Back to امام محمد تقی الجواد علیہ السلام

مامون کا امام جواد (علیہ السلام) سے اپنی بیٹی کی شادی کرنے کا ہدف

💠مامون کا امام جواد (علیہ السلام) سے اپنی بیٹی کی شادی کرنے کا ہدف

 

سوال: مامون نے امام جواد (علیہ السلام) سے اپنی بیٹی کی شادی کیوں کی تهی؟

 

✍ جواب: مامون اپنی حکومت کی سیاست کے سخت اور دشوار شرایط میں پھنس گیا تھا ،اس نے اس سے رہایی حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خاندان سے نزدیک کرنے کا ارادہ کیا اور اسی وجہ سے وہ آٹھویں امام کو ولی عہدی کا عہدہ دے کر اپنی سیاست کے کیی پہلویوں تک پہنچنا چاہتا تھا ۔

 

دوسری طرف بنی عباس مامون کے اس طور طریقہ سے جس میں یہ احتمال دیا جارہا تھا کہ مامون خلافت کو بنی عباس سے علویوں میں منتقل کرنا چاہتے ہے، بہت ناراض تھے ،اسی وجہ سے انہوں نے مامون کی مخالفت کی اور جب امام کو مامون نے زہر سے شہید کردیا تو وہ خاموش اور راضی ہوگیے اور مامون کے پاس چلے گیے ۔

 

مامون نے امام رضا (علیہ السلام) کو بہت ہی پوشیدہ طور پر زہر دیا تھا تاکہ معاشرہ میں کویی اس کے اس جرم سے واقف نہ ہو ، اسی وجہ سے وہ اپنے جرم کو چھپانے کے لیے عزادار ی کررہا تھا ۔ لیکن تمام تر پردہ پوشی اور ریاکاری کے باوجود علویوں پر یہ بات ظاہر ہوگیی تھی کہ امام (علیہ السلام) کو زہر دینے والا مامون کے علاوہ کویی اور نہیں ہے ، لہذا وہ بہت ہی آزردہ خاطر اور ناراض ہویے اور مامون نے دوبارہ اپنی حکومت کو خطرہ میں دیکھا اور اس نے اس خطرہ سے بچنے کے لیے دوسرا حربہ استعمال کیا اور امام جواد (علیہ السلام) سے اظہار محبت اور مہربانی کے ذریعہ اپنی بیٹی کی شادی امام سے کرنے کا ارادہ کیا تاکہ ولی عہدی کے ذریعہ سے جو فایدہ اٹھا چکا تھا اب وہ اس شادی کے ذریعہ اپنے دوسرے اہداف تک پہنچ سکے ۔

اسی بنیاد پر اس نے ٢٠٤ ہجری کو یعنی امام رضا (علیہ السلام) کی شہادت کے ایک سال بعد امام جواد (علیہ السلام) کو مدینہ سے بغداد بلایا اور اپنی بیٹی ام الفضل کی شادی امام محمد تقی (علیہ السلام) سے کردی ۔

 

مامون نے اس شادی کے ذریعہ کامل طورپر سیاسی فایدے اٹھایے اور اس شادی کے متعلق مطالعہ کرنے سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس نے مندرجہ ذیل اہداف کی وجہ سے یہ شادی کی تھی :

 

١۔ اپنی بیٹی کو امام کے گھر بھیج کر کامل طور پر آپ پر نظر رکھنا چاہتا تھا تاکہ آپ کے کاموں سے بے خبر نہ رہے (مامون کی بیٹی بھی اپنے باپ کو اچھی طرح تمام باتوں سے باخبر کرتی رہتی تھی اور تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے ) ۔

 

٢۔ اس شادی کے ذریعہ وہ اپنے خام خیال میں امام کو عیش و نوش کی زندگی سے مرتبط اور آپ کو لہو و لعب او رفسق و فجور میں لانا چاہتا تھا تاکہ اس طرح امام کی قداست پر بھاری ضرب لگا سکے اور آپ کو عام لوگوں کی نظر میں عصمت و امامت کے مقام سے ساقط کرسکے ۔

 

٣۔ اس شادی کے ذریعہ علویوں کو اپنے خلاف اعتراض اور قیام سے روک سکے اور اپنے آپ کو ان کا چاہنے والا ظاہر کر سکے (١) ۔

 

٤۔ مامون کا چوتھا ہدف عوام فریبی تھا ،جیسا کہ وہ کہتا تھا : میں نے یہ شادی اس لیے کی ہے تاکہ میری بیٹی ابوجعفر (علیہ السلام) سے صاحب فرزند ہو اور میں اس بچے کا نانا بن سکوں جو پیغمبر اکرم (ص) اور علی (ع) کی نسل سے ہے ۔ لیکن بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ مامون کا یہ دھوکا بھی پورا نہ ہوسکا (٢) اور امام جواد (علیہ السلام) کے ام الفضل سے کویی اولاد نہیں ہویی (

حوالہ جات:

 

١۔ پیشوای نہم حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) ، موسسہ در راہ حق ، قم ، ١٣٦٦ ھ.ش. صفحہ ٣٨ ۔

٢۔ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، نجف، المطبعة الحیدریة ، ١٣٨٤ ، ھ.ق. ، جلد ٣، صفحہ ١٨٩ ۔ ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب، قم ، المطبعة العلمیة، جلد ٤، صفحہ ٣٨٠۔ مامون نے اس سے پہلے بھی اسی ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ایک بیٹی کی شادی آٹھویں امام سے کی تھی اوراس میں بھی وہ ناکام رہا تھا ۔

٣۔ مہدی پیشوائی کی کتاب سیرہ پیشوایان سے منقول ، صفحہ ٥٥٦ ۔