اللہ عزوجل نے مٹی (زمین) کو ہفتے کے دن پیدا کیا؟
صحیح مسلم:مسلم بن حجاج نے اپنی صحیح میں سند کے ساتھ ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ :
فَقَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ "
اللہ عزوجل نے مٹی (زمین) کو ہفتے کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور اس میں چوپایوں کو جمعرات کے دن پھیلا دیا اور سب مخلوقات کے آخر میں آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد سے لے کر رات تک کے درمیان جمعہ (کے دن کی آخری ساعتوں میں سے کسی ساعت میں) پیدا فرمایا۔“
(صحیح مسلم ۸/۱۲۸،رقم: 7054)
عبدالعزیز بن باز اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں :
ومما أخذ على مسلم رحمه الله رواية حديث أبي هريرة: أن الله خلق التربة يوم السبت. . . الحديث. والصواب أن بعض رواته وهم برفعه للنبي صلى الله عليه وسلم وإنما هو من رواية أبي هريرة رضي الله عنه عن كعب الأحبار؛ لأن الآيات القرآنية والأحاديث القرآنية الصحيحة كلها قد دلت على أن الله سبحانه قد خلق السماوات والأرض وما بينهما في ستة أيام أولها يوم الأحد وآخرها يوم الجمعة؛ وبذلك علم أهل العلم غلط من روى عن النبي صلى الله عليه وسلم أن الله خلق التربة يوم السبت، وغلط كعب الأحبار ومن قال بقوله في ذلك، وإنما ذلك من الإسرائيليات الباطلة.
حضرتِ ابوہرہرہ کی حدیث جسے مسلم نے نقل کیا ہےکہ :
«اللہ نے مٹی کو ہفتے کے دن خلق فرمایا۔» اس حدیث کے حوالے سے درست موقف یہ ہے کہ اس کے بعض راویوں نے یہ گمان کیا کہ یہ رسولؐ کی ہے جبکہ یہ ابوہریرہ کی کعب الاحبار سے روایت ہے کیونکہ قرآنی آیات اور احادیث صحیح سب کی دلالت اس بات پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو خلق فرمایا اور ان کے درمیان جتنی مخلوقات ہیں سب کو دنوں میں خلق فرمایا۔ ابتداء اتوار کے دن سے ہوئی اور انتہا جمعہ کے دن ہوئی اور اسی سے اہلِ علم نے جان لیا کہ نبیؐ سے جو روایت کی گئی ہے غلط ہے کہ اللہ نے مٹی کو ہفتے کے دن خلق کیا اور کعب الاحبار نے بھی غلط کیا اور جس نے اس کے قول کو اس مورد میں کہا وہ بھی، کیونکہ بتحقیق یہ باطل اسرائیلیات میں سے ہے۔
(مجموع فتاویٰ ابن باز، ۲۵/۷۰)
پس صحیح مسلم جیساکہ ابن باز نے صراحت کے ساتھ کہا ہے اسرائیلیات باطلہ پر مشتمل ہے اور اس کی نبیؐ کی طرف جھوٹی نسبت دی گئی ہے۔