*مصائب و حالات وقت شہادت امام محمد تقی الجواد ع*

 

معتصم لع جب مسند خلافت پر بیٹھا تو اس نے امام محمد تقی ع کو بغداد بلوایا-

 

مامون کی بیٹی ام الفضل لع ، جعفر بن مامون اور معتصم لع نے سازش تیار کی کہ ام الفضل امام ع کو زہر دیگی -

 

📚 کامل ابن اثیر ج 5، ص 238

 

معتصم اور جعفر لع نے انگوروں میں زہر ملایا اور ام الفضل لع کے پاس بھیج دیا -

 

اس نے انگور طشت میں رکھے اور امام ع کے سامنے پیش کیے اور انگوروں کی تعریف کرنے لگی ، آخرکار امام ع نے انگور کھائے اور تھوڑی دیر میں زہر نے اثر کیا اور امام ع نے شدید درد محسوس کیا -

 

امام ع کی یہ حالت دیکھ کر ام الفضل لع نے رونا شروع کر دیا تو امام ع نے فرمایا اب روتی کیوں ہو جبکہ تم نے مجھے زہر دے دیا ہے -

 

پھر امام ع نے فرمایا کہ تیری اس حرکت کے بدلے تم اسطرح کے درد میں مبتلا ہوگی کہ اسکا کوئی علاج نہ ہوگا -

 

امام ع کی نفرین کا یہ اثر ہوا کہ ام الفضل لع کو شدید درد ہوا ، علاج پر ساری دولت خرچ کر دی لیکن کچھ علاج نہ ہوا ، بڑی ذلت اور افلاس میں ہلاک ہوئی جبکہ اسکا بھائی جعفر لع شراب کے نشے میں کنویں میں گر کر ہلاک ہوا -

 

📚 اعیان الشیعہ ج 2 ، ص 36

 

*ﺍﻣﺎﻡﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﮐﯽﻧﻈﺮﺑﻨﺪﯼ، ﻗﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺕ*

 

ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺳﮯ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﻮ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻧﯿﮏ ﻧﯿﺘﯽ ﭘﺮﻣﺒﻨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﺷﺮﻑ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺁﭖ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺘﺼﻮﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﻌﺘﺼﻢ ﻧﮯ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﻮﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ، 

 

ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺭﺑﻠﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﮐﮧ ﭼﻮﻥ ﻣﻌﺘﺼﻢ ﺑﺨﻼﻓﺖ ﺑﮧ ﻧﺸﺴﺖ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺭﺍ ﺍﺯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﺑﺪﺍﺭ ﺍﻟﺨﻼﻓﺔ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﺁﻭﺭ ﺩﻭﺣﺒﺲ ﻧﻤﻮﺩ‏ ( ﮐﺸﻒﺍﻟﻐﻤﮧﺹ۱۲۱ ‏) ۔

 

ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺗﮏﺁﭖ ﻧﮯ ﻗﯿﺪ ﮐﯽ ﺳﺨﺘﯿﺎﮞ ﺻﺮﻑ ﺍﺱﺟﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖﮐﻤﺎﻻﺕ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺷﺮﻑ ﮐﯿﻮﮞ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﺁ ﮔﯿﺎﮐﮧ ﺁﭖ ﺻﺮﻑ ۲۵ / ﺳﺎﻝ ۳ﻣﺎﮦ ۱۲ / ﯾﻮﻡﮐﯽ ﻋﻤﺮﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪﺧﺎﻧﮧ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭﺁﺧﺮﯼ ﺫﯼ ﻗﻌﺪﮦ ‏( ﺑﺘﺎﺭﯾﺦ ۲۹ / ﺫﯼ ﻗﻌﺪﮦ ۲۲۰ ﮨﺠﺮﯼ ﯾﻮﻡ ﺳﮧ ﺷﻨﺒﮧ ‏) ﻣﻌﺘﺼﻢ ﮐﮯ ﺯﮨﺮ ﺳﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ

 

‏📚 ﮐﺸﻒ ﺍﻟﻐﻤﮧ ﺹ۱۲۱ ، 

📚ﺻﻮﺍﻋﻖﻣﺤﺮﻗﮧ ﺹ ۱۲۳ ،

📚ﺭﻭﺿﺔ ﺍﻟﺼﻔﺎﺟﻠﺪ۳ ﺹ۱۶ ، 📚ﺍﻋﻼﻡﺍﻟﻮﺭﯼ ﺹ ۲۰۵،

📚ﺍﺭﺷﺎﺩﺹ۴۸۰،

📚ﺍﻧﻮﺍﺭﺍﻟﻨﻌﻤﺎﻧﯿﮧﺹ۱۲۷،

📚ﺍﻧﻮﺍﺭﺍﻟﺤﺴﯿﻨﯿﮧﺹ۵۴ ‏

 

*ﺁﭖ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ*

 

ﻣﻼﻣﺒﯿﻦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﻌﺘﺼﻢ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺯﮨﺮﺳﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﯿﺎ ‏

 

📚 ﻭﺳﯿﻠﺔ ﺍﻟﻨﺠﺎﺕ ﺹ ۲۹۷ ‏

 

ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮﻣﮑﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺯﮨﺮ ﺳﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ‏

 

📚 ﺻﻮﺍﻋﻖ ﻣﺤﺮﻗﮧ ﺹ ۱۲۳ ‏ 

 

ﻋﻼﻣﮧ ﺣﺴﯿﻦ ﻭﺍﻋﻆ ﮐﺎﺷﻔﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ” ﮔﻮﯾﻨﺪﯾﮧ ﺯﮨﺮﺷﮩﯿﺪﺷﮧ “ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺯﮨﺮﺳﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ‏

 

📚ﺭﻭﺿﺔ ﺍﻟﺸﮩﺪﺍﺀ ﺹ ۴۳۸ ‏

 

ﻣﻼﺟﺎﻣﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ” ﻗﯿﻞ ﻣﺎﺕ ﻣﺴﻤﻮﻣﺎ “ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽﻭﻓﺎﺕ ﺯﮨﺮﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ‏

 

📚 ﺷﻮﺍﮨﺪﺍﻟﻨﺒﻮﺕﺹ۲۰۴ ‏

 

ﻋﻼﻣﮧ ﻧﻌﻤﺖﺍﻟﻠﮧﺟﺰﺍﺋﺮﯼ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ” ﻣﺎﺕ ﻣﺴﻤﻮﻣﺎ ﻗﺪﺳﻤﻢ ﺍﻟﻤﻌﺘﺼﻢ “ ﺁﭖ ﺯﮨﺮ ﺳﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﻣﻌﺘﺼﻢ ﻧﮯﺁﭖﮐﻮ ﺯﮨﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ،

 

📚 ﺍﻧﻮﺍﺭﺍﻟﻌﻨﻤﺎﻧﯿﮧﺹ۱۹۵ ‏

 

ﻋﻼﻣﮧ ﺷﺒﻠﻨﺠﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮧ ﻣﺎﺕ ﻣﺴﻤﻮﻣﺎ ﺁﭖ ﺯﮨﺮﺳﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ” ﯾﻘﺎﻝ ﺍﻥ ﺍﻡ ﺍﻟﻔﻀﻞ ﺑﻨﺖ ﺍﻟﻤﺎﻣﻮﻥ ﺳﻘﺘﮧ ،ﺑﺎﻣﺮﺍﺑﯿﮩﺎ “ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﻡ ﺍﻟﻔﻀﻞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﻣﺎﻣﻮﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ‏( ﻣﻌﺘﺼﻢ ﮐﯽ ﻣﺪﺩﺳﮯ ‏) ﺯﮨﺮﺩﮮ ﮐﺮﺷﮩﯿﺪ ﮐﯿﺎ ‏

 

📚 ﻧﻮﺭﺍﻻﺑﺼﺎﺭﺹ ۱۴۷،

📚ﺍﺭﺣﺞﺍﻟﻤﻄﺎﻟﺐﺹ۴۶۰ ‏

 

 مطالب یہ ہواکہ مامون رشید نے امام محمدتقی کے والدماجدامام رضا کواوراس کی بیٹی نے امام محمد تقی کو بقول امام شبلنجی شہید کرکے اپنے وطیرہ مستمرة اوراصول خاندانی کوفروغ بخشاہے ، 

 

علامہ موصوف لکھتے ہیں کہ ”دخلت امراتہ ام الفضل الی قصرالمعتصم “ کہ امام محمدتقی کوشہید کرکے ان کی بیوی ام الفضل معتصم کے پاس چلی گئی 

 

بعض معاصرین لکھتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے شہادت کے وقت ام الفضل کے بدترین مستقبل کاذکر فرمایا تھا جس کے نتیجہ میں اس کے ناسور ہوگیاتھا اوروہ آخرمیں دیوانی ہوکرمری۔ 

 

 مختصریہ کہ شہادت کے بعد امام علی نقی علیہ السلام نے آپ کی تجہیز و تکفین میں شرکت کی اورنماز جنازہ پڑھائی اوراس کے بعدآپ مقابر قریش اپنے جدنامدار حضرت امام موسی علیہ السلام کے پہلو میں دفن کئے گئے چونکہ آپ کے داداکالقب کاظم اورآپ کالقب جواد بھی تھا اس لیے اس شہرت کوآپ کی شرکت سے ”کاظمین“ اور وہاں کے اسٹیشن کوآپ کے دادا کی شرکت کی رعایت سے ”جوادین“ کہاجاتا ہے۔ 

 

 اس مقبرہ قریش میں جسے کاظمین کے نام سے یادکیاجاتاہے 

 

۳۵۶ ہجری میں مطابق ۹۹۸ ء میں معزالدولہ اور ۴۵۲ ہجری مطابق ۱۰۴۴ ء میں جلال الدولہ شاہان آل بویہ کے جنازے اعتقاد مندی سے دفن کئے گئے کاظمین میں جوشاندار روضہ بنا ہوا ہے اس پر بہت سے تعمیری دور گزرے لیکن اس کی تعمیر تکمیل شاہ اسماعیل صفوی نے ۹۶۶ ہجری مطابق ۱۵۲۰ ء میں کرائی ۱۲۵۵ ہجری مطابق ۱۸۵۶ ء میں محمدشاہ قاچارنے اسے جواہرات سے مرصع کیا۔

 

📚 مصنف: سید نجم الحسن کراروی

 

🔴 جسد إمام الجواد (ص) بلا غسل ولا كفن ولا مدفن

 

كما في جنّات الخلود : تورّم جسد الامام الجواد (عليه السلام) وكان يقطر جلده شبه الدم ، فلمّا قضى نحبه أمر المعتصم (لعنة اللّٰه عليه) بأن يرموا جسده الشريف من أعلى السطح إلى الأرض ، ومنع الناس أن يحملوه ويشيّعوه ويدفنونه ويدنوا منه ، وبقي جسده ملقى على الأرض أياماً بلا غسل ولا كفن ولا دفن ، وكان يسطع منه رائحة المسك والعنبر ، فلمّا علم المعتصم (لعنة اللّٰه عليه) ذلك خاف الفتنة وخشي الفضيحة أمر بدفنه.

 

نور الأبصار میں روایت درج ہے کہ

 

🔸امام محمد تقی (صلوات اللّٰه علیہ) کا جسم پھولا ہوا تھا اور جسکی وجہ سے جلد سے خون ٹپک رہا تھا جب ان کی شہادت واقع ہوئی تو معتصم (ملعون) نے حکم دیا!

 

🔸اس کے (امامؐ کی) جسد اطہر (لاشے) کو بلند عمارت سے زمین پر پھینک دو، 

اور معتصم (ملعون) نے لوگوں کو حکم دیا کہ کوئی امامؐ کا میت نہ اٹھائے، نہ کوئی اسے لے جائے اور نہ کوئی اسے دفن کرے اور نہ کوئی اس کے قریب جائے، 

 

اس کی لاش کئی دن تک بغیر غسل، کفن دفن کیے بغیر زمین پر پڑی رہی، اور اس سے مشک اور عنبر کی خوشبو آتی تھی۔ 

جب معتصم کو یہ معلوم ہوا تو اسے جھگڑے اور فساد کا اندیشہ ہوا، اس لیے اس کی تدفین کا حکم دیا۔ 

 

🔸اور اس سے آگے یہی روایت مجمع مصائب میں ہے کہ جب شیعوں کو یہ صورت حال معلوم ہوئی تو سب اکٹھا ہو گئے معتصم کو کہا تجھے قتل کر دیں گے ہمیں (ہمارے مولاؐ کو) دفن کر کرنے دو۔ تب سے ملعون گھبرا گیا اور اپنے لوگوں سے کہا جو کچھ چاہتے ہیں انہیں کرنے دو پھر انہوں نے امامؐ کی تدفین کی۔ 

 

📗نور الأبصار المازندراني، الصفحة ٢٧٦ - ٢٧٧

📕سلسلة مجمع مصائب، مالشَّيخ محمَّدْ الهنْداويْ، الجزء ٤، الصفحة ٢٩٦