حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی بعض کرامات

امام محمد تقی علیہ السلام کا روضہ منور

 

صاحب تفسیر علامہ حسین واعظ کاشفی کا بیان ہے کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی کرامات بے شمارہیں (روضة الشہدا ص ۴۳۸) میں بعض کا تذکرہ مختلف کتب سے کرتا ہوں ۔

 

علامہ عبدالرحمن جامی تحریرکرتے ہیں کہ :

 

۱ ۔ مامون رشید کے انتقال کے بعد حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اب تیس ماہ بعد میرا بھی انتقال ہوگا، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

 

۲ ۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضرہو کرعرض کیا کہ ایک مسماة (ام الحسن) نے آپ سے درخواست کی ہے کہ اپنا کوئی جامہ کہنہ دیجیے تاکہ میں اسے اپنے کفن میں رکھوں آپ نے فرمایا کہ اب جامہ کہنہ کی ضرورت نہیں ہے روای کا بیان ہے کہ میں وہ جواب لے کرجب واپس ہوا تومعلوم ہواکہ ۱۳ ۔ ۱۴ دن ہو گئے ہیں کہ وہ انتقال کرچکی ہے۔

 

 

 

۳ ۔ ایک شخص (امیہ بن علی) کہتا ہے کہ میں اورحماد بن عیسی ایک سفرمیں جاتے ہوئے حضرت کی خدمت میں حاضرہوئے تاکہ آپ سے رخصت ہولیں، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم آج اپنا سفرملتوی کردو، چنانچہ میں حسب الحکم ٹہرگیا، لیکن میراساتھی حماد بن عیسی نے کہا کہ میں نے ساراسامان سفرگھرسے نکال رکھا ہے اب اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ سفرملتوی کردوں، یہ کہہ کروہ روانہ ہوگیا اورچلتے چلتے رات کو ایک وادی میں جا پہنچا اوروہیں قیام کیا، رات کے کسی حصہ میں عظیم الشان سیلاب آ گیا،اوروہ تمام لوگوں کے ساتھ حماد کوبھی بہا کر لے گیا (شواہدالنبوت ص ۲۰۲) ۔

 

 

 

۴ ۔ علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ معمربن خلاد کا بیان ہے کہ ایک دن مدینہ منورہ میں جب کہ آپ بہت کمسن تھے مجھ سے فرمایا کہ چلومیرے ہمراہ چلو! چنانچہ میں ساتھ ہوگیا حضرت نے مدینہ سے باہرنکل کر ایک وادی میں جا کرمجھ سے فرمایا کہ تم ٹھرجاؤ میں ابھی آتا ہوں چنانچہ آپ نظروں سے غائب ہوگئے اورتھوڑی دیرکے بعد واپس ہوئے واپسی پرآپ بے انتہاء ملول اور رنجیدہ تھے، میں نے پوچھا : فرزندرسول ! آپ کے چہرہ مبارک سے آثارحزن وملال کیوں ہویدا ہیں ارشاد فرمایا کہ اسی وقت بغداد سے واپس آ رہا ہوں وہاں میرے والد ماجد حضرت امام رضاعلیہ السلام زہرسے شہید کردئیے گئے ہیں میں ان پرنماز وغیرہ ادا کرنے گیا تھا۔

امام محمد تقی علیہ السلام کا روضہ منور

 

۵ ۔ قاسم بن عبادالرحمن کا بیان ہے کہ میں بغداد میں تھا میں نے دیکھا کہ کسی شخص کے پاس تمام لوگ برابرآتے جاتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ جس کے پاس آنے جانے کا تانتا بندھا ہوا ہے یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ابوجعفرمحمد بن علی علیہ السلام ہیں ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ آپ ناقہ پرسواراس طرف سے گذرے ،قاسم کہتا ہے کہ انہیں دیکھ کرمیں نے دل میں کہا کہ وہ لوگ بڑے بیوقوف ہیں جوآپ کی امامت کے قائل ہیں اورآپ کی عزت وتوقیرکرتے ہیں، یہ تو بچے ہیں اورمیرے دل میں ان کی کوئی وقعت محسوس نہیں ہوتی، میں اپنے دل میں یہی سوچ رہا تھا کہ آپ نے قریب آ کرفرمایا کہ ایے قاسم بن عبدالرحمن جوشخص ہماری اطاعت سے گریزاں ہے وہ جہنم میں جائے گا آپ کے اس فرمانے پر میں نے خیال کیا کہ یہ جادوگر ہیں کہ انہوں نے میرے دل کے ارادے کومعلوم کرلیا ہے جیسے ہی یہ خیال میرے دل میں آیا آپ نے فرمایا کہ تمہارے خیال بالکل غلط ہیں تم اپنے عقیدے کی اصلاح کرو یہ سن کرمیں نے آپ کی امامت کا اقرارکیا اورمجھے ماننا پڑا کہ آپ حجت اللہ ہیں۔

 

 

 

۶ ۔ قاسم بن الحسن کا بیان ہے کہ میں ایک سفرمیں تھا ، مکہ اورمدینہ کے درمیان ایک مفلوج الحال شخص نے مجھ سے سوال کیا،میں نے اسے روٹی کا ایک ٹکڑا دیدیا ابھی تھوڑی دیرگذری تھی کہ ایک زبردست آندھی آئی اوروہ میری پگڑی اڑا کر لے گئی میں نے بڑی تلاش کی لیکن وہ دستیاب نہ ہوسکی جب میں مدینہ پہنچا اورحضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے ملنے گیا توآپ نے فرمایا کہ اے قاسم تمہاری پگڑی ہوا اڑا لے گئی میں نے عرض کی جی حضور!آپ نے اپنے ایک غلام کوحکم دیا کہ ان کی پگڑی لے آؤ غلام نے پگڑی حاضرکی میں نے بڑے تعجب سے دریافت کیا کہ مولا! یہ پگڑی یہاں کیسے پہنچی ہے آپ نے فرمایا کہ تم نے جو راہ خدا میں روٹی کا ٹکڑادیا تھا، اسے خدا نے قبول فرما لیا ہے، ایے قاسم خداوندعالم یہ نہیں چاہتا جو اس کی راہ میں صدقہ دیے وہ اسے نقصان پہنچنے دے۔

 

 

 

۷ ۔ ام الفضل نے حضرت امام محمد تقی کی شکایت اپنے والد مامون رشید عباسی کو لکھ کربھیجی کہ ابوجعفرمیرے ہوتے ہوئے دوسری شادی بھی کر رہے ہیں اس نے جواب دیا کہ میں نے تیری شادی ان کے ساتھ اس نہیں کی حلال خدا کوحرام کردوں انہیں قانون خداوندی اجازت دیتا ہے کہ وہ دوسری شادی کریں، اس میں تیرا کیا دخل ہے دیکھ آئندہ سے اس قسم کی کوئی شکایت نہ کرنا اورسن تیرا فریضہ ہے کہ تو اپنے شوہرابوجعفرکوجس طرح ہو راضی رکھ اس تمام خط و کتابت کی اطلاع حضرت کو ہو گئی (کشف الغمہ ص ۱۲۰) ۔

 

 

 

علامہ شیخ حسین بن عبدالوہاب تحریرفرماتے ہیں کہ ایک دن ام الفضل نے حضرت کی ایک بیوی کوجوعماریاسر کی نسل سے تھی دیکھا تو مامون رشید کو کچھ اس طرح سے کہا کہ وہ حضرت کے قتل پرآمادہ ہو گیا، مگرقتل نہ کرسکا(عیون المعجزات ص ۱۵۴ طبع ملتان)۔

۔

۔

۔

 

ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﻣﺸﺘﺎﻕ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﭘﺮ ﮐﺮﻡ ﻧﻮﺍﺯﯼ

 

ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﻓﺮﻣﺎﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮐﯽ ﻭﺳﻌﺖ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮨﯽ ﮐﮯ ﻟﮯ ﻣﺤﺪﻭﺩﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮﺍﻃﺮﺍﻑ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻣﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺧﺒﺮﮔﯿﺮﯼ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺮﻡ ﮔﺴﺘﺮﯼ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮐﻮﺍﺋﻒ ﻭﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﺎﮦ ﮨﻮﻋﻘﯿﺪﮦ ﮐﺎﺗﻌﻠﻖ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﺁﺳﻤﺎﻥ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺗﺎﺑﻊ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺳﻔﺮﻣﯿﮟ ﻃﮯ ﻣﺮﺍﺣﻞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻧﭙﺎﮐﺮﯾﮟ ، ﺍ ﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺲ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻭﺭﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﭼﺸﻢ ﺯﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﻋﻘﻼ ﻣﺤﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺧﺎﺻﺎﻥ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﻗﺮﺍﻥ ﻣﺠﯿﺪﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

 

ﺁﺻﻒ ﺑﻦ ﺑﺮﺧﯿﺎﻭﺻﯽ ﺟﻨﺎﺏ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﺎﺣﻮﺍﻟﮧ ﺩﯾﺎﮨﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ

 

ﺁﭖ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﮐﺮﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﮯ ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﻭﻣﺸﻐﻮﻝ ﭘﺎﯾﺎﺟﺲ ﺟﮕﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﺎ ﺳﺮﻣﺒﺎﺭﮎ ﻟﭩﮑﺎﯾﺎﮔﯿﺎﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭼﻠﻮﻭﮦ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺍ ، ﺍﺑﮭﯽ ﭼﻨﺪﻗﺪﻡ ﻧﮧ ﭼﻼﺗﮭﺎ ، ﮐﮧ ﮐﻮﻓﮧ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪﻣﯿﮟ ﺟﺎﭘﮩﻨﭽﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮﺭﻭﺍﻧﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ، ﺗﻮﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﺟﺎﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭﺯﯾﺎﺭﺕ ﻭ ﻧﻤﺎﺯﺳﮯ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ، ﭘﮭﺮﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﮧ ﻣﻌﻈﻤﮧ ﺭﺳﯿﺪﮔﯽ ﮨﻮﺋﯽ ، ﻃﻮﺍﻑ ﻭﺩﯾﮕﺮﻋﺒﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﺁﭖ ﻧﮯ ﭼﺸﻢ ﺯﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺎ۔

ﺍﻭﺭﺧﻮﺩ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺟﻞ ﮨﻮﮐﺮﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﭘﮭﺮﺟﺐ ﺩﻭﺳﺮﺍﺳﺎﻝ ﺁﯾﺎ ﺗﻮﺁﭖ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﻋﺎﺑﺪﺳﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭼﻠﻮ ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻭﮦ ﭼﻞ ﭘﮍﺍﺁﭖ ﻧﮯ ﭼﻨﺪﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻘﺪﺱ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﺮﺍﺩﯼ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﻣﺘﺎﺛﺮﺗﮭﺎ ﮨﯽ ، ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎﮨﯽ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎﺍﺏ ﮐﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﺠﺪﺷﺎﻡ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ ﺗﮭﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭﻗﺴﻢ ﺩﮮ ﮐﺮﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮯ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﺮﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻤﺪﺑﻦ ﻋﻠﯽ ( ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﮨﻮﮞ ) ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﺍﻭﺭﺗﻌﻈﯿﻢ ﻭﺗﮑﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﻣﺮﺍﺳﻢ ﺩﺍﺍﮐﺌﮯ۔

ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﻤﺎﻡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﺟﺐ ﻭﺍﻟﯽ ﺷﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﻠﮏ ﮐﻮﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻍ ﻣﻠﯽ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮧ ﭼﻼﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻋﺎﺑﺪﭘﺮ ” ﻣﺪﻋﯽ ﻧﺒﻮﺕ “ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎﮐﺮﺍﺳﮯ ﻗﯿﺪﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭﭘﮭﺮﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﺍﮐﮯ ﻋﺮﺍﻕ ﺑﮭﺠﻮﺍﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﻗﯿﺪﺧﺎﻧﮧ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺧﻄﺎﮨﻮﮞ ، ﻣﺠﮭﮯ ﺭﮨﺎﮐﯿﺎﺟﺎﺋﮯ ، ﺗﻮﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻂ ﮐﯽ ﭘﺸﺖ ﭘﺮﻟﮑﮭﺎﮐﮧ ﺟﻮﺷﺨﺺ ﺗﺠﮭﮯ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﮐﻮﻓﮧ ﺍﻭﺭﮐﻮﻓﮧ ﺳﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺍﻭﺭﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﮑﮧ ﺍﻭﺭﭘﮭﺮﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎﺳﮑﺘﺎﮨﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮ۔

 

ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﻣﮑﻤﻞ ﺳﺨﺘﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ، ﺳﺨﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﮩﺮﮦ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻗﯿﺪﺧﺎﻧﮧ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﮔﯿﺎ ، ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺭﺍﻭﯼ ﮐﺎﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪﺧﺎﻧﮧ ﮐﮯ ﭘﮭﺎﭨﮏ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮﺩﯾﮑﮭﺎﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﺍﻥ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﻭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﯿﮟ ، ﺍﻭﺭﮐﭽﮫ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﮐﮧ ﻋﺎﺑﺪ ﺷﺎﻣﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎﮔﯿﺎ ﯾﺎﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮﺍﭨﮭﺎﻟﯿﺎﮔﯿﺎ ، ﻋﻼﻣﮧ ﻣﻔﯿﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﮯ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺟﻮﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﺎ ﭘﯿﺮﻭﺗﮭﺎ ، ﺍﻣﺎﻣﯿﮧ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﺎﻣﻌﺘﻘﺪﮨﻮﮔﯿﺎ.

 

( ﺷﻮﺍﮨﺪﺍﻟﻨﺒﻮﺕ ﺹ ۲۰۵ ، ﻧﻮﺭﺍﻻﺑﺼﺎﺭ ﺹ ۱۴۶ ، ﺍﻋﻼﻡ ﺍﻟﻮﺭﯼ ﺹ ۷۳۱ ، ﺍﺭﺷﺎﺩﻣﻔﯿﺪ ﺹ ۴۸۱ )

 

۔

 

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻤﺎﺓ ﺍﻡ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ لباس ﺩﯾﺠﯿﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻔﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻮﮞ 

ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ لباس ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ 

ﺭﻭﺍﯼ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﺏ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺐ ﻭﺍﭘﺲ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ۱۳ ۔ ۱۴ ﺩﻥ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ۔

 

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﻣﯿﮧ ﺑﻦ ﻋﻠﯽ ‏ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﯿﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮﻟﯿﮟ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﻔﺮ ﻣﻠﺘﻮﯼ ﮐﺮ ﺩﻭ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺐ ﺍﻟﺤﮑﻢ ﭨﮩﺮ ﮔﯿﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﯿﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﺍﺳﺎﻣﺎﻥ ﺳﻔﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺳﻔﺮ ﻣﻠﺘﻮﯼ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ، ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯿﺎ، ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﺼﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻟﺸﺎﻥ ﺳﯿﻼﺏ ﺁ ﮔﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﻤﺎﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ‏

 

ﺷﻮﺍﮨﺪ ﺍﻟﻨﺒﻮﺕ ص 202

 

⭕ امام محمد تقی ع کا ایک عابد مومن کو پلک جھپکتے کوفہ ،مدینہ منورہ ، ﻣﮑﮧ ﻣﻌﻈﻤﮧ اور شام کی زیارت کروا کر مشکل وقت میں اسے قید سے آزاد کروانا

ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﻓﺮﻣﺎ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮐﯽ ﻭﺳﻌﺖ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮨﯽ ﮐﮯ ﻟﮯ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻣﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽﺧﺒﺮ ﮔﯿﺮﯼ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ 

ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺮﻡ نوازی ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮐﻮﺍﺋﻒ ﻭ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﺎﮦ ﮨﻮ ۔ 

ﻋﻘﯿﺪﮦ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﺁﺳﻤﺎﻥ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺗﺎﺑﻊ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﻃﮯ ﻣﺮﺍﺣﻞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻧﭙﺎ ﮐﺮﯾﮟ، ﺍ ﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺲ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﭼﺸﻢ ﺯﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻋﻘﻼ ﻣﺤﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺧﺎﺻﺎﻥ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﻗﺮﺍﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

 

ﺁﺻﻒ ﺑﻦ ﺑﺮﺧﯿﺎ ﻭﺻﯽ ﺟﻨﺎﺏ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﺎﺣﻮﺍﻟﮧ ﺩﯾﺎﮨﮯ۔

 

ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ امام محمد تقی ع ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﮯ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﻭﻣﺸﻐﻮﻝ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺲ ﺟﮕﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ع ﮐﺎ ﺳﺮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻟﭩﮑﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭼﻠﻮ ﻭﮦ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺍ، 

ﺍﺑﮭﯽ ﭼﻨﺪ ﻗﺪﻡ ﻧﮧ ﭼﻼ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﻓﮧ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺭﻭﺍﻧﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ، ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﻭﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ، ﭘﮭﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﮧ ﻣﻌﻈﻤﮧ ﺭﺳﯿﺪﮔﯽ ﮨﻮﺋﯽ ، ﻃﻮﺍﻑ ﻭﺩﯾﮕﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭼﺸﻢ ﺯﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭجھل ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﮯ - 

ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﺎﻝ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﺎﺑﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭼﻠﻮ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻭﮦ ﭼﻞ ﭘﮍﺍ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻘﺪﺱ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﺮﺍ ﺩﯼ -

ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﺗﮭﺎ ﮨﯽ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﺏ ﮐﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﺱ عابد ﻧﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺷﺎﻡ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ ﺗﮭﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺴﻢ ﺩﮮ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮯ کہ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﺮﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ ؟

ﺁﭖ ع ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﯽ ( ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﮨﻮﮞ ) ﺍﺱ عابد ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻈﯿﻢ ﻭﺗﮑﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﻣﺮﺍﺳﻢ اﺩﺍ ﮐﺌﮯ۔

 

ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﻤﺎﻡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﺟﺐ ﻭﺍﻟﯽ ﺷﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﻠﮏ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻍ ﻣﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻋﺎﺑﺪ ﭘﺮ ” ﻣﺪﻋﯽ ﻧﺒﻮﺕ “ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﺍ ﮐﮯ ﻋﺮﺍﻕ ﺑﮭﺠﻮﺍ ﺩﯾﺎ - 

ﺍﺱ عابد ﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﻗﯿﺪﺧﺎﻧﮧ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﺧﻄﺎ ﮨﻮﮞ، ﻣﺠﮭﮯ ﺭﮨﺎ ﮐﯿﺎﺟﺎﺋﮯ، 

ﺗﻮ حاکم ﻧﮯ ﺧﻂ ﮐﯽ ﭘﺸﺖ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺗﺠﮭﮯ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﮐﻮﻓﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻓﮧ ﺳﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﮑﮧ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮ۔

 

ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﻣﮑﻤﻞ ﺳﺨﺘﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ، ﺳﺨﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﮩﺮﮦ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻗﯿﺪﺧﺎﻧﮧ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ-

ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺭﺍﻭﯼ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﮯ ﭘﮭﺎﭨﮏ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﺍﻥ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﻭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﮐﮧ ﻋﺎﺑﺪ ﺷﺎﻣﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎ ﮔﯿﺎ ﯾﺎ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ، 

ﻋﻼﻣﮧ ﻣﻔﯿﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﮯ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺟﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﺎ ﭘﯿﺮﻭ ﺗﮭﺎ، ﺍﻣﺎﻣﯿﮧ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﺎ ﻣﻌﺘﻘﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ -

 

حوالہ : ﺷﻮﺍﮨﺪ ﺍﻟﻨﺒﻮﺕ ﺹ ۲۰۵ ، ﻧﻮﺭﺍﻻﺑﺼﺎﺭ ﺹ ۱۴۶ ، ﺍﻋﻼﻡ ﺍﻟﻮﺭﯼ ﺹ ۷۳۱ ، ﺍﺭﺷﺎﺩﻣﻔﯿﺪ ﺹ ۴۸۱