نہج البلاغہ اور امامتِ جنابِ امیر المومنین علی بن ابی طالبؑ
٭نہج البلاغہ اور امامتِ جنابِ امیر المومنین علی بن ابی طالبؑ٭
بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ امام علیؑ کی امامت کا ثبوت نہج البلاغہ سے دیں ، جبکہ یہ اشکال بلکل عبث ہے لیکن آئیے وہابوں کے امام کی زبانی آپ کو ثبوت دیتے ہیں چناچنہ وہابیوں کے دور حاضر کے امام صالح بن فوزان کہتے ہیں:
فهو لا يرى أن ما في "نهج البلاغة" من ذكر الوصي والوصاية يوجب الطعن فيه , ثم يدعي أنه ليس في "نهج البلاغة" ما يخالف كتب السنة , ولست أدري هل هو يعني كل ما فيه أو مسألة الوصي والوصاية فقط ؟
ثم ينفي وجود ذكر للوصي والوصاية في هذا الكتاب , إلا تعليم النبي - صلى الله عليه وسلم - لعلي فهو بهذا يثبت ثم ينفي !
"ونحن بتتبعنا للكتاب وجدنا فيه عشرات المواضع تتضمن ذكر الوصاية "
وہ یہ نہیں سمجھتے کہ نہج البلاغہ میں وصی اور وصایت کا ذکر اس پر طعن کا موجبِ بنتا ہے، پھر وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اہلِ سنت کی کتابوں کے مخالف ہو۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان کی مراد نہج البلاغہ میں موجود تمام مطالب ہیں یا صرف وصی اور وصایت کا مسئلہ؟
پھر وہ اس کتاب میں وصی اور وصایت کے ذکر کی موجودگی کی نفی کرتے ہیں، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے علی کو تعلیم دینے کا ذکر اس سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔ یوں وہ ایک ہی وقت میں اسے ثابت بھی کرتے ہیں اور اس کی نفی بھی!
"جبکہ ہم نے اس کتاب کا تتبع کیا تو اس میں درجنوں مقامات ایسے پائے جن میں وصایت کا ذکر موجود ہے۔"
(البیان لاخطاء بعض الکتاب:۹۷)
اب وہابیوں کو چاہیے جو سوال ہم سے کرتے ہیں وہ اپنے امام سے کریں۔