امامت پر نص
امامت پر نص

🔴 امام محمد تقی علیہ السلام کی امامت پر نص 

 

📜 مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى قَالَ: قُلْتُ لِلرِّضَا ع۔۔۔۔۔۔ الخ

 

📃 صفوان بن یحییٰ نے کہا کہ میں نے امام رضا (ع) سے کہا کہ قبل اس کے کہ ابو جعفر ( امام تقی ع ) پیدا ہوں تو ہم آپ سے آپ کے بعد والے امام کے متعلق سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ خدا مجھے لڑکا عطا کریگا ۔ چنانچہ اس نے عطا کیا ، اس سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں ، پس خدا ہمیں آپ کی موت کا دن نہ دکھائے اگر ایسا ہو تو آپ کے بعد کون امام ہوگا آپ نے ابو جعفر ( امام تقی ع ) کی طرف اشارہ کیا میں نے کہا یہ ابھی تین برس کے ہی ہیں ، امام رضا ع نے فرمایا : کیا مضائقہ ہے عیسیٰ علیہ السلام بھی تو تین ہی سال کے حجت خدا تھے۔

 

📚 الکافی ، ج ۱ ، ص ۱۹۶

 

▪️ علامہ مجلسی رح نے اس روایت کو معتبر قرار دیا ہے

 

✅ الحدیث العاشر : صحیح

 

📚 مراة العقول ، ج ۳ ، ص ۳۷۶

 

🖋 سید علی حیدر شیرازی

 

💠💠 امام کون ہوتا ہے؟ 💠💠

 

عمارہ بن زید نے روایت کی وہ کہتا ہے کہ میں نے امام محمد تقی ص کو دیکھا تو میں نے عرض کیا اے فرزند رسول ص امام ؑ کی علامت کیا ہے؟؟فرمایا امام وہ ہے جو یہ کام کرسکے پھر آپ نے اپنا دست مبارک ایک پتھر پر رکھا تو آپکے انگلیوں کے نشان اس پر ابھر آئے ،راوی کہتا ہے میں نے دیکھا کہ آپ لوہے کو کھنچتے تھے بغیر اسکےکہ اسے آگ میں پگھلاتے اور پتھر پر اپنی انگوٹھی سےمہر لگاتے ۔۔۔۔

 

📚 حواله=>احسن المقال مولف محدث شیخ عباس قمی ؒ(اردو) جلد ۔۔۔٢ ۔۔۔صفحہ۔۔۔٢٠٠

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2