زکریا بن آدم صحابی امام محمد تقی ع
امام جواد علیہ السلام کا ایک صحابی:
زکریا بن آدم
زکریا بن آدم بن عبداللہ بن سعد اشعری قمی اکابرین شیعہ اور امام رضا(ع) اور امام جواد(ع) کے اصحاب میں سے ہیں۔ روایت ہے کہ ایک دفعہ امام رضا(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام(ع) نے آغاز شب سے صبح تک ان کے ساتھ رازداری میں تبادلہ خیال کیا۔ نیز منقول ہے کہ امام رضا(ع) سے ان کا تعلق اتنا قریب اور ان کا معنوی رتبہ اتنا بلند تھا کہ ایک بار انھوں نے ایام حج کے دوران مدینہ سے مکہ تک امام(ع) کے ساتھ ایک ہی کجاوے میں سفر کیا۔ایک دن زکریا بن آدم نے امام رضا(ع) سے عرض کیا: "میں ہجرت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میرے اقارب میں بےخرد و نادان لوگوں کی تعداد بڑھ گئی ہے؛ تو امام(ع) نے فرمایا، جس طرح کہ "ایسا نہ کرو، کیونکہ تمہاری برکت سے تمہارے خاندان سے بلائیں ٹل جاتی ہیں جس طرح کہ میرے والد امام کاظم(ع) کی برکت سے اہالیان بغداد سے بلائيں ٹل گئیں۔ کشّی نے عبداللہ بن لصلت القمی سے نقل کیا ہے کہ "وہ امام جواد(ع) کی شہادت سے کچھ عرصہ قبل آپ(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بعد میں، میں نے امام جواد(ع) کو فرماتے ہوئے سنا کہ خداوند متعال صفوان بن یحیی، محمد بن سنان اور زکریا بن آدم کو میری جانب سے جزائے خیر دے؛ وہ میرے سچے اصحاب میں سے ہیں"۔ ایک دن علی بن مسیب ہمدانی نے امام رضا(ع) سے عرض کیا: "میرا فاصلہ آپ سے، بہت زیادہ ہے اور میں ہر وقت آپ کی خدمت میں شرف حضور نہیں پا سکتا میں اپنے دینی مسائل کس سے پوچھوں؟"، تو امام(ع) نے فرمایا: "زکریا بن آدم سے پوچھو کیونکہ وہ دین اور دنیا کے امور میں امین ہیں"۔ زکریا علماء رجال کے نزدیک موثق اور نقل حدیث میں قابل اعتماد شخصیت ہیں۔ زکریا بن آدم نے امام جواد علیہ السلام سے 40 حدیثیں نقل کی ہیں۔ زکریا بن آدم قم میں وفات پاگئے اور ان کا مزار مقبرہ شیخان میں زیارتگاہ مؤمنین ہے جو حرم فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے مقبرہ سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ہے۔
کشی، رجال کشی ص502 و ص595۔
خوئی، معجم رجال الحدیث، ج7 ص271۔