Back to ادارہ البلاغ مکتب اہل بیت ع

ازواجِ رسولؐ اور اطاعت کی شرط : امام ابن قیم کی گواہی

ازواجِ رسولؐ اور اطاعت کی شرط : امام ابن قیم کی گواہی

 

قارئین کرام! اہل سنت کے مشہور مفسر، محدث اور فقیہ ابن قیم الجوزیہ (م ۷۵۱ھ) نے سورۃ التحریم کی تفسیر میں ایک اہم اصولی نکتہ بیان کیا ہے جو ہر منصف مزاج قاری کے لیے چشم کشا ہونا چاہیے۔

 

سورۃ التحریم کی ابتدائی آیات جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو ازواج (حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ) کو شدید تنبیہ کی گئی ہے، اس پر خود صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث شاہد ہیں۔ ابن قیم اس تنبیہ اور قرآن کی ضرب المثل یوں بیان کرتے ہیں:

 

ثم في هذه الأمثال من الأسرار البديعة ما يناسب سياقَ السورة؛ فإنها سِيقَتْ في ذكر أزواج النبي -صلى اللَّه عليه وسلم-، والتحذير من تظاهرهنَّ عليه ، وأنهن إن لم يُطِعْنَ اللَّه ورسوله ويُرِدْنَ الدارَ الآخرة لم ينفعهن اتصالهن برسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم-، كما لم ينفع امرأة نوح ولوط اتصالهما بهما، ولهذا إنما ضرب اللَّه في هذه السورة مثل اتصال النكاح دون القرابة.

 

پس ان مثالوں میں عجیب و غریب راز ہیں جو سورت کے سیاق کے مطابق ہیں کیونکہ یہ آیات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے ذکر میں نازل ہوئی ہیں، اور ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت نہ کریں اور آخرت کی طلب نہ رکھیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کا تعلق انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، بالکل جیسے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کو ان کے تعلق کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اسی لیے اللہ نے یہاں صرف نکاح (زوجیت) کی مثال دی، نسب یا قرابت کی نہیں۔

 

اعلام الموقعین عن رب العالمین، صفحہ377، طبع دار ابن حزم

 

اعلام الموقعین عن رب العالمین (اردو)، جلد1، صفحہ143

 

ابن قیم کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح کا تعلق بھی اس وقت بے فائدہ ہو سکتا ہے جب ازواجِ رسولؐ اطاعتِ الٰہی و رسالت سے انحراف کریں۔ پس جب یہ بات اہل سنت کے جید امام فرما رہے ہیں تو اگر یہی بات شیعہ عقیدہ یا تفسیر میں موجود ہو تو اسے کفر یا گستاخی کیوں کہا جاتا ہے؟

 

نتیجتاً یہ اقتباس اس بات کی ناقابلِ انکار دلیل ہے کہ ازواجِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صرف رشتہ کافی نہیں جب تک اطاعت و وفاداری نہ ہو، اور جو تنقید قرآن نے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں پر کی، اسی اصول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج پر بھی لاگو کیا گیا ہے، جیسا کہ ابن قیم کے کلام سے واضح ہے۔

 

تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری

ترتیب: عبداللہ امامی