حضرت عمر بن خطاب کے اپنے اعتراف پر مبنی روایت کہ وہ جنگِ احد میں فرار کر گئے
یہ روایت سند کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب کے اپنے اعتراف پر مبنی ہے کہ وہ جنگِ احد میں فرار کر گئے تھے:
نص روایت (خلاصہ):
عمر کہتا ہے: ’’جنگِ احد میں جب ہمیں شکست ہوئی، میں بھاگ گیا اور پہاڑ پر چڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ مجھے لگتا تھا جیسے میں پہاڑی بکری کی طرح چھلانگیں مار رہا ہوں۔‘‘
ماخذ:
تفسیر طبری، جلد 6، ص 172 اور جلد 7، ص 327۔
تحقیق رجال:
محمد بن یزید الرفاعی: حسن الحدیث۔ (مسند ابی یعلى، تحقیق حسین اسد؛ نیز احمد شاکر نے بھی توثیق دی ہے)
ابوبکر بن عیّاش الأسدی: صدوق، حسن الحدیث۔
عاصم بن کلیب: ثقہ۔
کُلیب بن شِہاب: صدوق۔
📌 اس لیے روایت صحیح السند قرار پاتی ہے۔
نتیجہ:
یہ خود عمر کا اعتراف ہے اور صحیح السند نقل ہوا ہے کہ وہ جنگِ احد میں رسول خدا ﷺ کو چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ یہ نکتہ قرآن کی آیاتِ احد کے ساتھ بھی مطابقت رکھتا ہے:
﴿إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ﴾ (آل عمران: 153)
یعنی: ’’جب تم (احد میں) بھاگے جا رہے تھے اور کسی کی طرف توجہ نہیں دے رہے تھے، اور رسول ﷺ تمہیں پیچھے سے بلا رہے تھے۔‘‘
➖ یہ روایت سنی مصادر میں ان لوگوں کے بارے میں واضح شہادت ہے جو فرار کر گئے جبکہ امیرالمؤمنینؑ ڈٹے رہے۔