⚫ شہادت امام محمد تقی علیہ السلام ⚫

 

ھم امام مہدی عجل الله تعالٰی فرجہ الشریف کی خدمت میں هدیہ تعزیت پیش کرتے هیں.

 

ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺎﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺑﺘﺎﺭﯾﺦ ۱۰ ﺭﺟﺐ ﺍﻟﻤﺮﺟﺐ ۱۹۵ ﮪ ﺑﻤﻄﺎﺑﻖ ۸۱۱ ﺀ ﯾﻮﻡ ﺟﻤﻌﮧ ﺑﻤﻘﺎﻡ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﻣﺘﻮﻟﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ.

(ﺭﻭﺿﺔ ﺍﻟﺼﻔﺎﺟﻠﺪ۳ ﺹ ۱۶،ﺷﻮﺍﮨﺪ ﺍﻟﻨﺒﻮﺕ ﺹ ۲۰۴، ﺍﻧﻮﺭﺍﻟﻨﻌﻤﺎﻧﯿﮧ ﺹ ۱۲۷)

 

ﻋﻼﻣﮧ ﺷﯿﺦ ﻣﻔﯿﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﺔ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ امام محمد تقی (ع) کی ﻭﻻﺩﺕ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ اولاد ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻟﻮﮒ ﻃﻌﻨﮧ ﺯﻧﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﺍﻟﻨﺴﻞ ﮨﯿﮟ- ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻨﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﺎ ﻭﺍﺭﺙ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮔﺎ.

(ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺹ ۴۷۳)

 

ﻋﻼﻣﮧ ﻃﺒﺮﺳﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﺟﻮ ﺑﭽﮧ ﻋﻨﻘﺮﯾﺐ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﻋﻈﯿﻢ ﺑﺮﮐﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﻮﮔﺎ.

(ﺍﻋﻼﻡ ﺍﻟﻮﺭﯼ ﺹ ۲۰۰)

 

ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻭﻻﺩﺕ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﮑﯿﻤﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻼ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﺮﻭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺧﯿﺰﺭﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻄﻦ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﯽ ﺟﺐ ﺭﺍﺕ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﮨﻤﺴﺎﯾﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﻼﺋﯽ ﮔﺌﯿﮟ، ﻧﺼﻒ ﺷﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﭘﺮ ﯾﮑﺎﯾﮏ ﻭﺿﻊ ﺣﻤﻞ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﯾﮧ ﺣﺎﻝ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺰﺭﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﺠﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ، ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔

ﻭﻻﺩﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻃﺸﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﻮ ﭼﺮﺍﻍ ﺭﻭﺷﻦ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﮔﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺣﺠﺮﮦ ﻣﯿﮟ امام (ع) کے نور کی ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﺭﮨﯽ، ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﮧ ﮐﻮ ﻧﮩﻼ ﺩﯾﺎ، ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻋﺠﻠﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺻﺎﺣﺒﺰﺍﺩﮮ ﮐﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﯿﭧ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﯽ ﺁﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺪﯾﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﻮﺳﮧ ﺩے ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ-

 

ﺩﻭ ﺩﻥ ﺗﮏ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﺭﮨﯿﮟ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻠﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ (ع) ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﭘﮭﺮ ﺩﺍئیں، ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﻠﻤﮧ ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﻦ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺨﺖ ﻣﺘﻌﺠﺐ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ، امام علی رضا علیہ السلام ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:

ﺗﻌﺠﺐ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺣﺠﺖ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﺻﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﺪﯼ (ص) ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻋﺠﺎﺋﺒﺎﺕ ﻇﮩﻮﺭ ﭘﺬﯾﺮ ﮨﻮﮞ، ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﺠﺐ ﮐﯿﺎ؟

 

ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﯽ ﻧﺎﻗﻞ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﮩﺮ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﯾﮕﺮ ﺁﺋﻤﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﮩﺮﯾﮟ ﮨﻮﺍﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ.

(ﻣﻨﺎﻗﺐ)

 

ﺁﭖ ﮐﺎ ﺍﺳﻢ ﮔﺮاﻣﯽ ﻟﻮﺡ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ آپ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺎﺟﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ”ﻣﺤﻤﺪ“ ﺭﮐﮭﺎ.

ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﻨﯿﺖ ”ﺍﺑﻮﺟﻌﻔﺮ“ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﻟﻘﺎﺏ ﺟﻮﺍﺩ، ﻗﺎﻧﻊ، اور ﻣﺮﺗﻀﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﻟﻘﺐ ﺗﻘﯽ ہے.

(ﺭﻭﺿﺔ ﺍﻟﺼﻔﺎﺟﻠﺪ۳ ﺹ ۱۶،ﺷﻮﺍﮨﺪ ﺍﻟﻨﺒﻮﺕ ﺹ ۲۰۲ ، ﺍﻋﻼﻡ ﺍﻟﻮﺭﯼ ﺹ ۱۹۹)

 

🔷 بہترین مولود

امام محمد تقی علیہ السلام، امام رضا علیہ السلام کی عمر کے آخری برسوں میں پیدا ہوئے اور چونکہ آپ (ع) کی ولادت سے قبل امام (ع) کی کوئی اولاد نہ تھی چنانچہ اہل بیت (ع) کے مخالفین اپنی مخالفانہ تشہیری مہم جاری رکھتے ہوئے کہتے تھے کہ:

"امام رضا (ع) سے کوئی نسل موجود نہیں ہے لہذا امامت کا سلسلہ منقطع ہوگا"

وہ حقیقت میں رسول اللہ (ص) کی اس حدیث کو جھٹلانے کی کوشش کررہے تھے جو آپ (ص) نے فرمایا تھا:

"میرے بعد آئمہ کی تعداد بارہ ہے"

کیونکہ اگر امام رضا (ع) کی کوئی اولاد نہ ہوتی تو امامت کا سلسلہ عدد 8 پر کٹ کر رہ جاتا۔ اسی بنا پر جب امام محمد تقی (ع) کو پیدائش کے بعد امام (ع) کے پاس لایا گیا تو آپ (ع) نے فرمایا:

"هذا المولود الذي لم يولد مولود أعظم بركة على شيعتنا منه."

یہ وہ مولود ہے جس سے زیادہ برکت والا مولود ہمارے شیعوں کے لئے اب تک دنیا میں نہیں آیا ہے۔

 

ابن اسباط اور عباد بن اسمعیل نیز ابو یحیی صنعانی کہتے ہیں: ہم امام رضا (ع) کے ساتھ تھے جب ابو جعفر کو ان کے پاس لایا گیا۔

ہم نے عرض کیا:

کیا وہ بابرکت مولود یہی ہے؟

فرمایا: ہاں! یہی وہ مولود ہے جس سے زيادہ عظیم برکت والا اسلام میں پیدا نہیں ہوا-

{کلینی، الکافی، جلد_1، صفحہ_321}

 

🔷 امام محمد تقی علیه السلام کی نشونما اور تربیت

یہ ا یک حسرت ناک واقعہ ہے کہ امام محمدتقی علیہ السّلام کو نہایت کمسنی ہی کے زمانے میں مصائب اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو جانا پڑا. انھیں بہت کم ہی اطمینان اور سکون کے لمحات میں باپ کی محبت، شفقت اور تربیت کے سائے میں زندگی گزارنے کا موقع مل سکا.

آپ کو صرف پانچواں برس تھا. جب حضرت امام رضا علیہ السّلام مدینہ سے خراسان کی طرف سفر کرنے پر مجبور ہوئے تو پھر زندگی میں ملاقات کا موقع نہ ملا امام محمد تقی علیہ السّلام سے جدا ہونے کے تیسرے سال امام رضا علیہ السّلام کی شہادت ہو گئی. دنیا سمجھتی ہوگی کہ امام محمد تقی علیہ السّلام کے لیے علمی وعملی بلندیوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا اس لیے اب امام جعفر صادق علیہ السّلام کی علمی مسند شاید خالی نظر آئے مگر خلق خدا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس کمسن بچے کو تھوڑے دن بعد مامون کے پہلو میں بیٹھ کر بڑے بڑے علماء سے فقہ، حدیث، تفسیراور کلام پر مناظرے کرتے اور سب کو قائل ہوجاتے دیکھا. اس کی حیرت اس وقت تک دور ہونا ممکن نہ تھی , جب تک وہ مادی اسباب کی بجائے ایک مخصوص خداوندی مدرسہ تعلیم وتربیت کے قائل نہ ہوتے، جس کے بغیر یہ معمہ نہ حل ہوا اور نہ کبھی حل ہوسکتا ہے.

 

🔷 دور بنی عباس اور شیعوں کی حفاظت:

امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے وقت امام محمد تقی علیہ السلام کی عمر مبارک تقریبا آٹھ سال تھی.

ماہ صفر کے آواخر سال ۲۰۳ ھ ق میں امام رضا علیہ السلام کی جانگداز شہادت کے بعد رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے تحت وقت کے امام حضرت محمد تقی الجواد علیہ السلام قرار پائے۔

عباسی خلیفہ مامون بنی عباس کے دوسرے خلفاء کی طرح اوصیائے رسولخدا آئمہ معصومین علیھم السلام کی معنوی پیشرفت اور ان کے باطنی نفوذ اور لوگوں کے درمیان ان کے فضائل کے عام ہونے سے خوف زدہ تھا.

اس نے کوشش کہ فرزند رضا علیہ السلام کو کڑی نگرانی میں رکھا جائے. اسی وجہ سے اس نے اپنی بیٹی ام الفضل کا عقد امام جواد علیہ السلام سے کروا دیا تا کہ امام علیہ السلام کے گھر میں ہی ان پر نظر رکھنے والا کوئی موجود رہے. اس گھریلو گماشتے نے جو تکلیفیں امام جواد علیہ السلام کو پہنچائیں وہ تاریخ میں مشہور ہیں۔

امام رضا علیہ السلام کے ساتھ جنگ کی جو روشیں مامون نے اختیار کی تھیں، ان میں سے ایک بحث و مناظرے کی مجالس تشکیل دینا تھی، مامون اور اس کے بعد معتصم عباسی اپنے باطل گمان کے مطابق یہ سوچتے تھے کہ اس طرح وہ اوصیائے رسولخدا آئمہ معصومین علیہم السلام کو مشکلات میں مبتلا کریں گے. اسی لیے انہوں نےآٹھویں امام کے بعد نویں امام حضرت محمد جواد علیہ السلام کی نسبت بھی وہی روش اختیار کی.

آنحضرت بچپنے میں ہی امامت پر فائز ہو گئے تھے لیکن مامون چونکہ وصی رسولخدا، وارث المرسلین اور حجت رب العالمین کے مقام ولایت و امامت کا نہ علم اور نہ عقیدہ تھا تاکہ سمجھ پاتا یہ یہ مقام الہی منصب ہےاس کا عمر کے کم یا زیادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے وہ ہمیشہ امام علیہ السلام کو آزماتا اور آپ کا امتحان لیتا تھا۔

جواد الآئمہ علیہ السلام کی امامت کے ساتھ ہی طرح طرح کے اسلامی اور غیر اسلامی فرقے وجود میں آ گئے تھے۔ اس دور میں بڑے بڑے علماء تھے جو دوسری ملتوں کے علوم و فنون کے بارے میں بھی آگاہی رکھتے تھے۔ اس طرح بہت ساری کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ ہوا تھا اور وہ سب کی دسترس میں تھیں۔

سن کی کمی کے باوجود امام جواد علیہ السلام نے علمی بحثوں کے میدان میں قدم رکھا اور امامت کے خدائی سرمائے کے ساتھ کہ جس کا سرچشمہ الہام ربانی اور ولایت مطلقہ کا دریا تھا آپ علیہ السلام نے اپنے آباو اجداد کی مانند احکام اسلامی کو پھیلایا ۔ امام جوا علیہ السلام نے لوگوں کی تربیت اور دایت کا کام شروع کیا اور بہت سارے مسائل کے جوابات دیے۔ حضرت علیہ السلام کے انتہائی مشہور مناظروں میں سے ایک مناظرہ دربار مامون کے قاضی القضات "یحیٰ بن اکثم" کے ساتھ ہونے والا مناظرہ تھا کہ جس نے مجلس میں موجود افراد کو حیرت زدہ کر دیا تھا ۔

ان مناظروں کے بعد عوام کے درمیان امام علیہ السلام کی شہرت اور محبوبیت میں چار چاند لگ گئے ۔

امام رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے:

خدا نے ایک ایسا بچہ مجھے عطا کیا ہے کہ جو موسی بن عمران کی طرح دریاوں کو شگافتہ کرنے والا ہے اور عیسی بن مریم کی طرح ہے کہ جس کی ماں مقدس ہے اور اس کو پاک پیدا کیا گیا ہے (بحار الانوار ، ج ۵۰ ص ۱۵ ح ۱۹)

 

امام جواد علیہ السلام نے اپنی امامت کے سترہ سال کی مدت میں اسلامی حقائق کی تعلیم دی اور نشر و اشاعت کی اور نامور اصحاب اور ساتھی تربیت کیے کہ جن میں سے ہر ایک اسلامی تعلیم اور ثقافت کا ایک سرچشمہ بنا.

ان میں سے ابن ابی عمیر بغدادی، ابو جعفر محمد، ابن سنان زاھری، احمد ابن ابی نصر بزنطی کوفی، ابو تمام حبیب ابن اوس طائی معروف شیعہ شاعر، ابو الحسن لی ابن مہزیار اہوازی اور فضل ابن شاذان نیشاپوری نمایاں شخصیتیں ہیں۔

حضرت کے شاگردوں میں سے بھی ہر ایک پر نظر رکھی جاتی تھی یا ان میں سے کچھ جیل میں تھے۔ امام جواد علیہ السلام اپنے شیعوں کو اس دور کے فرقوں کے خطرے سے آگاہ کیا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک فرقہ مجسمہ کا فرقہ تھا جو خدا کے لیے جسم کے قائل تھے۔

واقفیہ ایک اور گمراہ اور مشکل ساز فرقہ تھا جو شیعہ کے عنوان سے شیعوں کے مقابلے میں تھا. ان لوگوں نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ کی امامت پر توقف کیا تھا اور آپ علیہ السلام کے فرزند امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی امامت کو تسلیم نہیں کیا تھا.

ایک اور گروہ غلات کا تھا جن کا شیعہ کے عنوان سے شیعوں کو بد نام کرنے میں بڑا ہاتھ تھا، اسی لیے آئمہ معصومین علیھم السلام ان سے نفرت کرتے تھے. وہ بھی آئمہ علیھم السلام کے نام سے روایتیں گڑھتے تھے اور شیعوں کو گمراہ کرتے تھے۔ امام جواد علیہ السلام غالیوں کے سرداروں پر لعنت بھیجتے تھے اور اپنے شیعوں کو گمراہ فرقوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے۔

معصومین علیھم السلام کی تبلیغی روش بھی ان کی زندگی کے دیگر پہلووں کی طرح اسوہ اور نمونہ شمار ہوتی ہے.

امام جواد علیہ السلام نے کس تبلیغی روش سے شیعوں کو خطروں سے آگاہ کیا اور بنی عباس کے دور میں مذہب شیعہ کی حفاظت کی؟

۱ ۔ مناظرے کے ذریعے تبلیغ

حضرت امام جواد علیہ السلام کی تبلیغ کا نمایاں انداز مناظرہ تھا، امام جواد علیہ السلام کے مناظرے کہ جن کا آغاز آپ علیہ السلام کی امامت کے آغاز کے ابتدائی دنوں میں ہو گیا تھا، ان مناظروں نے امامت و ولایت کی شناخت عام کرنے، حق کے متلاشیوں کی ہدایت کرنے، اور ظالموں کے نظریات کے کھوکھلا ہونے کو ثابت کرنے میں مدد کی ……..

 

امام اپنے ماننے والوں کو اجازت دیتے تھے کہ حکومت کے اداروں کے اندر رہیں اور حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر پہنچ کر دین اور دینداروں کی خدمت کی راہ میں قدم بڑھائیں.

 

امام جواد علیہ السلام نے دو وجوہات کی بنا پر علمی مناظروں کے میدان میں قدم رکھا۔

پہلی وجہ شیعوں کی ضرورت تھی کہ جو حضرت کے کمسن ہونے کی وجہ سے آپ کے معنوی مرتبے کو سمجھنے کے در پے تھے.

اور دوسری وجہ مامون اور معتصم کی خواہش تھی کہ جس کے دل میں امام علیہ السلام کو معاذاللہ رسوا کرنے اور ان کے علم کو غیر خدائی ثابت کرنے کا ہوکا تھا.

خلفاء کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ مناظرے کی مجلسیں منعقد کر کے رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کے لئے منصوب اماموں کو اس دور کے بعض بڑے علماء کے مقابلے پر لا کھڑا کریں تا کہ شاید وہ ان کا جواب نہ دے سکیں اور ان کا معنوی مرتبہ مشکوک ہو جائے۔

 

مناظروں سے امام علیہ السلام کے مقاصد

الف - اپنی امامت ثابت کرنا

ان مناظروں کے ذریعے امام جواد علیہ اسلام کی کوشش زیادہ تر اپنی امامت و حقانیت کو ثابت کرنا تھی مورخین کے بقول امام علیہ السلام کی عمر مبارک سات سال سے زیادہ نہیں تھی، لیکن ایک محفل میں آپ علیہ السلام نے تیس پیچیدہ علمی سوالوں کے جواب دیے (۱)

ب - جھوٹ بولنے والوں کو رسوا کرنا

امام علیہ السلام مناظرے میں ایسا رویہ اپناتے تھے کہ خلفاء کے جعلی فضائل کا غلط ہونا ثابت ہو جائے.

 

۲ ۔ مامون کی حکومت کے خلاف عملی تبلیغ مامون ظاہر میں امام علیہ السلام کا بہت احترام کرتا تھا اور ہزار مخالفت کے باوجود اپنی بیٹی ام الفضل کا عقد آپ سے کر دیا تھا اس طرح کے سلوک نے امام علیہ السلام کو خلافت کے دربار سے خوش فہمی میں مبتلا نہیں کیا ۔آپ علیہ السلام خلیفہ کو ظالم سمجھتے تھے اور اس کی مخالفت کا خیال ہمیشہ آپ کے دل میں رہتا تھا. اس بنا پر پہلی فرصت میں آپ حج کے بہانے مدینے کی جانب چلے گئے اور وہاں جا کر مقیم ہو گئے.

حسین مکاری کہتا ہے:

جب حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کا خلیفہ کے نزدیک بڑا مقام تھا، تو میں بغداد پہنچا اور ان سے ملاقات کے لیے گیا میں یہ سوچ رہا تھا کہ حضرت اب مدینے واپس نہیں جائیں گے جیسے ہی میں نے یہ سوچا حضرت نے سر جھکایا اور اس حالت میں کہ آپ کا رنگ مبارک زرد ہو چکا تھا،

فرمایا: حسین جو کی روٹی اور آدھا پسا ہوا نمک رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے حرم میں میرے لیے جو کچھ تم دیکھ رہے ہو اس سے بہتر ہے.(۴)

۳ ۔ حوزہء علمیہ کی بنیاد رکھنا

امام نہم علیہ السلام کی تبلیغی روش میں روشن فکر محققین کی تربیت بھی شامل تھی حضرت علیہ السلام نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے مدرسے کی حفاظت کے ساتھ ہی دو سو ستر شاگرد تربیت کیے کہ جن میں سے کچھ کو آٹھویں امام علیہ السلام کے شاگرد شمار کیا جاتا تھا(۵)

 

امام جواد علیہ السلام نے بنی عباس کی ناپاک تبلیغات کو ناکام بنانے کے لیے اور لوگوں کو سچے اسلام سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں نمایندے ارسال کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ یہ نمایندے امام علیہ السلام کے کارندے شمار ہوتے تھے اور اہواز، ھمدان، سیستان، بست، ری، بصرہ، واسط، بغداد، کوفہ، اور قم جیسے مراکز میں شیعوں کے اتحاد اور معصومین علیھم السلام سے ان کے پیوند کو برقرار کرتے تھے۔

امام علیہ السلام اسی طرح اپنے ماننے والوں کو اجازت دیتے تھے کہ حکومت کے اندر نفوذ پیدا کریں اور حساس پوسٹوں پر قبضہ کریں۔ محمد ابن اسماعیل بن بزیع اور احمد ابن حمزہء قمی نے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا اور اہم حکومتی عہدوں پر پہنچ کر دین اور دینداروں کی خدمت کی راہ میں اقدامات کیے. حسین ابن عبد اللہ نیشا پوری بست اور سیستان کے حاکم اور حکم ابن علیاء اسدی، بحرین کے حاکم بھی امام علیہ السلام کے دوستوں میں شمار ہوتے تھے اور اپنے اموال کا خمس آپ کی خدمت میں روانہ کرتے تھے (۶)

 

۱ ) منتہی الآمال ، شیخ عباس قمی ، انتشارات ہجرت ، ج ۲ ص ۵۷۷ ، ۲ ) ق / ۱۶ ،

۴ ) منتہی الآمال ، ص ۵۸۲ ، ۵ ) امام جوا من المھد الی اللحد ، سید محمد کاظم فروتنی ، ص ۸۹ ، ۶ ) سیرہء پیشوایان.