Back to ادارہ البلاغ مکتب اہل بیت ع

یزید بن معاویہ ملعون کی امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کے ساتھ بے ادبی

یزید بن معاویہ ملعون کی امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کے ساتھ بے ادبی

 

قارئین کرام! کربلا کے جانگداز سانحے کے بعد یزید بن معاویہ ملعون کی طرف سے امام حسین علیہ السلام کے مقدس سر مبارک کی توہین اور بے ادبی ایسی حقیقت ہے جسے اہل سنت کے کئی معتبر ائمہ نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔ ان واقعات کا انکار وہی کرتا ہے جو یا تو تاریخی و حدیثی مصادر سے بے بہرہ ہے یا جان بوجھ کر یزید کی حمایت میں تعصب پر اتر آیا ہے۔

 

اسی سلسہ میں امام اہل سنت ابوالفرج ابن الجوزی (المتوفی ۵۹۷ھ) نے اپنی معروف کتاب الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید میں ایک سنداً صحیح اثر نقل کیا ہے جس سے یزید ملعون کی طرف سے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کی گئی بے ادبی کا پردہ چاک ہوتا ہے۔

 

روایت ملاحظہ فرمائیں:

 

قال ابن أبي الدنيا: وحدثني سلمة بن شبيب قال: حدثني الحميدي عن سفيان، قال: سمعت سالم بن أبي حفصة يقول: قال الحسن: جعل يزيد بن معاوية يطعن بالقضيب موضع في رسول الله صلى الله عليه وسلم وا ذلاه!

 

ابن ابی الدنیا نے سلمہ بن شبیب سے ، اور انہوں نے الحمیدی سے ، اور انہوں نے سفیان سے، انہوں نے کہا میں نے سالم بن ابی حفصہ کو کہتے سنا کہ حسن (بصری) نے کہا: یزید بن معاویہ نے (حضرت امام حسین علیہ السلام) کے چہرہ انور پر جہاں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اپنا چہرہ مبارک رکھتے تھے چھڑی سے مارنا شروع کیا اور اس کی توہین کرنے لگا۔

 

الرد علي المتعصب العنيد المانع من ذم يزيد - ابن الجوزی، صفحہ58، طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان

 

یزید پر لعنت کا جواز، اردو ترجمہ سید اشتیاق حسین گیلانی، صفحہ101 

 

سند کا تحقیقی جائزہ:

 

١: حسن بن ابو الحسن البصری (۲۱ھ - ۱۱۰ھ)

 

ابن حجر عسقلانی انکے بارے میں لکھتے ہیں: 

 

الحسن ابن أبي الحسن البصري واسم أبيه يسار بالتحتانية والمهملة الأنصاري مولاهم ثقة فقيه فاضل مشهور،،الخ

 

ثقہ (قابل اعتماد)، فقیہ (ماہرِ فقہ)، فاضل (نیک و پرہیزگار) اور مشہور شخصیت تھے۔

 

تقریب التہذیب، صفحہ176، رقم1227

 

واقعہ کربلا کے وقت انکی عمر 40 سال کے قریب تھی۔ 

 

٢: سالم بن ابی حفصہ (۱۳۷ھ)

 

ابن حجر انکے بارے میں لکھتے ہیں: 

 

صدوق في الحديث إلا أنه شيعي غالي

 

حدیث میں صدوق (سچا) ہے، لیکن تشیع میں غلو (غالی شیعہ) رکھتا تھا۔

 

تقریب التہذیب، صفحہ298، رقم2171

 

٣: سفیان بن سعید (١٦١ھ)

 

ابن حجر انکے بارے میں لکھتے ہیں: 

 

سفيان ابن سعيد ابن مسروق الثوري أبو عبد الله الكوفي ثقة حافظ فقيه عابد إمام حجة من رؤوس الطبقة السابعة 

 

یہ ثقہ (قابل اعتماد)، حافظ (احادیث کے حافظ)، فقیہ (فقہ کے ماہر)، عابد (عبادت گزار)، امام (رہنما)، اور حجت (قابل دلیل) شخصیت تھے۔ یہ ساتویں طبقے کے ائمہ حدیث میں سے ایک مرکزی اور سرکردہ شخصیت تھے۔

 

تقریب التہذیب، صفحہ333، رقم2445

 

٤: عبداللہ بن زبیر بن عیسی القرشی الحمیدی (۲۱۹ھ)

 

ابن حجر انکے بارے میں لکھتے ہیں:

 

ثقة حافظ فقيه أجل أصحاب ابن عيينة من العاشرة مات بمكة سنة تسع عشرة

 

یہ ثقہ (قابل اعتماد)، حافظ (احادیث کے حافظ)، فقیہ (فقہ کے ماہر) اور ابن عیینہ کے سب سے افضل شاگردوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ دسویں طبقے کے محدثین میں سے تھے۔ ان کا انتقال 219 ہجری میں مکہ مکرمہ میں ہوا، اور بعض کے نزدیک اس کے بعد ہوا۔

 

تقریب التہذیب، صفحہ449، رقم3320

 

٥: سلمہ بن شبیب (٢٤٠ھ)

 

ثقة من كبار الحادية عشرة مات سنة بضع وأربعين

 

یہ ثقہ (قابل اعتماد) اور گیارہویں طبقے کے بڑے محدثین میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کا انتقال 240 ہجری کے آس پاس ہوا ۔

 

تقریب التہذیب، صفحہ339، رقم2494

 

٦: عبداللہ بن محمد بن عبید بن سفیان القرشی ابوبکر ابن ابی الدنیا ( ۲۰۸ھ - ۲۸۱ھ)

 

ابن حجر انکے بارے میں لکھتے ہیں:

 

صدوق حافظ صاحب تصانيف من الثانية عشرة مات سنة إحدى وثمانين وله ثلاث وسبعون

 

یہ صدوق (سچے)، حافظِ حدیث، اور کثیر التصانیف (کئی علمی کتابوں کے مصنف) تھے۔

یہ بارہویں طبقے کے راوی شمار ہوتے ہیں۔

ان کا انتقال 281 ہجری میں ہوا، اور ان کی عمر 73 برس تھی۔

 

تقریب التہذیب، صفحہ483 رقم3591

 

لہذا اس اثر کی سند بلکل صحیح ہے۔

 

نوٹ : کفایت اللہ سنابلی نے اپنی بدنام زمانہ کتاب میں اس روایت پر کوئی کلام نہیں کیا ہے بلکہ اسکے برعکس باقی ضعیف روایات پر جرح کرکے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس باب میں تمام روایات ضعیف ہیں۔

 

یاد رہے کہ کفایت اللہ سنابلی کے اصول کے مطابق اگر کوئی متاخر محدث (جیسے ابن الجوزی) کسی صاحبِ تصانیف متقدم محدث (جیسے ابن ابی الدنیا) سے کوئی اثر بغیر سند بھی نقل کرے تو یہ سمجھا جائے گا کہ انہوں نے ان کی کسی کتاب سے لیا ہوگا۔ یہاں تو ابن الجوزی سند کے ساتھ ابن ابی الدنیا سے یہ اثر نقل کر رہے ہیں، لہٰذا اس روایت کے رد کی گنجائش نہیں رہتی۔

 

تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری

ترتیب: عبداللہ امامی