کی بچے کی امامت قبول نہیں ؟
🔴 کیا بچے (یعنی امام جوادؑ) کی امامت قابل قبول ہے؟ 🔴
امام محمد تقی (ع) تقریبا آٹھ سال کی عمر میں امامت کے منصب پر فائز ہوئے
📚 فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ص۸۸
امام محمد تقی (ع) امام رضا(ع) کی عمر کے آخری برسوں میں پیدا ہوئے اور چونکہ آپ(ع) کی ولادت سے قبل امام(ع) کی کوئی اولاد نہ تھی چنانچہ اہل بیت(ع) کے مخالفین اپنی مخالفانہ تشہیری مہم جاری رکھتے ہوئے کہتے تھے کہ "امام رضا(ع) سے کوئی نسل موجود نہیں ہے لہذا امامت کا سلسلہ منقطع ہوگا"،
وہ حقیقت میں رسول اللہ(ص) کی اس حدیث کو جھٹلانے کی کوشش کررہے تھے جو آپ(ص) نے فرمایا تھا: "میرے بعد آئمہ کی تعداد بارہ ہے"؛ کیونکہ اگر امام رضا(ع) کی کوئی اولاد نہ ہوتی تو امامت کا سلسلہ عدد 8 پر کٹ کر رہ جاتا۔
اسی بنا پر جب امام محمد تقی (ع) کو پیدائش کے بعد امام(ع) کے پاس لایا گیا تو آپ(ع) نے فرمایا:
📜 "هذا المولود الذي لم يولد مولود أعظم بركة على شيعتنا منه"۔
📃 ترجمہ: یہ وہ مولود ہے جس سے زیادہ برکت والا مولود ہمارےشیعوں کے لئے اب تک دنیا میں نہیں آیا ہے۔
📚 مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۰، ص۲۰،۲۳،۳۵.
ابن اسباط اور عباد بن اسمعیل نیز ابو یحیی صنعانی کہتے ہیں:
📜 "إنا لعند الرضا عليه السلام بمنى إذ جبئ بأبي جعفر عليه السلام قلنا: هذا المولود المبارك ؟ قال: نعم، هذا المولود الذي لم يولد في الاسلام أعظم بركة منه
📃 ترجمہ ہم امام رضا(ع) کے ساتھ تھے جب ابو جعفر کو ان کے پاس لایا گیا۔ ہم نے عرض کیا: کیا وہ بابرکت مولود یہی ہے؟ فرمایا: ہاں! یہی وہ مولود ہے جس سے زيادہ عظیم برکت والا اسلام میں پیدا نہیں ہوا۔
📚 مجلسی، بحار الانوار، ج50، ص20و23و35۔ شیخ مفید، الارشاد ص 279۔ کلینی رازی، الكافي ج1 ص321
#تعلیمات_اہلبیتؑ
🔴 کم سنی کا مسئلہ 🔴
آئمہ (علیہم السلام) کی تاریخ زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسلہ خود آیمہ خصوصا امام محمد تقی (علیہ السلام) کی زندگی میں کئی بار پیش آیا اور انہوں نے استدلال کے ساتھ جواب دیا :
1⃣ امام رضا اور امام جواد (علیہما اسلام) کے ایک صحابی علی بن اسباط نے کہا ہے :
📃 ایک روز میں امام محمد تقی (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچا اور آپ کی زیارت کرتے ہویے میں بہت دیر تک آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھتا رہا تاکہ آپ کی صورت اچھی طرح سے اپنے ذہن نشین کرلوں اور پھر مصر جاکر اہل مصر کے سامنے بیان کروں
ٹھیک اسی وقت امام محمد تقی (علیہ السلام) جو کہ ظاہری طور پر میری فکر سے آگاہ ہوگیے تھے ، میرے پاس بیٹھ گیے
اور مجھ سے فرمایا : اے علی بن اسباط ! خداوند عالم نے جو کام امامت کے لیے کیا ہے یہ اسی سے مشابہ ہے جو نبوت کے لیے کیا ہے ۔
خداوند عالم نے حضرت یحیی (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا :
📜 وَ آتَيناهُ الحُكمَ صبِيّاً (سوره مريم:12)
📃 ہم نے یحیی کو بچپنے میں نبوت کا حکم دیا
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا :
📜 وَ لَما بَلَغَ أَشدّهُ حُكماً وَ عِلماً (سوره يوسف:22)
📃 جس وقت وہ رشد و بلوغ کی حد تک پہنچے تو ان کو نبوت کا حکم اور علم عطا کیا
اسی طرح حضرت موسی (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا :
📜 وَ لَما بَلَغَ أَشُدّهُ وَاستَوى آتَيناهُ حُكماً وَ عِلماً (سوره قصص:14)
📃 جس وقت وہ رشد و بلوغ کی حد تک پہنچے تو ان کو نبوت کا حکم اور علم عطا کیا
اس بناء پر جس طرح خداوند عالم کے لیے ممکن ہے کہ وہ چالیس سال کی عمر میں کسی کو علم و حکمت عطا کردے اسی طرح ممکن ہے کہ وہ علم و حکمت کو بچپنے میں کسی شخص کو عطا کردے
📚 كلينى، اصول كافى، تهران، مكتبه الصدوق، 1381 ه".ق، ج 1، ص 384 (باب حالات الأئمه فى السّنّ) و ص 494
📚 قزوينى، سيد كاظم، الامام الجواد من المهد إلى اللحد، الطبعه الأولى، بيروت، مؤسسه البلاغ، 1408 ه".ق، ص 232
📚 مسعودى، اثبات الوصيه، الطبعه الرابعه، نجف، منشورات المطبعه الحيدريه، 1374 ه".ق، ص 211۔
📜 عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ حَسَّانَ لابي جعفر (عَلَيْهِ السَّلام) يَا سَيِّدِي إِنَّ النَّاسَ يُنْكِرُونَ عَلَيْكَ حَدَاثَةَ سِنِّكَ فَقَالَ وَمَا يُنْكِرُونَ مِنْ ذَلِكَ قَوْلَ الله عَزَّ وَجَلَّ لَقَدْ قَالَ الله عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) قُلْ هذِهِ سَبِيلِي أَدْعُوا إِلَى الله عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي فَوَ الله مَا تَبِعَهُ إِلا علي (عَلَيْهِ السَّلام) وَلَهُ تِسْعُ سِنِينَ وَأَنَا ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ.
📝 راوی کہتا ہے کہ میں نے امام تقی علیہ السلام سے کہا کہ لوگ آپؑ کی کمسنی کی وجہ سے آپؑ کی امامت سے انکار کرتے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کیا وہ اس قولِ خدا سے انکار کرتے ہیں جہاں اس نے اپنے نبیؐ سے فرمایا: "تم لوگوں سے کہہ دو کہ میں اور میرا پیرو خدا کی بصیرت کے ساتھ بلاتے ہیں اور یہی میرا راستہ ہے۔" (سورۂ یوسف آیت108)۔ پس خدا کی قسم علی علیہ السلام نے نو سال کی عمر میں پیرویٔ رسولؐ کی تھی اور اب میں بھی نو سال کا ہوں۔
اس حدیث کی سند حسن ہے۔
📚 مراۃ العقول:ج4:ص251
📚 تفسير القمي ج 1 ص 358, الكافي ج 1 ص 384, الوافي ج 2 ص 378, البرهان ج 3 ص 214, حلية الأبرار ج 4 ص 546, مدينة المعاجز ج 7 ص 278, مرآة العقول ج 4 ص 251, بحار الأنوار ج 36 ص 51, نفسير نور الثقلين ج 2 ص 476, تفسير كنز الدقائق ج 6 ص 397, العوالم ج 23 ص 155
#تعلیمات_اہلبیتؑ
2⃣ امام رضا (علیہ السلام) کے ایک صحابی کہتے ہیں :
خراسان میں امام رضا (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچا ، وہاں پر ایک شخص نے امام علیہ السلام سے عرض کیا : میرے سید و سردار ! اگر (خدانخواستہ) کویی حادثہ پیش آگیا تو ہم کس کے پاس رجوع کریں ؟
امام نے فرمایا : میرے بیٹے ابوجعفر کی طرف رجوع کرنا
(امام جواد (علیہ السلام) کی کنیت ابوجعفر ہے اور امام باقر (علیہ السلام) کی کنیت بھی ابوجعفر تھی اس لئے آپ کو ابوجعفر ثانی کہا جاتا تھا)
اس وقت اس شخص نے کہا کہ حضرت امام جواد (علیہ السلام) کی عمر تو بہت کم ہے ،امام رضا (علیہ السلام) نے فرمایا :
📜 خداوند عالم نے حضرت عیسی بن مریم کو ابوجعفر سے کم عمر میں رسول اور صاحب شریعت قرار دیا تھا
📚 كلينى، اصول كافى، ج 1، ص 322 و 384 -
📚 شيخ مفيد، الارشاد، قم، مكتبه بصيرتى، ص 319 -
📚 فتّال نيشابورى، روضه الواعظين، الطبعه الأولى، بيروت، مؤسسه الأعلمى، 1406 ه".ق، ص 261 -
📚 على بن عيسى الاربلى، كشف الغمّه، تبريز، مكتبه بنى هاشمى، 1381 ه".ق، ج 3، ص 141 –
📚 طبرسى اعلام الورى ، الطعبه الثالثه، المكتبه الاسلاميه، ص 346.
۔
#تعلیمات_اہلبیتؑ
3⃣ امام رضا (علیہ السلام) نے اپنے ایک صحابی «معمر بن خلاد« سے فرمایا :
📜 میں نے ابوجعفر کو اپنی جگہ پر بٹھا دیا اور اپنا جانشین قرار دیا ہے ، ہمارا خاندان وہ ہے جس میں ہمارا چھوٹے سے چھوٹا شخص بھی اپنے بزرگوں کا پورا وارث ہوتا ہے
📚 شيخ مفيد، الارشاد، قم، مكتبه بصيرتى، ص 318 -
📚 طبرسى اعلام الورى ، الطعبه الثالثه، المكتبه الاسلاميه، ص 346.
📚 على بن عيسى الاربلى، كشف الغمّه، تبريز، مكتبه بنى هاشمى، 1381 ه".ق، ج 3، ص 141
📚 مجلسى، بحار الأنوار، تهران، المكتبه الاسلاميه، 1395 ه".ق، ج 50، ص 21 - ص 320.
📚 سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص 537
#تعلیمات_اہلبیتؑ
4⃣ تیسری صدی کے شروع میں نو سال یا اس سے کم عمر کے بچے کی امامت پر اس وقت کے فقہاء اور متکلمین کو تعجب ہوا ،
لیکن مامون حقیقت سے واقف تھا ، اس نے سب کو امام محمد تقی (علیہ السلام) سے مناظرہ کرنے کی دعوت دی تاکہ حقیقت سے پردہ اٹھا دیا جایے ، علماء اور دانشوروں کے ساتھ آپ کے مناظرہ نے سینوں میں سانسوں اور منہ میں زبانوں کو بند کردیا ۔
یہاں پر ہم امام محمد تقی (علیہ السلام) کے ایک مناظرہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
یحیی نے امام جواد سے اجازت لی ۔
امام نے فرمایا : اے یحیی تم جو پوچھنا چاہو پوچھ سکتے ہو ۔
یحیی نے کہا : یہ فرماییے کہ حالت احرام میں اگر کویی شخص شکار کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
اس سوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ یحیی حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) کی علمی بلندی سے بالکل واقف نہ تھا وہ اپنے غرور علم او رجہالت سے یہ سمجھتا تھا کہ یہ کمسن صاحبزادہ ہیں ، روز مرہ کے روزے ، نماز کے مسائل سے واقف ہوں تو ہوں، لیکن حج وغیرہ کے احکام اور حالت احرام میں جن چیزوں کی ممانعت ہے ان کے کفاروں سے بھلا کہاں واقف ہوں گے !
امام نے اس کے جواب میں اس طرح سوال کے گوشوں کی الگ الگ تحلیل فرمایی جس سے اصل مسیلہ کا جواب دییے بغیر آپ کے علم کی گہراییوں کا یحیی اور تمام اہل محفل کو اندازہ ہوگیا ۔ یحیی خود بھی اپنے کو سبک پانے لگا اور تمام مجمع کو بھی اس کا سبک ہونا محسوس ہونے لگا ،
آپ نے جواب میں فرمایا : اے یحیی ! تمہارا سوال بالکل مبہم اور مہمل ہے ،سوال کے ذیل میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ شکار حل میں تھا یا حرم میں ، شکار کرنے والا مسیلہ سے واقف تھا یا ناواقف، اس نے عمدا اس جانور کا شکار کیا تھا یا دھوکے سے قتل ہوگیا تھا ، وہ شخص آزاد تھا یا غلام، کمسن تھا یا بالغ۔ پہلی مرتبہ ایسا کیا تھا یا اس کے پہلے بھی ایسا کرچکا تھا ، شکار پرند کا تھا یا کوئی اور چھوٹا یابڑا جانور تھا وہ اپنے فعل پر اصرار رکھتا ہے یا پشیمان ہے ، رات کو پوشیدہ طریقہ پر اس نے اس کا شکار کیا یا دن میں اعلانیہ طور پر، احرام عمرہ کا تھا یا حج کا۔ جب تک یہ تمام تفصیلات نہ بتایے جاییں اس وقت تک اس مسلے کا کوئی معین حکم نہیں بتایا جاسکتا ۔
یحیی کتنا ہی ناقص کیوں نہ ہوتا، بہرحال فقہی مسائل پر کچھ نہ کچھ اس کی نظر تھی ، وہ ان کثیرالتعداد شقوں کے پیدا کرنے ہی سے خوب سمجھ گیا کہ ان کا مقابلہ میرے لیے آسان نہیں ہے اس کے چہرہ پر ایسی شکستگی کے آثار پیدا ہویے جن کا تمام دیکھنے والوں نے اندازہ کرلیا ۔ اب اس کی زبان خاموش تھی اور وہ کچھ جواب نہ دیتا تھا ۔
📚 مجلسى، بحار الأنوار، الطبعه الثانيه، تهران، المكتبه الاسلاميه، 1395 ه".ق، ج 50، ص 75 - 76 - 77
📚 قزوينى، سيد كاظم، الامام الجواد من المهد اًّلى اللحد، الطبعه الأولى، بيروت، مؤسسه البلاغ، 1408 ه".ق، ص 168 - .172۔ 174
📚 شيخ مفيد، الارشاد، قم، مكتبه بصيرتى، ص 319 - 321 - 322
📚 طبرسى، الاحتجاج، نجف، المطبعه المرتضويه، 1350، ص 245 - 246
📚 مسعودى، اثبات الوصيه، نجف، منشورات المطبعه الحيدريه، 1374 ه".ق، ص 216 - 217
📚 شيخ مفيد، الاختصاص، تصحيح و تعليق: على اكبر الغفّارى،، منشورات جماعه المدرّسين فى الحوزه العلميه - قم المقدسه، ص 99 - 100
#اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد #ولادت #امام_محمد_تقی_علیه_السلام #رجب #Imam_Jawad #امام_جواد #تقی #imam_taqi #محمد_تقی #تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا #بدر_علی #PlzLikeandShare Sadia Rubab #Plz_like_my_page #PlzShare #PlzLikeandFollowthePage #talimaat_e_ahlbait