امام محمد تقی (علیہ السلام)
شب شہادت امام تقی علیہ السلام کی مناسبت سے
بعض حضرات امام تقی علیہ السلام کی وقت امامت کم سنی کو لے کر پریشان تھے یا ہو جاتے ہیں. ان کی خدمت میں یہ واقعات پیش خدمت ہیں.
محمد بن حسن بن عمار، علی بن جعفر کے ساتھ مسجد میں تھے ۔ وہ اس وقت وہ باتیں لکھ رہے تھے جو انہوں نے اپنے بڑے بھائی امام کاظمؑ سے سن رکھی تھیں ، اسی وقت امام جواد ؑ داخل ہوئے۔ علی بن جعفر ؑ بنا جوتوں اور عبا کے ان کی جانب لپکے اور ان کے ہاتھوں کا بوسہ لیا۔
امام نے ان سے فرمایا: عمو ! خدا آپ پر رحمت فرمائے ۔ بیٹھیے! علی بن جعفر نے کہا: قبلہ میں کیسے بیٹھ سکتا ہوں جبکہ آپ کھڑے ہوئے ہیں! جب علی بن جعفر وہاں لوٹ آئے جہاں پہلے بیٹھے ہوئے تھے تو انہیں ان کے دوستوں نے سرزنش کی اور کہا: تو اس کے باپ کا بھی چچا ہے پھر اس کے ساتھ اس طرح سے کیوں پیش آتا ہے؟ انہوں نے کہا: خاموش ہو جاؤ! انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے محاسن پر رکھ کر فرمایا: جب خدا نے اس سفید داڑھی کو شائشتہ نہیں جانا لیکن اس جوان کو یہ اہلیت بخشی اور اسے وہ مقام دیا جس پر اس وقت وہ ہے تو پھر میں کس طرح اس کی فضیلت کا انکار کر سکتا ہوں؟ جو کچھ تم کہتے ہو اس سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں ، میں تو اس کا غلام ہوں۔
حسین بن موسی بن جعفر کہتے ہیں: میں مدینے میں امام جواد ؑ کے پاس تھا ، وہاں علی بن جعفر اور ایک اعرابی بھی موجود تھا۔ اعرابی نے ان سے ایک سوال پوچھا۔ علی بن جعفر نے اس سے کہا: یہ وصی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ہیں ۔ اعرابی نے کہا: سبحان اللہ! رسول اللہ ص کو اس دنیا سے رخصت ہوئے ۲۰۰ سال گزر چکے ہیں اور ان کی عمر فلاں تھی جبکہ یہ شخص جوان ہے ، یہ کیسے رسول اللہ ص کا وصی و جانشین ہو سکتا ہے؟ علی بن جعفر نے کہا: یہ علی بن موسیٰ کے جانشین ہیں اور وہ موسیٰ بن جعفر کے جانشین تھے اور وہ جعفر بن محمد کے جانشین تھے اور وہ محمد بن علی کے جانشین تھے اور وہ علی بن الحسین کے جانشین تھے اور وہ حسین بن علی کے جانشین تھے اور وہ حسن بن علی کے جانشین تھے اور وہ امیرالمومنین علی بن ابی طالب ؑ کے جانشین تھے اور وہ رسول اللہ ص کے جانشین تھے۔
اس وقت طبیب آن پہنچا تاکہ امام کی حجامت کرے یا ان کی رگ سے خون نکالے۔ ا س وقت علی بن جعفر اٹھے اور عرض کی ۔ اے میرے آقا و مولا اگر اجازت دیجیے تو یہ مجھ سے آغاز کرے تاکہ آپ سے پہلے اس لوہے کی دھار مجھے محسوس ہو؟ امام جواد ؑ نے فرمایا: خدا آپ کو مبارک فرمائے! اس کے بعد اس نے امام کی حجامت کی ، جب امام جانے کے لیے اپنی جگہ سے بلند ہوئے تو علی بن جعفر آگے بڑھے اور ان کے جوتے ملا کر سیدھے کر کے رکھے تاکہ امام انہیں پہن لیں۔
رجال کشی: .[ص ۴۲۹]
علی بن جعفر ایک مرد جلیل القدر ہیں جو مقام رفیع کے حامل ہیں. وہ متقی اور علمائے رجال کے یہاں ثقہ ہیں. ان سے منقول احادیث پر اعتماد کیا جاتا ہے. وہ ہمیشہ اپنے بھائی موسی کاظم ؑ کے ساتھ رہتے اور ان سے احادیث سن کر لکھا کرتے تھے. کوفہ یا قم میں ان کے محل سکونت کے حوالے سے کوئی چیز ثابت نہیں ہو سکی. وحید بہبہانی نے اس حوالے سے جو خبر اپنے جد مجلسی اول سے نقل کی ہے مجلسی دوم نے اسے بعید شمار کیا ہے، قطعی طور پر وہ مدینے میں مدفون ہیں، عریض میں ان کا محل سکونت تھا اس میں کوئی اشکال نہیں ، کیونکہ ان کے اولاد کو عریضی کہتے ہیں. وقت وفات ان کی عمر تقریبا ۱۲۰ سال تھی.
رجال مامقانی
سوال: امام محمد تقی (علیہ السلام) کی شہادت کس طرح ہوئی ؟
تفصیلی جواب: ٢١٨ ہجری میں مامون کا انتقال ہوگیا اوراس کے بعد اس کا بھائی معتصم اس کی جگہ پر بیٹھ گیا ۔ اس نے ٢٢٠ ہجری میں امام محمد تقی (علیہ السلام) کو مدینہ سے بغداد بلوایا تاکہ نزدیک سے آپ پر نظر رکھ سکے ۔ لہذا ایک مجلس میں چور کا ہاتھ کاٹنے کی جگہ کو معین کرنے کے لئے امام علیہ السلام کو بھی بلوایا اور بغداد کاقاضی ابن ابی دائود اور دوسرے فقہاء کو شرمندہ ہونا پڑا اور اس کے چند روز بعد ابن ابی دائود بغض و حسد کی وجہ سے معتصم کے پاس گیا اور اس سے کہا : میں خیر خواہی کی بنیاد پر تمہیں متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ گذشتہ واقعہ حکومت کے فائدہ میں نہیں ہے کیونکہ تم نے تمام علماء اور حکومتی عہدیداروں کے سامنے ابوجعفر (امام جواد ) کے فتوی کے دوسروں کے فتووں پر ترجیح دی ہے اور امام محمد تقی وہ ہیں جن کو آدھے مسلمان خلافت کا مستحق اور تمہیں غاصب سمجھتے ہیں ،یہ خبر تمام لوگوں کے درمیان منتشر ہوگئی اور یہ خود ایک بہترین دلیل ان کی حقانیت پر قائم ہوگئی ۔
معتصم ،امام محمد تقی (علیہ السلام) سے بہت زیادہ دشمنی رکھتا تھا لہذا ابن ابی دائود کی باتوں سے اور زیادہ مشتعل ہوگیا اور امام کو قتل کرنے کے متعلق چارہ جوئی کرنے لگا اور آخر کار اس نے اپنے ارادہ کو مصمم کرلیا اور امام کو اپنے ایک وزیر کے ذریعہ زہر دلادیا (١) ۔
شہادت کے وقت امام محمد تقی (علیہ السلام) کی عمر پچیس سال اور چند ماہ تھی (٢) ۔(٣) ۔
حوالہ جات:
١۔ عياشى، كتاب التفسير، تصحيح و تعليق: حاج سيد هاشم رسولى محلاتى،، قم، المطبعه العلميه، ج 1، ص 320 - مجلسى، همان كتاب، ص 7 - پيشواى نهم...، مؤسسه در راه حق، ص 41 - قزوينى، همان كتاب، ص . امام محمد تقی (علیہ السلام) کی شہادت کے متعلق اور بھی بہت سے اقوال ذکر ہوئے ہیں جن کو اختصار کی وجہ سے یہاں پر ذکر نہیں کیا ہے ، زیادہ تفصیل جاننے کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں میں مراجعہ فرمائیں : ابن شهر اشوب، مناقب آل ابى طالب، ج 4، ص 380 - مجلسى، بحار الأنوار، ج 50، ص 8 و 9 - فتّال نيشابورى، روضه الواعظين، ص .267۔
٢۔ شيخ مفيد، الارشاد، قم، مكتبه بصيرتى،، ص 326 - مجلسى، همان كتاب، ص 7 - محمد بن جرير بن رستم الطبرى،، دلائل الامامه، الطبعه الثالثه، قم، منشورات الرضى،، 1363 ه". ش، ص .208
٣۔ گرد آوری از کتاب: سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص 563.