معجزات امام محمد تقی الجواد (علیہالسلام)
📜 جب امام جواد علیہ السلام بغداد سے مدینہ واپس آ رہے تھے، تو کوفہ میں مسیب کے گھر پہنچے، اور یہ وقت غروب آفتاب کا تھا۔ حضرت مسجد میں داخل ہوئے اور مسجد کے صحن میں ایک سدرہ درخت تھا جو پھل نہیں دیتا تھا۔ حضرت نے پانی کی کوزہ طلب کی اور اس کے نیچے وضو کیا، پھر جماعت کے ساتھ نماز مغرب پڑھی۔
بعد میں جب لوگ درخت کے پاس پہنچے اور دیکھا کہ اس پر بہت اچھے پھل ہیں تو وہ حیران ہو گئے۔ انہوں نے سدرہ کے پھل کو کھایا، اور دیکھا کہ وہ میٹھا ہے اور اس میں دانہ نہیں تھا۔ پھر لوگوں نے امام جواد علیہ السلام سے وداع کی، اور وہ مدینہ روانہ ہو گئے۔
📚 کشف النعمه ؛ جلد دوم ؛ صفحہ ۳۵۷
📜 قطب راوندی نے محمد بن میمون سے روایت کی ہے کہ جس وقت امام جواد بچے تھے اور جناب امام رضا علیہ السلام ابھی تک خراسان نہیں گئے تھے آپ نے مکہ کا سفر کیا میں بھی آپ کی خدمت میں تھا جب میں نے واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ میں مدینہ جانا چاہتا ہوں آپ ابوجعفر محمد تقی کے لیے خط لکھ دیں تا کہ میں اسے لے جاؤں حضرت نے تبسم فرمایا اور خط لکھ دیا میں وہ خط مدینہ لے آیا اور اس وقت میں نابینا ہو چکا تھا اس موفق خادم حضرت محمد تھلی کو لے آیا جب کہ آپ ابھی گہوارے میں تھے پس میں نے خط دیا تو حضرت نے موفق سے فرمایا کہ خط کی مہر توڑ کر کاغذ کھولو موفق نے خط کی مہر توڑی اور اسے کھول کر حضرت ، کے سامنے کیا، پس حضرت نے اس کو پڑھا تو کہنے لگے اے محمد تمہاری آنکھوں کا کیا حال ہے میں نے عرض کیا فرزند رسول میری آنکھیں علیل ہوگئی ہیں اور ان کی بینائی جاتی رہی ہے جیسا کہ آپ مشاہدہ کر رہے ہیں۔
پس حضرت نے اپنا دست مبارک میری آنکھوں پر پھیرا، حضرت کے ہاتھ کی برکت سے میری آنکھیں شفا یاب ہو گئیں، پس میں نے آپ کے ہاتھ پاؤں کے بوسے لیے اور آپ کی خدمت سے باہر نکلا در آنحالیکہ میں نبینا تھا
📚 منتهی الامال
📜 "مسجد کے صحن میں ایک بیری کا درخت تھا جو ہمیشہ خشک اور بے ثمر رہتا تھا۔
امام (علیہ السلام) نے کچھ پانی طلب کیا اور اس درخت کے پاس وضو فرمایا۔
صبح ہوتے ہی وہ بیری کا درخت پھل دے چکا تھا، اور رات بھر میں اس پر خوبصورت اور قابلِ توجہ میوے آ چکے تھے۔"
📚 ابن صباغ، الفصول المهمه، ص 258
📎 بدر علی
۔
شہادت امام علی رضا ع پر امام محمد تقی ع کا مدینہ منورہ سے مشہد مقدس پہنچنا
ﺍﺑﻮﻣﺨﻨﻒ ﮐﺎﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺧﺮﺍﺳﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺯﮨﺮﺩﯾﺪﯾﺎﺍﻭﺭﺁﭖ ﺑﺴﺘﺮﻋﻼﻟﺖ ﭘﺮ ﮐﺮﻭﭨﯿﮟ ﻟﯿﻨﮯ ﻟﮕﮯ ،ﺗﻮﺧﺪﺍﻭﻧﺪﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪﺗﻘﯽ ﮐﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮭﯿﺠﻨﮯ ﮐﺎﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﯿﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪﺗﻘﯽ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻣﺴﺠﺪﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺗﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﻒ ﻏﯿﺒﯽ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ ” ﺍﮔﺮﻣﯽ ﺧﻮﺍﮨﯽ ﭘﺪﺭﺧﻮﺩﺭﺍﺯﻧﺪﮦ ﺩﺭﯾﺎﺑﯽ ﻗﺪﻡ ﺩﺭﺭﺍﮦ ﻧﮧ “ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻨﺎﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍﺧﺮﺍﺳﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﯾﮧ ﺁﻭﺍﺯﺳﻨﻨﺎﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺴﺠﺪﺳﮯ ﺑﺮﺁﻣﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﺍﺧﻞ ﺧﺎﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭﺁﭖ ﻧﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﺰﺍ ﻭ ﺍﻗﺮﺑﺎ ﮐﻮ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﭘﺪﺭ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ، ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﺑﺮﭘﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﺁﭖ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﺍﺳﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮﺩﯾﮑﮭﺎﮐﮧ ﺩﺭﺑﺎﻥ ﻧﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪﮐﺮﺭﮐﮭﺎﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎﮐﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺪﺭ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎﭼﺎﮨﺘﺎﮨﻮﮞ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺧﻮﺩﺍﭘﻨﮯ ﺑﺴﺘﺮﺳﮯ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭﺩﺭﻭﺯﺍﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪﺗﻘﯽ ﮐﻮﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﮔﺮﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪﺗﻘﯽ ﭘﺪﺭ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ،ﺑﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﺑﺖ ﭘﺮ ﺁﻧﺴﻮﺑﮩﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺗﺒﺮﮐﺎﺕ
ﺍﻣﺎﻣﺖ ﻓﺮﺯﻧﺪﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮﮐﮯ ﺭﺍﮨﯽ ﻣﻠﮏ ﺑﻘﺎﮨﻮﮔﺌﮯ ”ﺍﻧﺎﻟﻠﮧ ﻭﺍﻧﺎﺍﻟﯿﮧ ﺭﺍﺟﻌﻮﻥ“ ۔ ( ﮐﻨﺰﺍﻻﻧﺴﺎﺏ ﺹ ۹۵ ) ۔
ﻋﻼﻣﮧ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺎﺱ ﻗﻤﯽ ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﺍﻋﻼﻡ ﺍﻟﻮﺭﯼ
ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺟﻮﻧﮩﯽ ﺧﺒﺮﺷﮩﺎﺩﺕ ﻣﻠﯽ ،ﺧﺮﺍﺳﺎﻥ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﮐﻮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﺮﯾﮟ
ﻣﻨﺘﮩﯽ ﺍﻵﻣﺎﻝ ﺟﻠﺪ ۲ ﺹ ۳۱۲