 – حضرت علیؑ کا معاویہ کو چیلنج:
امام علیؑ نے معاویہ کو خط لکھا اور فرمایا:
“تم لوگوں کو کیوں مروا رہے ہو؟ آؤ خود میرے ساتھ لڑو! اگر میں تمہیں قتل کر دوں تو تم سے دنیا کو راحت ملے گی، اور اگر میں مارا گیا تو تم مجھ سے جان چھڑا لو گے۔”
عمرو عاص نے معاویہ سے کہا: “یہ بات تو بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے، قبول کر لو!”
معاویہ نے جواب دیا: “نہیں! تم چاہتے ہو کہ میں قتل ہو جاؤں اور خلافت تمہیں مل جائے! سب جانتے ہیں کہ علیؑ قریش کے شیر ہیں!”
2 – عمرو عاص کا مزاحیہ واقعہ:
معاویہ نے عمرو عاص سے کہا:
“یاد ہے وہ دن جب علیؑ نے تم پر حملہ کیا تو تم خوف کے مارے گھوڑے سے کود گئے اور اپنی شرمگاہ ظاہر کر دی تاکہ زندہ بچ سکو؟”
عمرو عاص نے جواب دیا:
“یاد ہے جب علیؑ نے تمہیں مقابلے کی دعوت دی تو تمہاری آنکھیں خوف سے باہر نکل آئی تھیں، منہ سے جھاگ نکل رہا تھا اور تمہاری شلوار گیلی ہو گئی تھی؟”
📚 المحاسن و المساوی، صفحہ 51
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #invisibleislam
#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #تبدیلی_ممنوع
Gallery
Tap any image to view full screen