Back to جنگوں سے فرار

ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔

ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔

ہم سادہ لوح مسلمانوں کو خلفاء ثلاثہ کی بہادری کے بے شمار کارنامے سنائے جاتے ہیں لیکن کیا اہلسنت کتب حدیث سے یہ بات ثابت نہیں کہ حضرت ابوبکر ، عمر ، عثمان غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ کو جنگ میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے؟؟ 

 

حضرت عائشہ کی اپنے والد کے متعلق گواہی.... 

 

📖حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ جب بروز جنگ احد لوگ رسول ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تو ان میں سے اولاً رسول ﷺ کی خدمت میں واپس آیا ۔ اور میری نگاہ دور سے حضور ﷺ پر پڑی پھر ایک شخص نے بیچھے سے آکر مجھے دبایا جو رسول ﷺ کے حضور میں حاضر ہونا چاہتا تھا، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ ابو عبیدہ بن الجراح تھے ۔

 

📚(المستدرک علی الصحیحین / جلد نمبر 3 ، صفحہ نمبر 31-32 / 4374) 

 

📖حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر جب غزوہ احد کو یاد کرتے تو رو جاتے پھر فرماتے ۔ غزوہ احد کا دن سارے کا سارا طلحہ کے نام ہے پھر واقعہ سنانے لگتے اور فرماتے غزوہ واحد کے دن میں نے سب سے پہلے مال غنیمت سمیٹا۔ 

 

📚(کنزالعمال / جلد نمبر 10 ، صفحہ نمبر 539 / 30025) 

 

ایک اور روایت ملاحظہ کریں جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جناب عمر احد کی جنگ میں بھاگ گئے تھے۔۔۔۔ 

 

📖 حضرت عمر نے فرمایا کہ جب جنگ احد میں کافروں نے مسلمانوں کو شکست دی تو میں بھاگ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور اس وقت میری یہ حالت تھی کہ پہاڑی بکرا کی طرح کودتا پھرتا تھا۔

 

📚(تفسیر الطبری / تفسیر سورہ آل عمران آیت 155) 

📚(تفسیر در منثور / تفسیر سورہ آل عمران آیت 155) 

 

جناب عمر و عثمان کا غزوہ احد سے بھاگنے کا واقعہ۔۔۔ 

 

📖 امام فخر الدین رازی کہتے ہیں کہ احد کی جنگ میں بھاگنے والوں میں سے جناب عمر تھے مگر وہ ابتدا میں نہیں بھاگے تھے اور دور نہیں گئے بلکہ بھاگ کر پہاڑی پر رکے رہے نیز بھاگنے والوں میں حضرت عثمان بھی تھے جو سعد اور عقبہ کے ساتھ دور تک بھاگ گئے تھے اور تین دن کے بعد واپس تشریف لائے ۔

 

📚(تفسیر کبیر الفخر الرازی / تفسیر سورہ آل عمران آیت 155) 

 

✍🏻اسلامی نقطہ نظر سے جنگ کے دوران میدان چھوڑ کر بھاگنا (فرار ہونا) عام طور پر ناپسندیدہ اور بعض اوقات کبیرہ گناہ شمار کیا جاتا ہے، جبکہ ثابت قدم رہنے والوں کو بلند رتبہ دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس بارے میں واضح احکامات موجود ہیں:

 

♦️قرآن کریم کی روشنی میں

 

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 

"اے ایمان والو! جب تم کافروں کے کسی لشکر سے مقابلہ کرو تو پیٹھ نہ پھیرو۔ اور جو شخص اس دن ان سے اپنی پیٹھ پھیرے گا، مگر یہ کہ (چالاکی کے طور پر) لڑائی کے لیے کنارے ہو جائے یا اپنی جماعت سے جاملنے کے لیے (پیچھے ہٹے)، تو وہ اللہ کے غضب میں آگیا، اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بہت بری جگہ ہے۔"

 

(سورہ الأنفال آیت نمبر15 ، 16)

 

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ محض خوف یا بزدلی کی وجہ سے جنگ سے بھاگنا اللہ کی شدید ترین ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔ 

 

♦️ احادیث کی روشنی میں

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 

"سات بڑے گناہوں سے بچو۔" صحابہ نے پوچھا: "یا رسول اللہ! وہ کون سے ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔"

 

📚(صحیح مسلم شریف/انٹرنیشنل نمبرنگ : 262)

 

یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ میدان جنگ سے بغیر کسی شرعی عذر کے بھاگنا کبیرہ گناہ ہے۔

 

♦️ثابت قدمی کی فضیلت

 

جو لوگ جنگ میں ثابت قدم رہتے ہیں، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت اور بلند درجات کا وعدہ کیا ہے۔

 

"بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں صف بستہ ہو کر اس طرح لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔"

 

(سورہ الصف آیت نمبر 4)

 

🙏🏻اسلامی تعلیمات کے مطابق، بغیر کسی شرعی جواز کے جنگ سے بھاگ جانا قابلِ مذمت ہے، جبکہ ثابت قدمی ایک اعلیٰ صفت ہے جو اللہ کے نزدیک محبوب اور باعثِ اجر و ثواب ہے۔ دونوں کا رتبہ برابر نہیں ہو سکتا، کیونکہ ثابت قدم رہنے والے اللہ کی رضا اور جنت کے مستحق بنتے ہیں، جبکہ بلاعذر بھاگنے والے اللہ کے غضب میں آ سکتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ اور ان کے جانثار ساتھی میدان جنگ میں موجود ہیں تو خلفاء ثلاثہ کیلئے بھی کوئی عذر نہیں بنتا کہ وہ جنگ سے بھاگ جائیں یا پسپائی اختیار کر لیں۔

 

حسنین رضا

 

منقول

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15