امام محمد تقی شیعیان اہل بیت(ع) کے نویں امام ہیں۔آپ کا نام محمد بن علی بن موسی اور امام جواد کے لقب سے معروف ہیں۔آپ(ع) 10 رجب سنہ 195 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئے اور 25 سال کی عمر میں معتصم عباسی کے ہاتھوں شہید اور کاظمین میں اپنے جد امجد امام کاظم(ع) کے پہلو میں مدفون ہوئے۔[1]۔[2]امام رضا(ع) نے آپ(ع) کی ولادت پر آپ(ع) کو شیعیان اہل بیت(ع) کے لئے خیر و برکت کا حامل مولود قرار دیا۔ امام رضا(ع) کی شہادت کے بعد شیعوں میں سے بعض لوگ آپ(ع) کے بھائی احمد بن موسی بن جعفر کے پیچھے چلے گئے اور کچھ لوگ واقفیوں سے جا ملے لیکن اکثریت نے کم سنی کے باوجود امام محمد تقی(ع) کی امامت پر یقین کرلیا۔

 

درباری علما کے ساتھ امام جواد(ع) کے کئی مناظروں کے علاوہ عقائد، تفسیر قرآن اور فقہ کے مختلف موضوعات میں متعدد احادیث آنجناب سے منقول ہیں۔

 

[1] کلینی، اصول کافی،ج1، ص492۔

[2] المفید، الارشاد، ج2، ص264۔

۔

۔

۔

نسب

محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمدبن علی زین العابدین بن حسین بن علی بن ابی طالب۔

 

آپ شیعیان اثنا عشریہ کے نویں امام ہیں۔ آپ(ع) کے والد ماجد امام رضا(ع) شیعیان اثنی عشری کے آٹھویں امام ہیں۔ آپ(ع) کی والدہ سبیکہ خاتون رسول خدا کی زوجہ ماریہ قبطیہ کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں؛ البتہ بعض مآخذ ان کا نام خیزران اور ریحانہ بیان کرتے ہیں۔[3]۔[4]

 

کنیت

آپ(ع) کی کنیت "ابو جعفر" ہے اور تاریخ و حدیث میں آپ(ع) کو "ابو جعفر ثانی" کہا جاتا ہے جبکہ "ابو جعفر اول" امام محمد باقر(ع) ہیں۔[5]۔[6]

 

لقب

آپ(ع) کے مشہور القاب "جواد" اور "تقی" ہیں۔متعلقہ مآخذوں میں آپ(ع‏) کے لئے مرتضی، قانع، رضی، مختار، متوکل اور منتجَب جیسے القاب نقل ہوئے ہیں۔[7]۔[8]

 

انگشتری کا نقش

امام محمد تقی علیہ السلام کی انگشتری کے لئے ایک نقش :حَسبيَ اللهُ حافِظي منقول ہے۔ [9]

 

[3] کلینی، اصول کافی، ج1، ص315و492۔

[4] مجلسی، بحار الانوار، ج50، ص1

[5] کلینی، اصول کافی، ج1، ص315و492

[6] مجلسی، بحار الانوار، ج50، ص1۔

[7] ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج4، ص379۔

[8] مجلسی، بحار الانوار، ج50، صص 12-13۔

[9] میرے لئے صرف اللہ ہی کافی ہے جو میرا حافظ و نگہبان ہے۔

۔

۔

۔

ولادت اور شہادت

مؤرخین کے مطابق، امام جواد(ع) کی ولادت سنہ 195 ہجری میں شہر مدینہ میں ہوئی لیکن آپ(ع) کے یوم ولادت کے بارے میں اختلاف ہے۔ قول مشہور اور منفرد 10 رجب المرجب ہے جسے شیخ طوسی نے اپنی کتاب مصباح المتہجد[10]۔[11] میں بیان کیا ہے لیکن زيادہ تر منابع و مآخذ نے 15 رمضان المبارک کو آپ(ع) کا یوم ولادت قرار دیا ہے۔[12]۔[13] امام جواد(ع) سنہ 220 ہجری کے ماہ محرم کے اختتام سے 2 دن پہلے بغداد لائے گئے اور اسی سال ذیقعد کے مہینے میں معتصم عباسی کے ہاتھوں مسموم ہو کر بغداد میں شہید ہوئے.[14] کاظمین میں اپنے جد امجد حضرت امام کاظم(ع) کے پہلو میں مدفون ہیں۔[15]۔[16] بعض نے آپ کی شہادت واثق عباسی کے دور میں لکھی ہے ۔[17]

 

[10] ‌طوسی، مصباح ‌المتہجد ص‌804 ـ 805۔

[11] فضل‌ بن‌ حسن‌ طبرسی‌، 1417؛ص128۔

[12] سعدبن ‌عبدالله ‌اشعری‌، كتاب ‌المقالات ‌و الفرق‌، ص99۔

[13] طبری، دلائل ‌الامامۃ‌، ص383۔

[14] شیخ مفید،الارشاد2/273

[15] ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب،ج 4،ص 379۔

[16] مجلسی، بحار الانوار، ج50،صص 12-13۔

[17] ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب،3/487۔اربلی،کشف الغمہ3/134

۔

۔

۔

ازواج

 

امام جواد(ع) کی شادی سنہ 215 میں مامون عباسی کی بیٹی ام فضل سے ہوئی۔[18] یہ شادی مامون کی درخواست پر ہوئی اور امام(ع) نے اس کے لئے حضرت زہراء(س) کا مہر ـ یعنی 500 درہم ـ قرار دے کر اس رشتے کو منظور کیا۔ اور اس شادی سے امام(ع) کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔[19] اور آپ(ع) کی تمام اولادیں آپ(ع) کی دوسری زوجہ مکرمہ سمانہ مغربیہ سے ہوئیں۔[20]

 

بعض مآخذ میں منقول ہے کہ امام جواد(ع) نے امام رضا(ع) کے سکونتِ خراسان کے دوران ایک بار آپ(ع) سے ملنے کی غرض سے خراسان کا سفر کیا[21] اور اسی وقت مامون نے اپنی بیٹی کا نکاح آپ(ع) سے کیا۔

 

ابن کثیر کے قول کے مطابق امام جواد(ع) کے ساتھ مامون کی بیٹی کا خطبۂ نکاح 8سال سے بھی کم عمر میں حضرت امام رضا(ع) کے دور میں پڑھا گیا تھا لیکن شادی اور رخصتی سنہ 315 ہجری میں مامون کی اجازت سےتکریت میں ہوئی۔[22] اس روایت کو مد نظر رکھا جائے تو اس رشتے کے بارے میں سنہ 202 ہجری اور سنہ 215 ہجری میں منقولہ روایتوں میں کوئی تناقض یا مغایرت نہیں ہے لیکن بغداد میں یحیی بن اکثم کے ساتھ امام(ع) کے مناظرے کی روایت [جس کا خلاصہ اگلی سطور میں بیان ہوگا] کے ساتھ کچھ زیادہ ہم آہنگ نہیں ہے۔

 

اولاد

 

شیخ مفید کی روایت کے مطابق امام جواد(ع) کے چار فرزندامام ہادی، موسی، فاطمہ و اَمامہ ہیں۔[23] البتہ بعض راویوں نے آپ(ع) کی بیٹیوں کی تعداد حکیمہ، خدیجہ وام کلثوم کے نام سے تین بتائی ہے۔ ۔[24]

 

[18] طبری کا خیال ہے کہ یہ شادی سنہ 202 ہجری میں ہوئی ہے۔ رجوع کریں: الطبری، محمد بن جریر، التاریخ، ج7، بیروت: مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، بی تا، ص149.(سافٹ ویئر مکتبۃ اہل البیت، دوسرا نسخہ)۔

[19] ابن شہرآشوب،وہی ماخذ،ج4،ص380۔

[20] قمی، منتہی الامال، ج2، ص235۔

[21] ابن فندق، تاریخ بیہق، ص46۔

[22] ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج10، ص295۔

[23] مفید، الارشاد، ج2، ص284۔

[24] ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج4،ص380۔

۔

۔

۔

امامت

 

آپ کی امامت کا زمانہ 17 سال ۔[49] یا 20 دن کم 18 سال[50] یا 19 سال سے 25 دن کم[51] پر مشتمل ہے۔

 

اپنے والد کے ساتھ رہنے کی مدت 7سال[52] یا 7سال ،4 مہینے، 2 دن[53] یا 9سال اور چند مہینے [54] ہے۔

 

خلفائے عباسی مامون (حکومت 193 تا 218 ق)،معتصم عباسی ہیں [55]، بعض نے واثق[56] کا بھی ذکر کیا ہے۔

 

پس ایک قول کی بنا پر آپ(ع) کا دور امامت دو عباسی خلفاء کے ہم عصر تھا۔ پہلا خلیفہ مامون (حکومت: 193 تا 218 ہجری) تھا اور امام(ع) کی عمر کے 23 سال اسی کے دور میں گذرے؛ دوسرا عباسی خلیفہ معتصم تھا اور امام(ع) کے عمر کے آخر دو برس اس کے دور میں گذرے۔ امام(ع) کا مسکن مدینہ تھا لیکن دو خلفاء کے کہنے پربغداد کے سفر پر گئے۔ معتصم کے دور میں آپ(ع) کا بغدادکا سفر آپ(ع) کی شہادت پر ختم ہوا۔ آپ(ع) ایک دفعہمامون کی درخواست پر سنہ 214 (یا 215) ہجری میں بغداد گئے اور وہاں مختصر سا قیام کرنے اور بعض مشہور علماء اور فقہاء کے ساتھ ایک علمی مناظرے میں شرکت اور مامون کی بیٹی سے شادی کرنے کے بعد حج کے ایام میں مدینے واپس چلے گئے؛ لیکن معتصم عباسی کے دور میں جب بغداد گئے تو کچھ عرصے تک وہیں قیام کیا اور درباری علماء و فقہاء و دیگر علما کے ساتھ مختلف موضوعات پر مناظرے کئے۔

 

[49] ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب،3/487۔شیخ مفید،الارشاد2/273۔

[50] ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب،3/487

[51] اربلی،کشف الغمہ3/157

[52] ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب،3/487۔شیخ مفید،الارشاد2/273۔

[53] ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب،3/487

[54] اربلی،کشف الغمہ3/139

[55] شیخ مفید،الارشاد2/273۔ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب،3/487

[56] ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب،3/487۔اربلی،کشف الغمہ3/134

۔

۔

۔

فضائل و مناقب

 

آپ کی کرامات بہت ہیں اور لوگوں کے سوالات اور کم سنی میں امامت کے حوالے سے شبہات کے جوابات بھی کم نہیں ہیں۔ ہم یہاں کچھ نمونے پیش کرتے ہیں:

 

استجابت دعا

 

داؤد بن قاسم کہتے ہیں: "ایک دن میں امام جواد(ع) کے ہمراہ ایک باغ میں پہنچا اور میں نے عرض کیا: "میں آپ پر فدا ہوجاؤں! میں مٹی اور گارا کھانے کا بہت شوقین ہوں؛ آپ دعا فرمائیں (تاکہ میں اس عادت سے چھٹکارا پاؤں)۔ آنجناب نے نے جواب نہیں دیا اور چند روز بعد بغیر کسی تمہید کے فرمایا: "اے ابا ہاشم! خداوند متعال نے مٹی کھانے کی عادت تم سے دور کردی"۔ ابو ہاشم کہتے ہیں: اس دن کے بعد میرے نزدیک مٹی کھانے سے زیادہ منفور چیز کوئی نہ تھی"۔[98]

 

[98] شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص586۔

۔

۔

۔

اہل سنت مشاہیر کے اقوال

 

مامون اور معتصم کے زمانے میں امام جواد علیہ السلام کے مکالمات و مناظرات علما کو درپیش پیچیدہ فقہی مسائل کے حل میں مددگار و معاون ثابت ہوتے تھے اور شیعہ اورسنی علما کے اعجاب اور تحسین کا سبب بنتے تھے۔ چنانچہ اگر وہ ایک طرف سے شیعیان اہل بیت کے امام تھے تو دوسری طرف سے اہل سنت کے علماء نے بھی ان کی علمی عظمت کی تصدیق کی ہے اور آپ(ع) کی علمی شخصیت کو ممتاز شمار کیا ہے۔ نمونے کے طور پر یہاں چند مشاہیر اہل سنت کے اقوال پیش کئے گئے ہیں:

 

سبط ابن جوزی: "امام جواد علم، تقوی، زہد و بخشش اور جود و سخا میں اپنے والد کی راہ پر گامزن تھے"۔[119]ابن حجر ہیتمی: "مامون نے انہیں اپنے داماد کے طور پر منتخب کیا کیونکہ وہ کم سنی کے باوجود علم وآگہی اور حلم و بردباری کے لحاظ سے اپنے زمانے کے تمام علماء اور دانشوروں پر برتری اور فوقیت رکھتے تھے"۔[120]فتال نیشابوری: "مامون ان کا شیدائی ہوا کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ وہ کمسنی کے باوجود علم و حکمت، ادب اور عقلی کمال کے لحاظ سے اس قدر بلند مقام پر پہنچے ہیں کہ زمانے کا کوئی بھی عالم اور دانشور اس رتبے پر نہیں پہنچ سکا ہے"۔[121]جاحظ عثمان معتزلی: جاحظ کی وجہ شہرت خاندانعلی(ع) ساتھ اس کی مخالفت کی وجہ سے تھی لیکن اس کے باوجود اس نے امام جواد(ع) کو دس ممتاز طالبیوں کے زمرے میں قرار دیا ہے اور لکھا ہے: "وہ سب عالم و زاہد، عابد و شجاع اور کریم و سخی اور پاک و پاکیزہ ہیں"۔[122]

 

[119] سبط ابن جوزی، تذکرة الخواص، ص359۔

[120] .ہیتمی، ابن حجر، الصواعق المحرقہ، ص206۔

[121] فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، ص237۔

[122] عاملی، مرتضی، زندگانی سیاسی امام جواد، ص106. ۔