امام محمد تقی ع اور جعلی احادیث سے مقابلہ
امام محمد تقی (علیہ السلام) اور جعلی احادیث سے مقابلہ
سوال: امام محمد تقی (علیہ السلام) نے خلیفہ اول و دوم کی فضیلت میں گڑھی ہوئی احادیث کا کس استدلال کے ساتھ جواب دیا ؟
جواب:
نقل ہوا ہے کہ جب مامون نے اپنی بیٹی کی شادی امام محمد تقی (علیہ السلام) سے کردی تو ایک روز مجلس میں مامون، امام ع اور یحیی بن اکثم اور دوسرے لوگ بیٹھے ہویے تھے، یحیی نے امام علیہ السلام سے کہا :
روایت بیان ہوئی ہے کہ جبرییل ،پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں پہنچے اور کہا : یا محمد ص ! خداوند عالم نے آپ پر سلام کیا ہے اور کہا ہے : میں ابوبکر سے راضی ہوں، اس سے پوچھو کہ کیا وہ بھی مجھ سے راضی ہے ؟
اس متعلق آپ کا نظریہ کیا ہے ؟ (١) ۔
امام نے فرمایا : میں ابوبکر کی فضیلت کا منکر نہیں ہوں ، لیکن جس نے یہ خبر نقل کی ہے اس کو دوسری وہ خبر بھی بیان کرنا چاہیے تھی جو پیغمبر اکرم(ص) نے حجة الوداع میں بیان کی تھی ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جو بھی میرے اوپر جھوٹی تہمت لگائے گا اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا ،
لہذا اگر میری کوئی حدیث تمہارے سامنے پیش کی جائے تو اس کو کتاب خدا اورمیری سنت کے سامنے پیش کرو ، جو بھی کتاب خدا اور میری سنت کے مطابق ہو اس کو لے لو اور جو کچھ کتاب خدا اور میری سنت کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دو ۔
امام محمد تقی (علیہ السلام) نے مزید فرمایا : (ابوبکر کے متعلق) یہ روایت خدا کی کتاب سے موافقت نہیں رکھتی کیونکہ خداوند عالم نے فرمایا ہے : ہم نے انسان کو خلق کیا ہے اور ہم ہی جانتے ہیں کہ اس کے دل میں کیا ہے اور ہم اپنے بندہ سے اس کی شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہیں (٢) ۔
کیا ابوبکر کی خشنودی یا ناراضگی خدا کے اوپر پوشیدہ تھی تاکہ وہ اس کو پیغمبر اکرم (ص) سے پوچھے ؟
یہ بات عقلی طور پر محال ہے ۔
یحیی نے کہا : روایت ہوئی ہے : ابوبکر اور عمر زمین پر آسمان میں جبرییلء کی طرح ہیں ۔
آپء نے فرمایا : اس حدیث کے متعلق بھی غوروفکر سے کام لو کیونکہ جبرائیل و میکائیل خداوندعالم کی بارگاہ میں مقرب دو فرشتہ ہیں اور ان دونوں سے کبھی بھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا ہے اور ایک لمحہ کے لیے بھی خدا کی اطاعت کے دائرہ سے خارج نہیں ہوئے ہیں ، لیکن ابوبکر اور عمر مشر ک تھے اگرچہ ظہور اسلام کے بعد مسلمان ہوگئے تھے ،لیکن ان کی اکثر و بیشتر عمر شرک اور بت پرستی میں گزری ہے اس بناء پر محال ہے کہ خداوندعالم ان دونوں کو جبرائیل اور میکائیل سے تشبیہ دے ۔
یحیی نے کہا : اسی طرح روایت ہوئی ہے کہ ابوبکر اور عمر اہل بہشت میں بوڑھے لوگوں کے سردار ہیں (٣) ۔
اس حدیث کے متعلق آپء کیا کہتے ہیں ؟
آپ نے فرمایا : اس روایت کا صحیح ہونا بھی محال ہے کیونکہ تمام اہل بہشت جوان ہیں اوران کے درمیان کوئی ایک بھی بوڑھا نہیں ہوگا (تاکہ ابوبکر اور عمر ان کے سردار بن سکیں) اس روایت کو بنی امیہ نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اس حدیث کے مقابلہ میں جعل کی ہے جو امام حسنء اور امام حُسینء کے متعلق بیان ہوئی ہے ،نقل ہوا ہے کہ حسنء و حُسینء ،جوانان جنت کے سردار ہیں ۔
یحیی نے کہا : روایت ہوئی ہے کہ عمر بن خطاب اہل بہشت کے چراغ ہیں ۔
آپء نے فرمایا : یہ بھی محال ہے کیونکہ بہشت میں خدا کے مقرب فرشتے، انبیاء ، آدم، محمد(ص) اور تمام فرشتے موجود ہیں پھر کس طرح ممکن ہے کہ بہشت ان کے نور سے روشن نہ ہو لیکن عمر کے نور سے روشن ہوجائے ؟!
یحیی نے کہا : روایت ہوئی ہے کہ ""سکینہ"" عمر کی زبانی باتیں کرتی ہے (عمر جو کچھ کہتا ہے وہ ملائکہ اور فرشتوں کی طرف سے کہتا ہے ) ۔
امام علیہ السلام) نے فرمایا : میں عمر کی فضیلت کا منکر نہیں ہوں ، لیکن ابوبکر جو کہ عمر سے افضل تھے ، منبر کے اوپر کہتے تھے : میرے پاس ایک شیطان ہے جو مجھے منحرف کردیتا ہے ، لہذا تم جب بھی مجھے منحرف ہوتے ہوئے دیکھو تو میرا ہاتھ پکڑ لینا ۔
یحیی نے کہا : روایت ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں نبوت کے لئے مبعوث نہ ہوتا تو یقینا عمر مبعوث ہوتا (٤) ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا : یقینا کتاب خدا (قرآن کریم) اس حدیث سے زیادہ سچی اور صحیح ہے ، خداوند عالم نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے :
""وَ ِذْ أَخَذْنا مِنَ النَّبِیِّینَ میثاقَہُمْ وَ مِنْکَ وَ مِنْ نُوحٍ وَ ِبْراہیمَ وَ مُوسی وَ عیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَ أَخَذْنا مِنْہُمْ میثاقاً غَلیظاً"" (٥) ۔
اوراس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے تمام انبیاء( علیہم السّلام) سے اور بالخصوص آپ(ص) سے اور نوح (علیہ السلام)،ابراہیم (علیہ السّلام)، موسیٰ (علیہ السّلام) اور عیسٰی بن مریم (علیہما السلام) سے عہد لیا اور سب سے بہت سخت قسم کا عہد لیا ۔
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ خداوند عالم نے انبیاء سے عہد و پیمان لیا تھا پھر کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنے عہد و پیمان کو بدل دیتا ؟
انبیاء میں سے کسی ایک نبی نے ذرا سی دیر کے لئے بھی شر ک اختیار نہیں کیا ، لہذا کس طرح ممکن ہے کہ خداوند عالم ایسے شخص کو نبوت کے لیے مبعوث کرے جس کی عمر کا اکثر و بیشتر حصہ خدا کے شر ک میں گزرا ہو ؟!
نیز پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : جس وقت آدمء آب و گل کے درمیان تھے (یعنی ابھی خلق نہیں ہوئے تھے) میں اس وقت بھی نبی تھا ۔
یحیی نے پھر کہا : روایت ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : کبھی بھی مجھ سے وحی قطع نہیں ہوئی اور اگرقطع ہوئی تو مجھے یہ خیال آیا کہ وحی خطاب (عمر کے باپ) کے گھر میں منتقل ہوگئی ہے ۔ یعنی نبوت میرے گھر سے ان کے گھر میں منتقل ہوگئی ہے ۔
آپء نے فرمایا : یہ بھی محال ہے کیونکہ ممکن نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم اپنی نبوت میں شک کریں ، خداوند عالم فرماتا ہے : خداوند فرشتوں اور اسی طرح انسانوں کے درمیان سے انبیاء کا انتخاب کرتا ہے (٦) ۔ (اس بناء پر خدا کے انتخاب کے بعد پیغمبر اکرم (ص) کے لیے کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا) ۔
یحیی نے کہا : روایت میں ذکر ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : اگر عذاب نازل ہوتا تو عمر کے علاوہ کسی اور کو نجات نہ ملتی ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا : یہ بھی محال ہے کیونکہ خداوند عالم نے پیغمبر اکرم (ص) سے فرمایا ہے : جب تک تم ان کے درمیان ہو اس وقت تک خداوندعالم ان پر عذاب نہیں کرے گا اور جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے اس وقت تک ان پر عذاب نہیں ہوگا (٧) ۔ اس وجہ سے جب تک پیغمبر اکرم (ص) ان کے درمیان ہیں اور جب تک استغفار کرتے رہینگے ، خدا ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا (٨) ۔(٩) ۔
📚حوالہ جات:
١۔ علامہ امینی نے کتاب الغدیر (جلد ٥، صفحہ ٣٢١) میں لکھا ہے : یہ حدیث جھوٹی ہے اور محمد بن بابشاذ کی جعلی حدیثوں میں سے ایک جعلی حدیث ہے ۔
٢۔ وَلَقَد خَلَقنَا الانسَانَ وَ نَعلَمُ مَا تُوَسوِسُ بِهِ نَفسهُ وَ نَحنُ أَقرَبُ إِلَیهِ مِن حَبلِ الوَرِيد». (سورهّ ق: 16).
٣۔ علامہ امینی نے اس حدیث کو یحیی بن عنبسہ کی گڑھی ہوئی بیان کی ہے اور یہ حدیث قابل قبول نہیں ہے کیونکہ یحیی بن عنبسہ کو حدیث کا جعل کرنے والا اور جھوٹا کہا گیا ہے ،اس کو معلوم الحال اور اسکی احادیث کو مردود کہا گیا ہے (میزان الاعتدال، الطبعة الاولی، تحقیق : علی محمد البجاوی، دار احیاء الکتب العربیة، ١٣٨٢ھ.ق. ، جلد ٤، صفحہ ٤٠٠ ۔
٤۔ علامہ امینی نے ثابت کردیا ہے کہ اس حدیث کے راوی جھوٹے ہیں (الغدیر ، جلد ٥، صفحہ ٣١٢ و ٣١٦) ۔
٥۔ سورہ احزاب، آیت ٧) ۔
٦۔ الله يَصطَفِى مِنَ المَلائِكَهِ رُسُلاً وَ مِنَ النّاسِ» (سوره حج: 75)
(7) . «وَ مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذّبُهُم وَ أَنتَ فِيهِم وَ مَا كَانَ اللهَُ مُعَذّبَهُم وَ هُم يَستَغفِرُونَ» (سوره انفال: 33)
(8) . طبرسى، احتجاج، نجف، المطبعه المرتضويه، 1350 ه".ق، ج 2، ص 247 - 248 - مجلسى، بحار الأنوار، الطبعه الثانيه - تهران، المكتبه الاسلاميه، 1395 ه".ق، ج 50، ص 80 - 83 قرشى، سيد على اكبر، خاندان وحى، چاپ اول، تهران، دار الكتب الاسلاميه، 1368 ه".ش، ص 644 - 647 - مقرّم، سيد عبدالرزاق، نگاهى گذرا بر زندگانى امام جواد - عليه السلام -، ترجمه دكتر پرويز لولاور، مشهد، بنياد پژوهشهاى اسلامى آستان قدس رضوى، 1370 ه".ش، ص 98 – 100.
(9) . گرد آوری از کتاب: سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص 551
#اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد #ولادت #امام_محمد_تقی_علیه_السلام #رجب #Imam_Jawad #امام_جواد #تقی #imam_taqi #محمد_تقی #تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا #بدر_علی #PlzLikeandShar #Plz_like_my_page #PlzShare #PlzLikeandFollowthePage #talimaat_e_ahlbait
تبدیلی_ممنوع
۔
۔
کیا امام باقرؑ سے منسوب روایت:
«لستُ بمنکر فضلِ أبی بکر»
صحیح ہے؟
سوال کی وضاحت:
کیا امام باقرؑ سے یہ روایت درست طور پر نقل ہوئی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
«میں ابو بکر کی فضیلت کا انکار نہیں کرتا»؟
اور امام باقرؑ سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
«میں ابو بکر کی فضیلت کا منکر نہیں ہوں، اور نہ عمر کی فضیلت کا، لیکن ابو بکر، عمر سے افضل ہے»
(الاحتجاج، طبرسی — مختلف دینی علوم میں ابو جعفر بن علی الثانی کے احتجاج کے عنوان کے تحت)
یعنی امام باقرؑ سے نقل کیا گیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: میں ابو بکر اور عمر کی برتری کا منکر نہیں ہوں، لیکن ابو بکر، عمر پر برتری رکھتا ہے۔
جواب:
اوّلًا: یہ روایت کتاب الاحتجاج (طبرسی) میں آئی ہے، اور اس کی کوئی سند موجود نہیں ہے۔ طبرسی لکھتے ہیں: «وَرُوِیَ» (روایت کیا گیا ہے) اور کوئی سند ذکر نہیں کرتے۔
ثانیًا: یہ حدیث دراصل امام جوادؑ سے، یحییٰ بن اکثم کے جواب میں نقل ہوئی ہے۔ مصنف امام باقرؑ اور حضرت جوادؑ — جن دونوں کی کنیت ابو جعفر ہے — کے درمیان فرق سے واقف نہیں تھا، اسی وجہ سے اس نے تمیز نہیں کی۔
ثالثًا: امام جواد علیہ السلام نے یہ بات ابو بکر اور عمر کے طرف داروں کے مقابلے میں فرمائی تھی۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص اپنے مخالفین سے مناظرہ کرتا ہے تو وہ ان کے تمام عقائد کی علانیہ مخالفت نہیں کر سکتا، کیونکہ ایسی صورت میں اس کی بات کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں ہے۔
خداوندِ کریم اس واقعے کو یوں بیان کرتا ہے:
پس جب رات نے ان پر پردہ ڈال دیا تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا، کہا: یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ غروب ہو گیا تو کہا: میں غروب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
پھر جب انہوں نے چمکتا ہوا چاند دیکھا تو کہا: یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ غروب ہو گیا تو کہا: اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دے تو میں ضرور گمراہ لوگوں میں سے ہو جاؤں گا۔
پھر جب انہوں نے چمکتا ہوا سورج دیکھا تو کہا: یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا: اے میری قوم! میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو۔
یقیناً جب حضرت ابراہیم کہتے ہیں کہ ستارہ، چاند اور سورج میرے رب ہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حقیقتاً اس بات کو مانتے تھے۔
اسی طرح امام جواد علیہ السلام نے مناظرے کے آغاز میں ابو بکر اور عمر کی فضیلت کا ذکر کیا — جو ان کے مخالف کے نزدیک مسلم تھی — پھر ایک دوسرے جملے کے ذریعے اس سب کو باطل کر دیا:
انہوں نے منبر کے اوپر فرمایا:
«بے شک مجھ پر ایک شیطان غالب آ جاتا ہے، پس جب میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو تم مجھے سیدھا کر دیا کرو۔»
ابو بکر نے منبر پر کہا:
مجھ پر ایک شیطان مسلط ہے جو مجھے وسوسہ میں ڈالتا ہے۔
مصنف نے یہاں بھی نقل میں امانت داری کا لحاظ نہیں رکھا اور کلام کا بقیہ حصہ حذف کر دیا، حالانکہ بہتر تھا کہ اس کا تسلسل بھی نقل کرتا۔
تحقیقی ادارہ حضرت ولی عصرؑ (عج)