رسول اللہؐ سے وضو میں پیروں پر مسح کا حکم اور سنی مترجمین کی علمی خیانتیں
رسول اللہؐ سے وضو میں پیروں پر مسح کا حکم اور سنی مترجمین کی علمی خیانتیں
امام اہلسنت ابن ماجہ قزوینی (م ۲۷۳ھ) نے اپنی سند سے ایک اہم حدیث روایت کی ہے، جس میں وضو کے طریقے میں پیروں پر مسح کرنے کا واضح ذکر موجود ہے:
حدثنا محمد بن يحيى، ثنا حجاج، ثنا همام، ثنا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، حدثني علي بن يحيى بن خلاد، عن أبيه، عن عمه رفاعة بن رافع: "أنه كان جالسًا عند النبي ﷺ، فقال: إنها لا تتم صلاة لأحد حتى يُسبغ الوضوء كما أمره الله تعالى، يغسل وجهه ويديه إلى المرفقين، ويمسح برأسه ورجليه إلى الكعبين"۔
يحيی ابن خلاد نے اپنے چچا رفاعہ سے نقل کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپؐ نے فرمایا: کسی بندے کی بھی نماز اس وقت تک مکمل اور صحیح نہیں ہے کہ جب تک خداوند کے حکم کے مطابق اعمال وضو کو انجام نہ دے، اپنے چہرے اور اپنے ہاتھوں کو بھی کہنیوں تک دھوئے اور پھر اپنے سر اور پیروں کا ٹخنوں تک مسح کرے۔
(سنن ابن ماجہ، جلد1، صفحہ376، رقم460، ط دار الجیل بیروت)
امام حاکم نیشاپوری نے بھی ایسی ہی روایت کو اپنی سند سے نقل کیا:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى،،،،،،،،،،، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدٍ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحُ رَأْسَهُ وَرِجْلَهُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، الخ .
حاکم نیشاپوری اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
"هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ"۔
یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے۔
امام ذہبی نے تلخیص میں اس کی توثیق کرتے ہوئے یہی الفاظ دہرائے:
"عَلَى شَرْطِهِمَا"۔
(مستدرک حاکم، جلد1، صفحہ368، رقم881 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)
امام بیہقی نے بھی ایسی ہی روایت کو سنن کبریٰ میں نقل کیا ہے:
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ،،،،،،،،،، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ تَعَالَى، يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، الخ
(السنن الکبریٰ للبیہقی، جلد2، صفحہ487، رقم3857)
اس روشن اور واضح حدیث میں لفظ «يَمْسَحُ» (مسح کرنے) کا تعلق دونوں اعضا یعنی «بِرَأْسِهِ وَ رِجْلَيْهِ» سے یکساں ہے۔
لیکن اردو مترجمین نے جان بوجھ کر «رِجْلَيْهِ» کا ترجمہ "پاؤں دھونے" کیا، جبکہ عربی زبان کے قواعد کے مطابق یہاں «رِجْلَيْهِ» کی ضمیر کا مرجع فعل «يَمْسَحُ» ہی ہے، نہ کہ کوئی دوسرا فعل۔
یہی تحریف سنن ابن ماجہ کے اس نسخے میں موجود ہے جو عطا اللہ ساجد کے ترجمے اور زبیر علی زئی کی تحقیق کے ساتھ شائع ہوا۔
(سنن ابن ماجہ، جلد1، صفحہ408، رقم460)
اسی طرح سنن ابو داود میں بھی یہ روایت موجود ہے، لیکن مترجم عمر فاروق سعیدی نے یہاں بھی لفظ «يَمْسَحُ» کو "دھونا" ترجمہ کر کے تحریف کا ارتکاب کیا۔
(سنن ابو داود، جلد1، صفحہ636، رقم858)
دلچسپ امر یہ ہے کہ ان دونوں مقامات پر زبیر علی زئی نے تحقیقاً اس حدیث کو "صحیح" قرار دیا، گویا صحت حدیث کے اقرار کے باوجود ترجمہ تحریف سے خالی نہ رہ سکا۔
نتیجتہ:
١: یہ روایت سنداً صحیح ہے، اور وضو میں پیروں پر مسح کا واضح حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے نقل ہوا ہے۔
٢: اس حدیث کی تصدیق امام حاکم، امام ذہبی اور خود سلفی محدث زبیر علی زئی نے بھی کی ہے۔
٣: سنی مترجمین کی طرف سے اس حدیث کے ترجمہ میں "مسح" کو "دھونا" بنا دینا علمی خیانت اور تحریف معنوی کی بدترین مثال ہے۔
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی