Back to جنگوں سے فرار

جنگ اُحد میں صحابہ کا فرار اور ذوالفقار کا امیرالمؤمنین علیہ السلام کو عطا ہونا (شیعہ کتب)

جنگ اُحد میں صحابہ کا فرار اور ذوالفقار کا امیرالمؤمنین علیہ السلام کو عطا ہونا (شیعہ کتب)
جنگ اُحد میں صحابہ کا فرار اور ذوالفقار کا امیرالمؤمنین علیہ السلام کو عطا ہونا (شیعہ کتب)
جنگ اُحد میں صحابہ کا فرار اور ذوالفقار کا امیرالمؤمنین علیہ السلام کو عطا ہونا (شیعہ کتب)
جنگ اُحد میں صحابہ کا فرار اور ذوالفقار کا امیرالمؤمنین علیہ السلام کو عطا ہونا (شیعہ کتب)

📌 جنگ اُحد میں صحابہ کا فرار اور ذوالفقار کا امیرالمؤمنین علیہ السلام کو عطا ہونا، نیز آسمان سے ندائے "لا سيف إلاّ ذو الفقار و لا فتى إلاّ علي" کا گونجنا

 

نبی اکرم ﷺ نے اپنا تلوار ذوالفقار حضرت علی علیہ السلام کو عطا فرمائی، اور وہ مسلسل اس تلوار سے دشمنوں کو آپ ﷺ سے دور کرتے رہے یہاں تک کہ انہیں پسپا کر دیا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کیا:

 

"اے محمد ﷺ! یہ عمل علی علیہ السلام کی طرف سے آپ کے ساتھ وفاداری و قربانی کی انتہا ہے۔"

 

تو رسول خدا ﷺ نے فرمایا:

"علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں"

 

جبرائیل نے کہا:

"اور میں تم دونوں میں سے ہوں"

 

پھر سب نے آسمان سے ایک آواز سنی، جو یوں گونجی:

"لا سيف إلاّ ذو الفقار، و لا فتى إلاّ علي"

یعنی:

"کوئی تلوار نہیں مگر ذوالفقار، اور کوئی جوان نہیں مگر علی!"

 

📚 علل الشرائع، شیخ صدوق، ج1، ص7

 

۔

 

مرحوم علامہ محمد باقر مجلسی اعلی اللہ مقامہ الشریف کے بیان میں، جنگ اُحد میں ابوبکر، عمر، عثمان اور باقی سب کے (علی علیہ السلام اور سماک بن خرشہ ابو دجانہ رحمہ اللہ کے سوا) فرار ہونے کی اخبار کا مستفیض بلکہ متواتر ہونا:

 

📜 جان لو کہ اہل بیت علیہم السلام سے مستفیض روایات کے ذریعے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ابوبکر، عمر، اور عثمان ان لوگوں میں شامل تھے جو جنگ احد کے دن بھاگ گئے تھے، اور اکثر روایات کے ظاہر سے یہی سمجھ آتا ہے کہ اُس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ صرف علی علیہ السلام اور ابو دجانہ باقی رہے۔

 

📚 مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول

مصنف: علامہ مجلسی

جلد: 26، صفحہ: 431

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4