موسی مبرقع (متوفی 296 ق)

22 ربیع الثانی یوم وفات موسی مبرقع (متوفی 296 ق) 

 

امام محمد تقی علیہ السلام کے فرزند اور امام علی نقی علیہ السلام کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ کا شمار علماء میں سے ہوتا ہے اور آپ نے امام محمد تقی (ع) سے روایات نقل کی ہیں۔ آپ شہر قم میں دفن ہیں۔ نقاب سے چہرہ چھپانے کی وجہ سے آپ کو مبرقع کہا جاتا ہے۔[1] موسی مبرقع رضوی سادات کے جد اعلی ہیں۔ قم اور اطراف شہر ری کے برقعی سادات سے تعلق رکھنے والے خاندان مشہور کی بناء پر آپ سے نسبت رکھتے ہیں۔ آپ کا روضہ قم کے محلہ چہل اختران میں شیعوں کی زیارت گاہ ہے۔

 

نام، لقب اور کنیت

 

آپ کا نام موسی ہے اور آپ موسی مبرقع کے نام سے مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ پہچانے نہ جانے کی وجہ سے اپنے چہرے کو نقاب سے چھپا کر رکھتے تھے اسی سبب کو آپ کو مبرقع کہتے ہیں۔ آپ کے لئے ذکر ہونے والی کنیت میں ابو محمد اور ابو جعفر قابل ذکر ہیں۔

 

سوانح حیات

 

موسی مبرقع امام محمد تقی علیہ السلام کے فرزند ہیں اور آپ کی والدہ کا نام سمانہ مغربیہ ہیں جو امام علی نقی علیہ السلام کی والدہ ہیں۔ آپ کی ولادت امام علی نقی (ع) کے دو سال کے بعد سن 214 ق میں مدینہ[2] میں ہوئی۔ آپ خلق و خو میں اپنی والدہ سے شباہت رکھتے تھے۔[3] امام محمد تقی (ع) کی شہادت تک آپ کا قیام مدینہ میں تھا۔ اس کے بعد آپ کوفہ چلے گئے اور کچھ مدت تک وہاں رہے اور سن 256 ق میں آپ نے سکونت کے لئے شہر قم کا انتخاب کیا[4] اور وہاں مہاجرت اختیار کر لی۔ البتہ بعض شہریوں نے آپ کو نہ پہچاننے کی وجہ سے آپ کو شہر سے باہر نکال دیا اور آپ کاشان چلے گئے اور وہاں عبد العزیز بن ابی دلف کی طرف سے آپ کا استقبال کیا گیا اور انہوں نے آپ کو خلعت اور سواری عطا کی گئی اور آپ کے لئے سالانہ وظیفہ معین کیا۔[5] کچھ عرصہ کے بعد قم کے لوگ اپنے عمل سے شرمندہ ہوئے اور انہوں نے چاہا کہ آپ قم واپس آ جائیں۔[6] 22 ربیع الثانی 296 ق میں قم میں آپ کی رحلت ہوئی[7] اور اس علاقہ میں دفن ہوئے جو آج آذر روڈ پر چہل اختران کے نام سے جانا جاتا ہے۔[8]

 

علم حدیث میں آپ کا مقام

 

موسی مبرقع کا شمار اہل حدیث و درایہ میں ہوتا ہے اور آپ راویان حدیث میں سے ہے۔ شیخ طوسی نے اپنی کتاب تہذیب میں،[9] شیخ مفید نے اپنی کتاب الاختصاص میں[10] اور اسی طرح سے ابن شعبہ حرانی نے اپنی مشہور کتاب تحف العقول میں آپ سے حدیث نقل کی ہے۔[11] یحیی بن اکثم نے بھی آپ کو خط لکھا ہے اور آپ سے بعض مسائل کے سلسلہ میں نظر خواہی کی ہے۔[12]

 

رضوی سادات کے جد اعلی

 

موسی مبرقع کا شمار رضوی سادات کے جد اعلی کے طور پر ہوتا ہے۔ اور ان کا سلسلہ نسب آپ تک پہنچتا ہے۔ رضوی سادات مختلف ممالک جیسے ایران، ھندوستان، پاکستان، افغانستان، عراق اور شام میں رہتے ہیں۔

 

آپ کی بہنوں کا قم ہجرت کرنا

 

نقل کیا جاتا ہے کہ جب آپ نے قم میں سکونت اختیار کر لی تو آپ کی بہنیں زینب، ام محمد اور میمونہ بھی آپ کے پاس قم آ گئیں اور انہوں نے بھی قم مین رہائش اختیار کی اور وہیں انتقال کیا اور فاطمہ معصومہ (ع) کے اطراف میں دفن ہوئیں۔[13][14]

 

روضہ اور بارگاہ

 

اس روضہ کی قدمت 950 سال ہے اور اس کا بانی شاہ طہماسب صفوی ہے۔ اس عمارت کا معمار استاد سلطان قمی، دور صفویہ کا معروف معمار ہے جس کا نام زیارت گاہ میں ذکر ہوا ہے۔ سن 952 ھ میں شاہ طہماسب صفوی کے حکم سے اس عمارت میں ایک نہایت بلند چھت اینٹوں سے بنائی گئی۔ اس روضہ میں بعض سادات اور امام زادوں کی قبور بهی موجود ہیں جن میں آپ کے بیٹوں اور اولاد کی قبریں بھی شامل ہیں۔ مشہور ہے کہ اس مقبرہ میں چالیس خواتین، چالیس مرد اور پچیس بچے (مجموعی تعداد ایک سو پانچ) دفن ہیں۔

 

چہل اختران

موسی مبرقع (ع) کے روضہ میں آپ کی قبر کے اطراف میں موجود خاندانی مقبرے میں آپ کے بیٹوں اور اولاد میں سے بعض افراد دفن ہیں یہ مقبرہ چہل اختران کے نام سے معروف ہے۔[15] جن میں سے 14 افراد کے اسماء تاریخ قم میں ذکر ہوئے ہیں۔[16]

 

امام زادہ زید

 

موسی مبرقع (ع) کے روضہ میں ایک اور امام زادہ دفن ہیں جن کا نام زید ہے۔ ان کی قبر ایک عمارت کے اندر ہے جس میں ایک چھوٹا گنبد ہے جو اینٹوں سے بنا ہوا ہے اور جسے ٹوپی کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے جس کا تعلق نویں صدی ہجری سے ہے۔ اس مکان میں امام زین العابدین علیہ السلام کی اولاد سے ایک امام زادہ دفن ہیں جن کا نام زید ہے۔ فیض قمی نے آپ کا سلسلہ نسب 99 واسطوں سے امام زین العابدین (ع) تک پہنچایا ہے۔[17] بعض افراد کے مطابق تہران (چیذر) میں مدفون امام زادہ علی اکبر آپ کے جد ہیں۔[18]

 

آپ کے سلسلہ میں تالیفات

 

البدر المشعشع در احوال ذریہ موسی المبرقع: مولف حسین نوری طبرسی۔[19]

 

ترجمہ کتاب موسی مبرقع تالیف: محمد کجوری تہرانی۔

 

حوالہ جات

 

1: حرانی، تحف العقول، ص۴۷۶؛ عطاردی، عزیز الله، مسند الامام الجواد، ص۸۴و۸۵

2: البحرانی، ج۲۳- الجواد ع، ص:۵۵۳

3: بحارالانوار، ج۵۰ ص۱۲۳

4: تاریخ قم، ص:۲۱۵

5: تاریخ قم، ص: ۲۱۵

6: حرانی، تحف العقول، ص۴۷۶و عطاردی، عزیز الله، مسند الامام الجواد، صص۸۴و۸۵.

7: حرانی، تحف العقول، ص۴۷۶و عطاردی، عزیز الله، مسند الامام الجواد، صص۸۴و۸۵

8: تاریخ قم، ص:۲۱۵

9: طوسی، تهذیب الاحکام، ج ۹، ص۳۵۵

10: الاختصاص، ص ۹۱

11: حرانی، تحف العقول، ص۴۷۶.

12: تهذیب الاحکام، ج ۹ص۳۵۵

13: تاریخ قم،ص:۲۱۶

14: عطاردی، مسند الامام الجواد، ص۸۴ و ۸۵

15: اردکانی، ص ۱۱۴

16: تاریخ قم، ۲۲۴

17: فیض قمی، گنجینہ آثار قم، ص۵۵۲.

18: احمدی، حسین، ص۱۳

19: پایگاه اطلاع رسانی کتابخانه‌های ایران

 

🔴 آپ کے چند فضائل:

 

1۔ امام جواد کے بلا واسطہ بیٹے۔ 2۔ امام نقیؑ کے ایک ہی ایک بھائی اور امام رضاؑ کے پوتے۔ 3۔ قرآن کے مفسر اور اہلبیت کی احادیث کے راوی۔ 4۔ چہل اختران میں دفن امامزادوں اور سادات برقعیہ ،تقویہ اور رضویہ کہ جد۔ 5۔ صاحب کرامات۔ 

 

حضرت موسی مبرقعؑ امام محمد تقیؑ کے بلا فصل بیٹے اور امام علی نقی ؑ کے تن تنہا بھائی ہیں۔ آپ کی والد ہ جناب سمانہ خاتونؑ ہیں جو ایک پاکباز اور صاحب عفت خاتون تھیں۔ آپ نے سال 214 ہجری قمری میں خاندان علم و امامت و معدن فضائل و مکارم میں اپنی آنکھیں کھولیں، آپ نے اپنے والد کے زیر سایہ پرورش پائی اور کمالات علمی و روحانی تک رسائی حاصل کی، یہاں تک کہ امام تقیؑ نے اپنے وصیت نامے میں صداقات اور اوقاف کی ذمہ داری آپ کے سپرد کی، اور اس طرح آپ نے جناب موسی مبرقعؑ پر اپنے اعتماد ، اور ان کے عدالت و تقوی اور بلند مرتبے کو دنیا پر اشکار فرمایا، والد کی شہادت کے بعد آپ نے آپنے بھائی امام نقیؑ کی صحبت سے استفادہ کیا، آپ امام نقیؑ کو "بنفسی انت، میری جان آپ پر فدا ہو" کہہ کر خطاب فرمایا کرتے تھے ۔ موسی مبرقعؑ سال 256 ہجری قمری کو قم تشریف لائے پر آتے ہی قم میں بسنے والے عرب سرداروں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے آپ کاشان تشریف لے گئے، جہاں حاکم اور عوام کی جانب سے آپ کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ کچھ عرصے کے بعد اہل قم کے پرزور اصرار پر آپ پھر قم تشریف لے آئے اور یہاں کے افراد میں آپ ایک محبوب ترین شخصیت بن کر ابھرے۔ اہل قم کی آپ سے محبت کی تین وجوہات تھیں:

پہلی؛ یہ کہ آپ امام تقیؑ کے بلا واسطہ فرزند اور امام نقیؑ کے بھائی تھے۔

دوسری؛ یہ کہ آپ علوم فاطمیہ کے کوثر تھے جو قرآن کی تفسیر اور احادیث کو براہ راست امام معصوم سے بعنوان منبعِ علم الہی نقل کرتے تھے۔ 

تیسری؛ یہ کہ آپ کے رخسار بھی جناب یوسفؑ کی طرح خوبصورت اور جذابیت کے حامل تھے، یہاں تک کہ جب آپ لوگوں کے درمیان سے گزرتے تھے تو وہ اپنے کام دھندے کو چھوڑ کر آپ کو دیکھنا شروع کر دیتے تھے ، اسی وجہ سے آپ اپنے چہرے پر نقاب (برقع) ڈالا کرتے تھے ، اور اسی سبب سے"مبرقع" (برقعے میں رہنے والا) کی صفت سے معروف ہو گئے۔ 

حضرت موسی مبرقعؑ اپنی مجاہدانہ زندگی جس میں آپ نے علوم اہلبیت کی تبلیغ و خدمت کی گزار کر ، منگل و بدھ کی درمیانی شب، ربیع الثانی کی آخری تاریخ کو سال 296 ہجری قمری میں سرزمین قم ہی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، اور امام رضاؑکے ایک صحابی "محمد بن خالد شعری" کے مکان میں دفن کیے گئے۔ کچھ عرصے ے بعد آپ ہی کی اولاد میں سے ایک اور فرد جن کا نام احمد بن محمد تھا آپ کے ساتھ دفن کیے گئے۔ 

 

امام زادہ زید ؑ کا تعارف: (ان کا تعارف اس لیے پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ بھی موسی مبرقع کے ساتھ ہی چہل اختران میں مدفون ہیں)

آپ کا سلسلہ نسب کچھ ہوں ہے:

زید بن علی بن علی اکبر بن محمد سلیق بن عبد اللہ بن محمد بن حسین اصغر بن امام زین العابدینؑ ، کہا جاتا ہے کہ امام زادہ علی اکبر ؑ جو تہران کے بازار تجریش میں دفن ہیں اور وہاں آپ کی بارگاہ زیارت گاہ مومنین ہے، جناب زید کے جد ہیں۔

شیخ مفید فرماتے ہیں: حسین بن علی بن حسینؑ (جد اعلی جناب زید) ایک فاضل سید اور صاحب کمال شخص تھے، انہوں نے آپنے دادا امام سجادؑ، اپنی پھوپی جناب فاطمہ بنت حسینؑ اور اپنے بھائی امام باقرؑ سے کئی احادیث روایت فرمائی ہیں۔ 

امام زادہ زید کے مزار کا بقعہ قرن ہفتم ، ایوان قرن نہم جبکہ گنبد قرن دہم میں تعمیر کیا گیا۔ اس پر موجود کتبہ قرن نہم سے متعلق معلوم ہوتا ہے جس پر رسول اللہﷺ کی یہ روایت کندہ ہے "من زار احدا من ذریتی فکانما زارنی و من زارنی فقد زار اللہ عزوجل" (جو کوئی بھی میری نسل سے کسی ایک کی بھی زیارت کرے وہ ایسا ہے کہ جیسے اس نے میری زیارت کی اور جس نے میری زیارت کی وہ ایسا ہے جیسے اس نے خدا کی زیارت کی)

 

چہل اختران (میں دفن) امام زادوں کا تعارف؛

چہل اختران جناب موسی مبرقعؑ کی اولاد میں سے چالیس افراد کا جائے مدفن ہے جسے ان کا خاندانی قبرستان بھی کہہ سکتے ہیں۔ چہل اختران کا مطلب ہے ، چمکتے ہوئے چالیس ستارے۔ (جبکہ بعض افراد غلطی سے اس کو مدفن چہل دختران (چالیس بیٹیاں) سمجھتے ہیں جس کی کوئی سند نہیں) ۔ کتاب "تاریخ قم" کے لکھے جانے تک، (یعنی سال 378 ہجری قمری) سادات رضوی میں سے چودہ افراد جو جناب موسی مبرقعؑ اور جعفر کی اولاد سے تھے اس بقعے میں دفن ہو چکے تھے، جن کے نام مذکورہ کتاب میں موجود ہیں، بعد میں اسی خاندان کے دیگر افراد بھی یہاں دفن کیے گئے جن کی تعداد چالیس تک پہنچ گئی۔ 

اسناد و مدارک سے جن افراد کے اس پاک اور بابرکت بقعے میں دفن ہونے کا پتہ چلتا ہے وہ یہ ہیں:

1۔ ابو احمد بن موسی مبرقع ؑ۔ 2۔ ابو علی احمد بن موسی مبرقع ؑ۔ 3۔ زینب بنت موسی مبرقع ؑ۔ 4۔ ابو علی محمد بن احمد بن موسی مبرقع ؑ۔ 5۔ بریہہ بنت علی بن جعفر بن امام نقیؑ، زوجہ محمد بن موسی مبرقع ؑ۔ 

 

عارف کامل آیت اللہ العظمی تقی بہجتؒ فرماتے ہیں: جو کوئی بھی جناب موسی مبرقعؑ کی کوئی خدمت کرتا ہے ، وہ مورد عنایات اہلبیت وامام تقیؑ و امام زمانؑہ قرار پاتا ہے۔

 

از قلم ؛ سید سبطین علی نقوی امروہوی الحیدری

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1