روایاتِ ولادت و مختصر تعارف
♥️ ولادت امام جواد علیہ السلام ♥️
حضرت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام ہمارے نویں امام ہیں، آنحضرت کا نام محمد اور کنیت ابوجعفر الثانی اور القاب تقی ،جواد، مرتضی، مختار ،منتجب،قانع اور عالم ہیں، البتہ تقی اور جواد الائمہ کا لقب زیادہ مشہورہے،آنحضرت (ع) کےوالد گرامی کا نام حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام اور والدہ ماجدہ کا نام سبیکہ ہے،(آپکی والدہ ماجدہ کے دوسرے نام" سکینہ" ، "مرضیہ" اور" درہ" بھی نقل کیے گیے ہیں)حضرت امام رضا نے اس عظیم خاتون کا نام " خیزران " رکہا تہا،(1)
" خیزران " شمالی افریقہ کے علاقے " نوبہ " اور پیغمبر اسلام(ص) کی ہمسر ماریہ قبطیہ کے خاندان سے ہیں اور وہ اپنے زمانے کی عظیم خاتون تہیں، پیغمبر اسلام (ص)نے اپنے زمانے میں اس خاتون کے بارے میں پیشنگوئی کی تہی اور ایک حدیث میں فرمایا تہا : بابی ابن خیرہ الاماء النوبیہ الطیبہ(2)میرےوالد اس بہترین کنیز کے فرزند کے قربان جو " نوبہ " کی ہو گی اور پاکیزہ سرشت ہوگی،
امام موسی کاظم علیہ السلام نے بہی اس عظیم خاتون کے بارے میں پیشن گوئی کی ہے، امام (ع) نے ایک حدیث میں یزید بن سلیط سے فرمایا:مکہ کے راستے سے جب میرے بیٹے علی( امام رضا) کے ساتھ ملاقات کرو گے تو اسکو بیٹے کی بشارت دیناجو کہ امانتدار اور مبارک ہوگا، اس دن میرا بیٹا تجہے اس بات کی خبر دے گاکہ کس دن میرے ساتھ ملاقات کی اور کیا گفتگو ہوئی اور اس وقت تم بھی اسکو یہ خبر دینا کہ تمہارا بیٹا جس کنیز سے پیدا ہوگا وہ پیغمبر اسلام(ص) کی کنیز ماریہ قبطیہ کے خاندان سے ہو گی، اگر اس خاتون کو دیکہو گے تو اس تک میرا سلام پہچادینا،(3)
حضرت امام جواد علیہ السلام مدینہ منورہ میں امام رضا (ع)کے گہر میں پیدا ہوے، البتہ تاریخ پیدایش کے حوالے سے مورخین اور سیرہ نویسوں کے درمیان اتفاق نہیں ہے، کیونکہ بعض نے 5 رمضان اور بعض نے 15 رمضان اور بعض نے تو 19 رمضان اور بعض دوسروں نے 10 رجب سن 195 ہجری کو حضرت کا یوم پیدایش لکہا ہے،(4)
ابن عیاش نے بھی انکا یوم پیدایش 10 رجب لکہا ہے اور زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس کی تائید ہے، دعای ناحیہ میں ہم پڑتے ہیں:اللھم انی اسئلک بالمولودین فی رجب محمد بن علی الثانی و ابنہ علی ابن محمد المنتجب(5)
کلیم بن عمران سے روایت ہے: میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور امام سے درخواست کی کہ خدا کی بارگاہ میں دعا کریں کہ آپ کو اولاد عطا فرمائے، امام رضا علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:حق تعالی مجہے فرزند عطا کرے گا اور وہ میرا جانشین اور امامت کا وارث ہوگا،جب امام محمد تقی علیہ السلام پیدا ہوۓ تو امام رضا علیہ السلام نے فرمایا خدای متعال نے مجہے ایسا فرزند عطا کیا ہے کہ جسکی شباھت موسی ابن عمران سے ہے جس نے دریا کے دو ٹکڑے کۓ اور اسکی مثال عیسی ابن مریم کے مانند ہے کہ خداوند نے اسکی والدہ کو پاکیزہ ،طاہر و مطہر خلق کیا،(6)
امام رضا علیہ السلام نے جب مامون کی درخواست پر خراسان (ایران )کا سفر کیا تو اس وقت انکے فرزند امام محمد تقی علیہ السلام پانچ سال کے تہے اور جب حضرت امام رضا علیہ السلام مامون کے ہاتہوں شہید ہوۓ اس وقت امام محمد تقی علیہ السلام 8 سال کے تہے، امام محمد تقی علیہ السلام بچپن میں ہی امامت کے منصب پر فائز ہوۓ،اور اس کم سنی میں تشیع کی کشتی کی ہدایت کے فریضہ کو بنحو احسن انجام دیا اور اپنے والد اور اجداد کے مانند عدالت کے طلب گاروں اور مکتب اھل بیت(ع) کے پیرو کاروں کی پناہ گاہ بنے رہے،
مامون عباسی جوکہ ایک زبردست دانشمند تہا اور اپنے زمانے کے خردمندوں میں سے تہا، اس نے عباسیوں کی مخالفت کے باوجود اپنی بیٹی "ام الفضل" کا نکاح امام محمد تقی علیہ السلام کے ساتھ کیا،امام کے بارے میں اپنی راۓ کا اظہار کچھ یوں کیا ہے،" واما ابو جعفر محمد بن علی اخترتہ لتبریرہ عیی کااھل الفضل فی علم و الفضل مع صغر سنہ، والا عجوبہ فیہ بذالک، وانا ارجو ان یظھر للناس ما قد عرفتہ منہ،فیعلموا ان الرای ما رائت فیہ"(7)
یعنی : البتہ یہ کہ میں نے ابو جعفر محمد بن علی کو اپنا داماد بنایا اور اس کو اپنی بیٹی ام الفضل کا شوہر انتخاب کیا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی کم سنی میں ہی تمام اہل فضل اور صاحبان علم و اندیشہ کے درمیان برتری حاصل کر چکا ہے وہ اپنے زمانے کا نابغہ ہے، مجہے امید ہے کہ جس طرح میں نے اسکے علمی کمالات کو سمجہا ہے اور لوگ بھی اس کو سمجہنے کی کوشش کریں اور جان لیں کہ صحیح وہی ہے جو میں پسند کروں،
1{منتھی الامال (شیخ عباس قمی)ج2ص324؛کشف الغمہ(علی ابن عیسی اریلی)ج3ص186 }
2{الارشاد (شیخ مفید)ص615؛ منتھی الامال (شیخ عباس قمی)ج2ص325}
3{ منتھی الامال (شیخ عباس قمی)ج2ص325}
4{ منتھی الامال (شیخ عباس قمی)ج2ص325}
5{مفاتیح الجنان( شیخ عباس قمی) رجب کی چھٹی دعا}
6{ منتھی الامال (شیخ عباس قمی)ج2ص326}
7{2{الارشاد (شیخ مفید)ص621}
♥️ امام جواد علیه السلام کا مختصر تعارف ♥️
نام : محمد بن علی علیھم السلام
نام پدر : علی بن موسی الرضا علیھم السلام
نام مادر : سبیکہ ( پیامبر اسلام کی بیوی ماریہ قبطیہ کے خاندان سے )(1)
کنیت : ابو جعفر ثانی
القاب : تقی ، جواد
ھمعصر خلفاء
امام جواد علیہ السلام اپنے دور امامت میں دو عباسی خلفاء کے ھمعصر تھے :
۱۔ مامون الرشید ( ۱۹۳ ۔ ۲۱۸ )
۲۔ معتصم ( مامون کا بھائی ) ( ۲۱۸ ۔ ۲۲۷ )
♥️ امام علیہ السلام کے زندگی کا مختصر جائزہ
علماء کا بیان ہے کہ امام محمدتقی علیہ السلام بتاریخ ۱۰/ رجب المرجب ۱۹۵ ھ ( ۸۱۱ میلادی ) یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے(3)
شیخ مفید علیہ الرحمة فرماتے ہیں چونکہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے علاوہ کوئی اولاد آپ کی ولادت سے قبل نہ تھی اس لئے لوگ طعنہ زنی کرتے ہوئے کہتے تھے کہ شیعوں کے امام منقطع النسل ہیں یہ سن کرحضرت امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اولاد کا ہونا خدا کی عنایت سے متعلق ہے اس نے مجھے صاحب اولاد قرار دیا ہے اور عنقریب میرے یہاں مسند امامت کا وارث پیدا ہوگا چنانچہ آپ کی ولادت باسعادت ہوئی(4)
علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تھا کہ میرے ہاں عنقریب جو بچہ پیدا ہوگا وہ عظیم برکتوں کا حامل ہوگا(5)
ولادت سے متعلق لکھا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی بہن جناب حکیمہ خاتون فرماتی ہیں کہ ایک دن میرے بھائی نے مجھے بلاکر کہا کہ آج تم میرے گھر میں حاضر رہو، کیونکہ خیز ران کے بطن سے آج رات کو خدا مجھے ایک فرزند عطا فرمائے گا ،میں نے خوشی کے ساتھ اس حکم کی تعمیل کی ، جب رات ہوئی تو ہمسایہ کی چند عورتیں بھی بلائی گئیں، نصف شب سے زیادہ گزرنے پر یکایک وضع حمل کے آثار نمودار ہوئے یہ حال دیکھ کر میں خیزران کو حجرہ میں لے گئی، اور میں نے چراغ روشن کردیا تھوڑی دیر میں امام محمد تقی علیہ السلام پیدا ہوئے ، میں نے دیکھا کہ وہ مختون اور ناف بریدہ ہیں ، ولادت کے بعد میں نے انہیں نہلانے کے لیے طشت میں بٹھایا، اس وقت جو چراغ روشن تھا وہ گل ہوگیا مگر پھر بھی اس حجرہ میں اتنی روشنی بدستور رہی کہ میں نے آسانی سے بچہ کو نہلا دیا. تھوڑی دیر میں میرے بھائی امام رضا علیہ السلام بھی وہاں تشریف لے آئے میں نے نہایت عجلت کے ساتھ صاحبزادے کو کپڑے میں لپیٹ کر حضرت (ع) کی آغوش میں دے دیا آپ نے سر اور آنکھوں پر بوسہ دیے کر پھر مجھے واپس کردیا، دو دن تک امام محمد تقی علیہ السلام کی آنکھیں بند رہیں تیسرے دن جب آنکھیں کھولیں تو آپ نے سب سے پہلے آسمان کی طرف نظرکی پھر داہنے بائیں دیکھ کر کلمہ شہادتین زبان پرجاری کیا میں یہ دیکھ کر سخت متعجب ہوئی اورمیں نے سارا ماجرا اپنے بھائی سے بیان کیا، آپ نے فرمایا تعجب نہ کرو، یہ میرا فرزند حجت خدا اور وصی رسول خدا ہیں اس سے جو عجائبات ظہور پذیر ہوں ،ان میں تعجب کیا ، محمد بن علی ناقل ہیں کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان اسی طرح مہر امامت تھی جس طرح دیگر آئمہ علیہم السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان مہریں ہوا کرتی تھیں(6)
♥️ *آپ کی ازواج اور اولاد*
علماء نے لکھا ہے کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے چند بیویاں تھیں ، ام الفضل بنت مامون الرشید اور سمانہ خاتون یاسری . امام علیہ السلام کی اولاد صرف جناب سمانہ خاتون جوکہ حضرت عمار یاسر کی نسل سے تھیں، کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے ہیں، آپ کی اولاد کے بارے میں علماء کااتفاق ہے کہ دو نرینہ اور دو غیر نرینہ تھیں، جن کے نام یہ ہیں ۱ ۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام، ۲ ۔ جناب موسی مبرقع علیہ الرحمة، ۳ ۔ جناب فاطمہ، ۴ ۔ جناب امامہ(7)
♥️ *پر برکت مولود*
امام رضا علیہ السلام کے خاندان اور شیعہ محافلوں میں ، حضرت امام جواد علیہ السلام کو مولود خیر پر برکت کے عنوان سے یاد کیا جاتا تھا ۔ جیسا کہ ابو یحییٰ صنعانی کہتا ہے : ایک دن میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں بیھٹا تھا ، آپ کا بیٹا ابو جعفر جو کہ کمسن بچہ تھا لایا گیا ، امام علیہ السلام نے فرمایا : ہمارے شیعوں کیلئے اس جیسا کوئی مولود بابرکت پیدا نہیں ہوا ہے(8)
شاید ابتداء میں یہ تصور ہوجائے کہ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ امام جواد علیہ السلام پہلے تمام اماموں کی نسبت زیادہ بابرکت ہیں ، حالانکہ اس طرح نہیں ہیں ، بلکہ جب موضوع کی جانچ پڑتال کی جائے اور قرائن و شواھد کا ملاحظہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ امام جواد علیہ السلام کی ولادت ایسے گھٹن حالات میں واقع ہوئی ہے جو شیعوں کیلئے خاص خیر و برکت کا تحفہ کہا جاسکتا ہے ۔ کیوں اس لئے کہ امام رضا علیہ السلام کا زمانہ ایک خاص عصر میں پڑھا تھا کہ آنحضرت (ع) اپنے ما بعد کا جانشین اور امام کے پہچنوانے میں مشکلات کا سامنا ہوچکا تھا جو اس سے پہلے کے اماموں کے دور میں ایسا نہیں ہوا تھا ۔ کیونکہ ایک طرف امام کاظم علیہ السلام کے شہادت کے بعد واقفیہ کا گروہ امام رضا علیہ السلام کی امامت کا منکر ہوچکے تھے تو دوسری طرف امام رضا علیہ السلام ۴۷ سال کی عمر شریف تک کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی جس کی وجہ سے دشمن طعنہ دے رہا تھا کہ امام رضا مقطوع النسل ہیں اور ہم خود امامت زیر سوال آچکی تھی کہ اس کے بعد کوئی امام کا نام و نشان نہیں ہے جبکہ پیغمبر اسلام کے حدیث شریف کے مطابق بارہ امام ہیں اور امام حسین علیہ السلام کے نسل سے ۹ امام پیدا ہونگے ۔
♥️ *کمسن امام*
امام جواد علیہ السلام کی زندگی کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت سب سے پہلا وہ امام ہیں جو بچپنی کے عالم میں امامت کی منصب پر فائز ہوچکے ہیں اور لوگوں کیلئے یہ سوال بن چکا تھا کہ ایک نوجوان امامت کی اس سنگین اور حساس مسئولیت کو کیسے سنبھال سکتا ہے ؟ کیا کسی انسان کیلئے یہ ممکن ہے کہ اس کمسنی کی حالت میں کمال کی اس حد تک پہنچ جائے اور پیغمبر کے جانشین ہونے کا لائق بن جائے ؟ اور کیا اس سے پہلے کے امتوں میں ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے ؟
اس قسم کے سوالات کوتاہ فکر رکھنے والے لوگوں کے اذھان میں آکر اس دور کے جامعہ اسلامی مشکل کا شکار ہوچکی تھی لیکن جب قادر مطلق و حکیم کے خاص لطف و عنایت جو ہر زمانے میں جامعہ بشریت کیلئے ارمغان لاچکی ہے اپنے آپ کو احساس کمتری میں مبتلا کردیا تھا۔ اس مطلب کے ثبوت کیلئے ہمارے پاس قرآن و حدیث کی روشنی میں شواہد و دلائل فراوان موجود ہیں ۔
۱۔ حضرت یحیی علیہ السلام : یا یحیی خذالکتاب بقوۃ و آتیناہ الحکم صبیا ( سورہ مریم آیہ ۱۲ )
۲۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا بچپنی میں تکلم کرنا ( سورہ مریم آیات ۳۰ سے ۳۲ تک کا تلاوت )
یہ بات ہمارے ائمہ کے اقوال میں بھی استفادہ ہوتا ہے اور واقعات جو تاریخ میں موجود ہیں ۔
*حـواله جات*
(1)کلینی ، اصول کافی ، ج1 ص 315 و 492 ، تہران ، مکتبہ الصدوق ، 1381ہـ ؛ ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابیطالب ، ج 4 ، ص 379 ، قم ، المطبعہ العلمیہ
(2)کلینی ، اصول کافی ، ج 1 ، ص 492 ، تہران ، مکتبہ الصدوق ، 1381ہـ ؛ شیخ مفید ، الارشاد ، ص 316 ، قم ، مکتبہ بصیرتی . بعض علماء نے آپ کی ولادت اسی سال کے ۱۵ رجب کو قرار دیا ہے ( طبرسی ، اعلام الوری ، ص 344 ، الطبعہ الثالثہ ، دارالکتب الاسلامیہ )
(3)روضة الصفاجلد ۳ ص ۱۶ ؛ شواہدالنبوت ص ۲۰۴ ، انورالنعمانیہ ص ۱۲۷
(4)ارشاد ص ۴۷۳
(5)اعلام الوری ص ۲۰۰
(6)المناقب، ج4، ص394
(7)ارشاد مفید ص ۴۹۳ ؛ صواعق محرقہ ص ۱۲۳ ؛ روضة الشہداء ص ۴۳۸ ؛ نورالابصار ص ۱۴۷ ؛ انوارالنعمانیہ ص ۱۲۷ ؛ کشف الغمہ ص ۱۱۶ ؛ اعلام الوری ص ۲۰۵
(8) شیخ مفید ، الارشاد ، ص 319 ، قم ، مکتبہ بصیرتی ؛ طبرسی ، اعلام الوری ، ص 347 ، الطبعہ الثالثہ ، المکتبہ الاسلامیہ ؛ فتال نیشابوری ، روضہ الواعظین ، ص 261 ، الطبعہ الاولی ، بیروت ، موسسہ الاعلمی للمطبوعات 1406 ہـ ؛ کلینی ، اصول کافی ، ج1 ، ص 321 ، تہران ، مکتبہ الصدوق ؛ علی بن عیسی الاربلی ، کشف الغمہ ، ج3 ، ص 143 ، تبریز ، مکتبہ بنی ہاشئ 1381
*┈••❃ شــیـعـه شـناسـی ❃••┈*