علمِ امام جواد ع
علمِ امام جواد ع
علمِ امام جواد ع

🔴 علمِ امام جواد علیه سلام 🔴

 

📜 علی بن إبراهیم عن أبیه قال: استأذن على أبی جعفر ع قوم من أهل النواحی من الشیعة فأذن لهم فدخلوا فسألوه فی مجلس واحد عن ثلاثین ألف مسألة فأجاب ع و له عشر سنین

 

📃 علی بن ابراہیم اپنے والد (ابراہیم بن ہاشم) سے روایت کرتے ہیں:

شیعوں کا ایک گروہ دور دراز علاقوں سے آیا اور امام محمد تقی علیہ السلام سے ملاقات کی اجازت چاہی۔ جب انہیں اجازت ملی اور وہ خدمت امام میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے ایک ہی مجلس میں تیس ہزار مسائل پوچھے، اور امام علیہ السلام نے ان سب کا جواب دیا اس وقت امام کی عمر صرف دس سال تھی۔

 

📚 الکافی، جلد 1، صفحہ 496، طبع دار الکتب الإسلامیہ

 

محدث بزرگ علامہ مجلسی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

 

📚 مرآۃ العقول فی شرح اخبار آل الرسول، جلد 6، صفحہ 104، طبع دار الکتب الإسلامیہ

(حدیث ساتم: الحسن کالصحیح)

 

یعنی یہ حدیث "حسن کالصحیح" کے درجے پر ہے، جو معتبر و قابلِ اعتماد ہے۔

 

⭕ مشہور واقعہ 

 

'' 9 سال کے مولا تقی ص اور علم ِغیب ''

 

امام محمد تقي عليہ السلام جن کي عمر اس وقت تقريبا 9 سال کي تھي - ايک دن بغداد کے کسي گزرگاہ ميں کھڑے ہوئے تھے اور چند لڑکے وہاں کھيل رہے تھے کہ ناگہاں خليفہ مامون کي سواري دکھائي دي ، سب لڑکے ڈر کر بھاگ گئے مگر حضرت امام محمدتقي عليہ السلام اپني جگہ پر کھڑے رہے - جب مامون کي سواري وہاں پہنچي تو اس نے حضرت امام محمد تقی (ع) سے مخاطب ہو کر کہا کہ 

 

صاحبزادے جب سب لڑکے بھاگ گئے تھے تو تم کيوں نہيں بھاگے ؟

انہوں نے بے ساختہ جواب ديا کہ !

 

ميرے کھڑے رہنے سے راستہ تنگ نہ تھا جو ہٹ جانے سے وسيع ہو جاتا - اور ميں نے کوئي جرم نہيں کيا تھا کہ ڈرتا - نيز ميرا حسنِ ظن ہے کہ تم بے گناہ کو ضرر نہيں پہنچاتے -

 

مامون کو حضرت امام محمد تقي کا انداز ِ بيان بہت پسند آيا - اس کے بعد مامون وہاں سے آگے بڑھا ، اس کے ساتھ شکاري باز بھي تھے - جب آبادي سے باہرنکل گيا تو اس نے ايک باز کو ايک چکور پر چھوڑا - باز نظروں سے اوجھل ہوگيا اورجب واپس آيا تو اس کي چونچ ميں ايک چھوٹي سي مچھلي تھي جس کو ديکھ کرمامون بہت متعجب ہوا -

 

تھوڑي دير ميں جب وہ اسي طرف لوٹا تو اس نے حضرت امام محمد تقي عليہ السلام کو دوسرے لڑکوں کے ساتھ وہيں ديکھا جہاں وہ پہلے تھے - لڑکے مامون کي سواري ديکھ کر پھر بھاگے ليکن حضرت امام محمد تقي عليہ السلام بدستور سابق وہيں کھڑے رہے - جب مامون ان (ع) کے قريب آيا تو مچھلي کو چھپا کر کہنے لگا کہ - صاحبزادے بتاؤ ! ميرے ہاتھ ميں کيا ہے ؟ 

انہوں نے فرمايا کہ !

 

'' اللہ تعالي نے زمين و آسمان کے درميان دريا خلق کيا ھے - اوربادشاھوں کے باز ، وھاں سے مچھليوں کا شکار لا کر بادشاھوں کو ديتے ھيں - وہ اپني مٹھي ميں چھپا کر خاندان رسالت سے پوچھتے ھيں کہ بتاؤ ميري مٹھي ميں کيا ھے -'' 

 

يہ سن کرمامون بولا ! بے شک تم علي بن موسي رضا (ع) کے فرزند ہو ، پھر ان کو اپنے ساتھ ليتا گيا -

 

📚 (صواعق محرقہ ص 123 ،مطالب السول ص 209 ،شواہدالنبوت ص 204 ،نورالابصار ص145 ،ارحج المطالب ص 459) 

 

بحار الأنوار، علامہ مجلسی، جلد 50، صفحہ 56۔

 

.. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ ..

،،،،،

 

#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3