شیعہ تراث میں حضرت امیر المومنینؑ کے بارے میں رسول اللہؐ کی ایک مفید حدیث
شیعہ تراث میں حضرت امیر المومنینؑ کے بارے میں رسول اللہؐ کی ایک مفید حدیث
شیخ مفیدؒ (م 413ھ) اپنی کتاب امالی میں صحيح سند کیساتھ روایت نقل کرتے ہیں:
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ اَلْحُسَيْنِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى اَلْعَطَّارُ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ اَلْحَكَمِ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ اَلصَّادِقِ عَنْ آبَائِهِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: يَا عَلِيُّ، أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ، وَلِيُّكَ وَلِيِّي، وَوَلِيِّي وَلِيُّ اَللَّهِ، وَعَدُوُّكَ عَدُوِّي، وَعَدُوِّي عَدُوُّ اَللَّهِ، يَا عَلِيُّ، أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكَ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكَ، يَا عَلِيُّ، لَكَ كَنْزٌ فِي اَلْجَنَّةِ وَأَنْتَ ذُو قَرْنَيْهَا، يَا عَلِيُّ، أَنْتَ قَسِيمُ اَلْجَنَّةِ وَ اَلنَّارِ، لاَ يَدْخُلُ اَلْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ عَرَفَكَ وَعَرَفْتَهُ، وَلاَ يَدْخُلُ اَلنَّارَ إِلاَّ مَنْ أَنْكَرَكَ وَ أَنْكَرْتَهُ، يَا عَلِيُّ أَنْتَ وَاَلْأَئِمَّةُ مِنْ وُلْدِكَ عَلَى اَلْأَعْرَافِ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ تَعْرِفُ اَلْمُجْرِمِينَ بِسِيمَاهُمْ وَ اَلْمُؤْمِنِينَ بِعَلاَمَاتِهِمْ، يَا عَلِيُّ لَوْلاَكَ لَمْ يُعْرَفِ اَلْمُؤْمِنُونَ بَعْدِي.
امام جعفر صادق علیہ السلام اپنی آباءِ کرام کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
اے علیؑ! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، اور تمہارا دوست میرا دوست ہے، اور میرا دوست اللہ کا دوست ہے، اور تمہارا دشمن میرا دشمن ہے، اور میرا دشمن اللہ کا دشمن ہے۔
اے علیؑ! جو تم سے جنگ کرے، میں اُس سے جنگ میں ہوں، اور جو تم سے صلح رکھے، میں اُس سے صلح رکھتا ہوں۔
اے علیؑ! تمہارے لیے جنت میں ایک خزانہ ہے، اور تم جنت کے دو سینگوں (دربانوں/کناروں) والے ہو۔
اے علیؑ! تم جنت اور جہنم کے بانٹنے والے ہو (تقسیم کرنے والے ہو)، جنت میں کوئی داخل نہیں ہو سکتا مگر وہ جو تمہیں پہچانتا ہو اور تم اُسے پہچانتے ہو، اور جہنم میں کوئی نہیں جائے گا مگر وہ جو تمہیں نہ پہچانے اور تم اُسے نہ پہچانو۔
اے علیؑ! تم اور تمہاری اولاد سے آئمہؑ قیامت کے دن "اعراف" پر ہوں گے، تم مجرموں کو ان کے نشانات سے پہچانو گے، اور مؤمنوں کو ان کی علامتوں سے۔
اے علیؑ! اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد مؤمنوں کو پہچانا ہی نہ جا سکتا۔
(الأمالي للمفید، المجلس الرابع والعشرون، صفحہ124، رقم4)
اس حدیثِ شریف کے اہم فوائد و نکات:
١: یہ حدیث سنداً صحیح ہے اور براہِ راست رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک متصل ہے۔ یہ اُن افراد کے باطل اعتراضات کا ردّ ہے جو امامیہ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی اعتقادی بنیادوں کے لیے متصل اور صحیح سند والی احادیث پیش کریں۔ یہ حدیث ان کے لیے ایک صریح حجت ہے۔
٢: اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی معرفت جنت میں داخل ہونے کے لیے لازم و ضروری ہے، اور جو انکار کرے گا وہی جہنمی ہوگا۔ پس، حضرت امیر المومنین علیہ السلام نجات کا معیار اور پہچان ہیں۔
٣: رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے بعد ائمہ علیہم السلام ان کی اولاد میں سے ہوں گے۔ یہ اہل بیت علیہم السلام کی امامت کے تسلسل پر ایک روشن دلیل ہے، جو قیامت تک جاری رہے گا۔
٤: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو میزانِ ایمان و نفاق قرار دیا ہے۔ قیامت کے دن وہ اور ان کی ذریت سے آئمہ علیہم السلام "اعراف" پر ہوں گے، جو مومنوں اور مجرموں کی شناخت کریں گے۔ پس حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی معرفت ہی وہ کسوٹی ہے جس سے مؤمن اور منافق کی پہچان ہوگی۔
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی