نبی و امام کی عمر نہیں دیکھی جاتی

نبی و امام کی عمر نہیں دیکھی جاتی 

 

 علی ابن اسباط سے مروی ہے کہ :

امام محمد تقی علیہ السلام میری جانب بڑھے تو میں نے آپ کو سراپا غور سے دیکھا تاکہ میں آپ کے قد و قامت کا تذکرہ اپنے اصحاب سے مصر میں کروں میں غور ہی کر رہا تھا کہ آپ علیہ السلام بیٹھے اور مجھ سے فرمایا۔ اے علی ابن اسباط!

"خدا نے امامت میں بھی وہی معیارِ حجت رکھا ہے جو نبوت میں ہے"

ایک جگہ فرماتا ہے

 ہم نے اس کو اپنا حکم (نبوت) بچپن میں دیا،

 دوسری جگہ فرماتا ہے جب وہ پوری قوت والا ہوگیا اور چالیس سال کی عمر کا ہوا۔ پس یہ بھی جائز ہے کہ اپنا حکم بچپن میں دے دے اور یہ بھی جائز ہے کہ چالیس سال کے بعد دے

 

حوالہ: [الکافی جلد 1 ص کتاب الحجة باب مولود امام تقی جوادؑ طبع مکتبة الإسلامیة]

 

 یعنی امام محمد تقی علیہ السلام کا یہ مقصد تھا کہ تم امام علیہ السلام کے بچپنے کے قد و قامت پر نہ جاؤ خدائی عہدے کا تعلق کسی سن سے مخصوص نہیں بلکہ اللہ کے اذن سے ہے۔

 

🖋 عبد اللہ امامی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1