جنگ اُحد میں عمر بن خطاب کے فرار کا اعتراف اہل سنت کے امام فخر رازی کی زبانی
جنگ اُحد میں عمر بن خطاب کے فرار کا اعتراف اہل سنت کے امام فخر رازی کی زبانی
✍️ فخر رازی، جو اہل سنت کے بڑے علماء اور مفسرین میں شمار ہوتے ہیں، لکھتے ہیں:
📜 "فرار کرنے والوں میں عمر بھی شامل تھا؛ البتہ وہ فرار کرنے والوں کے آغاز میں شامل نہیں تھا اور بہت دور نہیں گیا؛ بلکہ پہاڑ پر ٹھہرا رہا یہاں تک کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں پہنچے۔
اسی طرح عثمان بھی فرار کرنے والوں میں سے تھا، جو دو انصاری افراد سعد اور عقبہ کے ساتھ بھاگے؛ وہ اتنا دور نکل گئے کہ ان کی واپسی کو تین دن لگے۔"
📚 فخرالدین محمد بن عمر رازی، التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)، جلد 9، صفحہ 42، دار الکتب العلمیة - بیروت
---
جیسا کہ ملاحظہ فرمایا، اہل سنت کے بڑے مفسر فخر رازی خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب جنگ اُحد کے فراریوں میں سے تھا۔
اور اہل سنت کے اصول کے مطابق "اقرار" بہترین دلیل ہوتا ہے، خاص طور پر جب خود انسان اپنے بارے میں اعتراف کرے۔
🖌 اسی بنا پر علماء کی ایک مشہور بات ہے:
📜 "إن الإقرار سيد الأدلة"
📃 یعنی: "اقرار دلیلوں کا سردار ہے" – کیونکہ انسان سے زیادہ سچی گواہی اس کی اپنی ذات پر کوئی اور نہیں دے سکتا۔
📚 شرح زاد المستقنع للشنقيطي، جلد 15، صفحہ 177
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #تعلیمات_اہلبیتؑ #talimaat_e_ahlbait #التماس_دعا #بدر_علی
#SharePost #LikeAndShare #PlzShare #share
Gallery
Tap any image to view full screen