Back to جنگوں سے فرار

خلیفہ ثانی کو انکے ہی ساتھی بزدل کہا کرتے تھے

خلیفہ ثانی کو انکے ہی ساتھی بزدل کہا کرتے تھے

خلیفہ ثانی کو انکے ہی ساتھی بزدل کہا کرتے تھے

 

کتاب اہلسنت

 

پہلی روایت

أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «سَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَلَمَّا أَتَاهَا بَعَثَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَبَعَثَ مَعَهُ النَّاسَ إِلَى مَدِينَتِهِمْ أَوْ قَصْرِهِمْ، فَقَاتَلُوهُمْ فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ هَزَمُوا عُمَرَ وَأَصْحَابَهُ، فَجَاءُوا يُجَبِّنُونَهُ وَيُجَبِّنُهُمْ فَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» الْحَدِيثُ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

 [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4340 - صحيح

 

" حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خیبر کی طرف روانگی کی ۔ جب وہاں پہنچ گئے تو آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے شہر یا ان کے محل کی طرف بھیجا اور ان ک ہمراہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی بھیجا ۔ انہوں نے جنگ کی ۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو کامیابی حاصل نہ ہو سکی ، یہ لوگ ایک دوسرے کو بزدل قرار دیتے ہوئے لوٹ کر واپس آ گئے ۔ ( اس کے بعد پوری حدیث بیان کی )

 ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

 

دوسری روایت

 

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، ثنا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَانْطَلَقَ، فَرَجَعَ يُجَبِّنُ أَصْحَابَهُ وَيُجَبِّنُونُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ""

 [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4341 - القاسم بن أبي شيبة واه

 

" حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خیبر کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو علم عطا فرمایا : آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گئے ، لیکن آپ لوٹ کر آئے اور آپ اپنے ساتھیوں کو اور ان کے ساتھی آپ کو بزدل کہہ رہے تھے ۔

 ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا:)

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1