Back to ادارہ البلاغ مکتب اہل بیت ع

کیا حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو غضبناک کیا تھا؟

کیا حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو غضبناک کیا تھا؟

 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

ایک مشہور حدیث ہے جو شاید سب ہی جانتے ہونگے، بخاری نے اسکو یوں روایت کیا ہے:

 

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : "‏ فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي ‏"‏‏.‏

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، اس لیے جس نے اسے ناحق ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا ۔

 

صحيح بخاری، جلد5، صفحہ169، رقم3714

 

اور مسلم نے اس کو یوں بھی نقل کیا ہے:

 

حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ‏"‏ ‏.‏

 

عمرو نے ابن ابی ملیکہ سے، انھوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اس کو اذیت دے وہ مجھے اذیت دیتی ہے ۔ 

 

صحیح مسلم، جلد6، صفحہ119، رقم6308

 

اس حدیث کے پیچھے کا backdrop یہ بتایا جاتا ہے اہل تسنن کی روایات میں کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو ابو جہل کی بیٹی سے شادی کرنی تھی تو رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ الله کے نبی کی بیٹی اور الله کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں نہیں آ سکتی (أو كما قال)۔ اور اس پر سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا غضبناک ہوئیں جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث ارشاد فرمائی (نعوذ باللہ من ذلک)۔ 

 

اب اس مفہوم کی کچھ شیعی روایات بھی ہیں، خصوصا شیخ صدوقؒ کی کتاب علل الشرائع میں، یہ روایات کافی طویل ہیں جس کے سبب ہم مکمل نہیں نقل کریں گے صرف موضع الحاجہ لیں گے۔ 

 

پہلی روایت:

 

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْمِقْدَامِ وَ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالا أَتَى رَجُلٌ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ (ع)…… قَالَ إِنَّهُ جَاءَ شَقِيٌّ مِنَ الْأَشْقِيَاءِ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ (ص) فَقَالَ لَهَا أَ مَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلِيّاً قَدْ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَقَالَتْ حَقّاً مَا تَقُولُ فَقَالَ حَقّاً مَا أَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَدَخَلَهَا مِنَ الْغَيْرَةِ مَا لَا تَمْلِكُ نَفْسَهَا وَ ذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى كَتَبَ عَلَى النِّسَاءِ غَيْرَةً وَ كَتَبَ عَلَى الرِّجَالِ جِهَاداً وَ جَعَلَ لِلْمُحْتَسِبَةِ الصَّابِرَةِ مِنْهُنَّ مِنَ الْأَجْرِ مَا جَعَلَ لِلْمُرَابِطِ الْمُهَاجِرِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَاشْتَدَّ غَمُّ فَاطِمَةَ مِنْ ذَلِكَ وَ بَقِيَتْ مُتَفَكِّرَةً هِيَ حَتَّى أَمْسَتْ وَ جَاءَ اللَّيْلُ حَمَلَتِ الْحَسَنَ عَلَى عَاتِقِهَا الْأَيْمَنِ وَ الْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهَا الْأَيْسَرِ وَ أَخَذَتْ بِيَدِ أُمِّ كُلْثُومٍ الْيُسْرَى بِيَدِهَا الْيُمْنَى ثُمَّ تَحَوَّلَتْ إِلَى حُجْرَةِ أَبِيهَا فَجَاءَ عَلِيٌّ فَدَخَلَ حُجْرَتَهُ فَلَمْ يَرَ فَاطِمَةَ فَاشْتَدَّ لِذَلِكَ غَمُّهُ وَ عَظُمَ عَلَيْهِ وَ لَمْ يَعْلَمِ الْقِصَّةَ مَا هِيَ فَاسْتَحَى أَنْ يَدْعُوَهَا مِنْ مَنْزِلِ أَبِيهَا فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ يُصَلِّي فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ جَمَعَ شَيْئاً مِنْ كَثِيبِ الْمَسْجِدِ وَ اتَّكَأَ عَلَيْهِ۔

 

عمرو بن ابی مقدام اور زیاد بن عبد اللہ سے مروی دونوں بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص امام صادق علیہ السلام کے پاس آیا……… تو امام ابو عبداللہ علیہ السلام نے فرمایا: ایک بدبخت بدبختوں میں سے حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ علی علیہ السلام نے ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کا پیغام دیا ہے؟

 

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: کیا واقعی تم جو کہہ رہے ہو وہ سچ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، سچ ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔ اور اس نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔

 

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اس خبر سے غیرت کا ایسا غلبہ ہوا کہ وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لیے غیرت کو لکھا ہے اور مردوں پر جہاد واجب کیا ہے، اور جو عورتیں اس غیرت میں صبر کریں، انہیں وہی اجر دیا جاتا ہے جو اللہ کے راستے میں مرابطہ کرنے والے اور ہجرت کرنے والے مردوں کو ملتا ہے۔

 

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اس خبر سے بہت غم لاحق ہوا، وہ مسلسل سوچتی رہیں یہاں تک کہ رات ہوگئی۔ رات کے وقت انہوں نے امام حسن علیہ السلام کو اپنے دائیں کندھے پر، امام حسین علیہ السلام کو بائیں کندھے پر اٹھایا، اور حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا کا بایاں ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ میں لیا، پھر وہ اپنے والد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے کی طرف روانہ ہوئیں۔

 

ادھر امام علی علیہ السلام گھر آئے اور جب انہوں نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اپنے حجرے میں نہ پایا تو ان پر سخت غم طاری ہوا۔ انہیں اس قصے کی خبر نہ تھی۔ وہ شرم کے مارے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ان کے والد کے گھر سے بلانا بھی مناسب نہ سمجھے، چنانچہ وہ مسجد میں گئے اور جتنا اللہ نے چاہا نماز پڑھتے رہے، پھر مسجد کی ریت کو جمع کیا اور اس پر ٹیک لگا کر لیٹ گئے۔

 

فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ (ص) مَا بِفَاطِمَةَ مِنَ الْحُزْنِ أَفَاضَ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ لَبِسَ ثَوْبَهُ وَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي بَيْنَ رَاكِعٍ وَ سَاجِدٍ وَ كُلَّمَا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دَعَا اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ مَا بِفَاطِمَةَ مِنَ الْحُزْنِ وَ الْغَمِّ وَ ذَلِكَ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا وَ هِيَ تَتَقَلَّبُ وَ تَتَنَفَّسُ الصُّعَدَاءَ فَلَمَّا رَآهَا النَّبِيُّ (ص) أَنَّهَا لَا يُهَنِّيهَا النَّوْمُ وَ لَيْسَ لَهَا قَرَارٌ قَالَ لَهَا قُومِي يَا بُنَيَّةِ فَقَامَتْ فَحَمَلَ النَّبِيُّ (ص) الْحَسَنَ وَ حَمَلَتْ فَاطِمَةُ الْحُسَيْنَ وَ أَخَذَتْ بِيَدِ أُمِّ كُلْثُومٍ فَانْتَهَى إِلَى عَلِيٍّ (ع) وَ هُوَ نَائِمٌ فَوَضَعَ النَّبِيُّ (ص) رِجْلَهُ عَلَى رِجْلِ عَلِيٍّ فَغَمَزَهُ وَ قَالَ قُمْ يَا أَبَا تُرَابٍ فَكَمْ سَاكِنٍ أَزْعَجْتَهُ ادْعُ لِي أَبَا بَكْرٍ مِنْ دَارِهِ وَ عُمَرَ مِنْ مَجْلِسِهِ وَ طَلْحَةَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَاسْتَخْرَجَهُمَا مِنْ مَنْزِلِهِمَا وَ اجْتَمَعُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ (ص) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص) يَا عَلِيُّ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي وَ أَنَا مِنْهَا فَمَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِي وَ مَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَ مَنْ آذَاهَا بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ آذَاهَا فِي حَيَاتِي وَ مَنْ آذَاهَا فِي حَيَاتِي كَانَ كَمَنْ آذَاهَا بَعْدَ مَوْتِي قَالَ فَقَالَ عَلِيٌّ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَا دَعَاكَ إِلَى مَا صَنَعْتَ فَقَالَ عَلِيٌّ وَ الَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيّاً مَا كَانَ مِنِّي مِمَّا بَلَغَهَا شَيْءٌ وَ لَا حَدَّثَتْ بِهَا نَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَدَقْتَ وَ صَدَقَتْ فَفَرِحَتْ فَاطِمَةُ (ع) بِذَلِكَ وَ تَبَسَّمَتْ حَتَّى رُئِيَ ثَغْرُهَا

 

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے غم و اندوہ کو دیکھا تو ان پر پانی چھڑکا، پھر اپنا لباس پہنا اور مسجد تشریف لے گئے، اور برابر نماز پڑھتے رہے، کبھی رکوع میں اور کبھی سجدہ میں۔ جب بھی دو رکعت نماز پڑھتے، دعا کرتے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا غم اور رنج دور ہو۔

 

یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ ان کے پاس سے نکلے تھے اور وہ کراہ رہی تھیں، سانس ٹوٹ رہا تھا، رات بھر انہیں نیند نہیں آئی، نہ سکون نصیب ہوا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس حال میں دیکھا تو فرمایا: اے بیٹی، اٹھو۔

 

چنانچہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اٹھ گئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسن علیہ السلام کو اٹھایا، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے امام حسین علیہ السلام کو اٹھایا، اور حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا کا ہاتھ پکڑا اور روانہ ہوئے۔ وہ امام علی علیہ السلام کے پاس پہنچے، جو اس وقت سوئے ہوئے تھے۔

 

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایڑی امام علی علیہ السلام کے پاؤں پر ماری اور کہا: اٹھو، اے ابوتراب! کتنے سوئے ہوؤں کو تم نے پریشان کر دیا۔ پھر فرمایا: میرے لیے ابوبکر کو ان کے گھر سے، عمر کو ان کی مجلس سے، اور طلحہ کو بلا لاؤ۔ چنانچہ امام علی علیہ السلام گئے اور ان تینوں کو ان کے گھروں سے نکال کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے۔ جب سب جمع ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علیؑ! کیا تم نہیں جانتے کہ فاطمہ میرا جزو ہے اور میں اس سے ہوں؟ جس نے اسے اذیت دی، اس نے مجھے اذیت دی، اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی۔ اور جو اسے میری وفات کے بعد اذیت دے گا، وہ ایسا ہی ہے جیسے اسے میری حیات میں اذیت دی ہو، اور جس نے اسے میری حیات میں اذیت دی وہ ایسا ہی ہے جیسے میری وفات کے بعد اذیت دے؟

 

امام علی علیہ السلام نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!

 

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم نے جو کچھ کیا، اس پر تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا؟

 

امام علی علیہ السلام نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنایا جو کچھ انہیں (حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو) بتایا گیا، وہ مجھ سے سرزد نہیں ہوا اور نہ میں نے کبھی ایسا سوچا۔

 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: تم نے سچ کہا اور فاطمہ نے بھی سچ کہا۔

 

پھر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا خوش ہوگئیں اور تبسم فرمایا، یہاں تک کہ ان کے دانت نظر آنے لگے۔ 

 

علل الشرائع، جلد1، صفحہ183/184

 

اگرچہ اس روایت کا ظاہری متن حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی برائت پر مشتمل ہے، اور ایک سطح پر یہ روایت بعض ذہنی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتی ہے، مگر اس کے اسناد کی حیثیت علمی معیار پر قابلِ اعتبار نہیں ہے۔ ذیل میں اس روایت کے راویوں کا تفصیلی تحقیقی جائزہ پیش کیا جاتا ہے:

 

علی بن احمد: 

 

یہ راوی شیخ صدوقؒ کے مشائخ میں شمار ہوتے ہیں، اور شیخ صدوقؒ نے ان کیلئے ترضی کے الفاظ استعمال کیے ہیں، لیکن سید ابو القاسم خوئیؒ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مجہول الحال ہیں۔

 

معجم رجال الحديث، الرقم: 7920

 

ابو العباس احمد بن محمد بن یحیی: 

 

یہ راوی بھی سید خوئیؒ کے مطابق مجہول ہیں۔

 

معجم رجال الحديث، الرقم: 1015

 

عمرو بن ابی مقدام: 

 

ابن غضائری کی رجال (نمبر 76) میں اس کو ضعیف جدا (بہت ضعیف) راوی کہا گیا ہے۔

 

مگر بعض نے اس کتاب کی نسبت پر اشکال کیا ہے جسکی وجہ سے یہ راوی مختلف فیہ یا مجہول ہیں، اور اہل تسنن کے رجال میں ان پر سخت جرح ہے۔ ابن سعد، بخاری، نسائی، یحیی بن معین، ابن ابی حاتم، ابن حبان سب نے اس کو ضعیف اور متروک کہا ہے۔

 

زیاد بن عبد اللہ: 

 

اس راوی کو نہ صرف مجہول بلکہ مہمل شمار کیا گیا ہے۔

 

مستدركات علم الرجال، الرقم: 5853

 

لہذا یہ روایت سند کے اعتبار سے شدید ضعیف (ضعیف جداً) ہے کیونکہ اس کے تمام راوی یا تو مجہول ہیں، یا ان میں سے بعض پر سخت جرح موجود ہے۔ روایت کی سند میں کوئی بھی ثقہ راوی موجود نہیں ہےحتیٰ کہ شریف مرتضیؒ جیسے بزرگ شیعہ عالم نے اپنی کتاب تنزیه الأنبياء میں اس روایت کو جعلی قرار دیا ہے۔

 

لہٰذا اس روایت کو مقبول یا معتبر قرار دینا علمِ حدیث و رجال کے اصولوں کے برخلاف ہوگا، اور عقائد و تاریخ جیسے نازک میدان میں ایسی ضعیف السند روایت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

 

اسکے علاوہ دوسری روایت جس سے مخالفین کا استدلال ہوتا ہے وہ یہ ہے:

 

أَبِي (رحمه الله) قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ بِسُرَّ مَنْ رَأَى قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مُهَاجِرَيْنِ إِلَى بِلَادِ الْحَبَشَةِ فَأُهْدِيَتْ لِجَعْفَرٍ جَارِيَةٌ قِيمَتُهَا أَرْبَعَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَهْدَاهَا لِعَلِيٍّ (ع) تَخْدُمُهُ فَجَعَلَهَا عَلِيٌّ (ع) فِي مَنْزِلِ فَاطِمَةَ فَدَخَلَتْ فَاطِمَةُ (ع) يَوْماً فَنَظَرَتْ إِلَى رَأْسِ عَلِيٍّ (ع) فِي حَجْرِ الْجَارِيَةِ فَقَالَتْ يَا أَبَا الْحَسَنِ فَعَلْتَهَا فَقَالَ لَا وَ اللَّهِ يَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ مَا فَعَلْتُ شَيْئاً فَمَا الَّذِي تُرِيدِينَ قَالَتْ تَأْذَنُ لِي فِي الْمَصِيرِ إِلَى مَنْزِلِ أَبِي رَسُولِ اللَّهِ (ص) فَقَالَ لَهَا قَدْ أَذِنْتُ لَكِ فَتَجَلْبَبَتْ بِجِلْبَابِهَا وَ تَبَرْقَعَتْ بِبُرْقِعِهَا وَ أَرَادَتِ النَّبِيَّ (ص) فَهَبَطَ جَبْرَئِيلُ (ع) فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَ يَقُولُ لَكَ إِنَّ هَذِهِ فَاطِمَةُ قَدْ أَقْبَلَتْ إِلَيْكَ تَشْكُو عَلِيّاً فَلَا تَقْبَلْ مِنْهَا فِي عَلِيٍّ شَيْئاً فَدَخَلَتْ فَاطِمَةُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ص) جِئْتِ تَشْكِينَ عَلِيّاً قَالَتْ إِيْ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ لَهَا ارْجِعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ رَغِمَ أَنْفِي لِرِضَاكَ فَرَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ (ع) فَقَالَتْ لَهُ يَا أَبَا الْحَسَنِ رَغِمَ أَنْفِي لِرِضَاكَ تَقُولُهَا ثَلَاثاً فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ (ع) شَكَوْتِينِي إِلَى خَلِيلِي وَ حَبِيبِي رَسُولِ اللَّهِ (ص) وَا سَوْأَتَاهْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ص) أُشْهِدُ اللَّهَ يَا فَاطِمَةُ أَنَّ الْجَارِيَةَ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ وَ أَنَّ الْأَرْبَعَمِائَةِ دِرْهَمٍ الَّتِي فَضَلَتْ مِنْ عَطَائِي صَدَقَةٌ عَلَى فُقَرَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ تَلَبَّسَ وَ انْتَعَلَ وَ أَرَادَ النَّبِيَّ (ص) فَهَبَطَ جَبْرَئِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَ يَقُولُ لَكَ قُلْ لِعَلِيٍّ قَدْ أَعْطَيْتُكَ الْجَنَّةَ بِعِتْقِكَ الْجَارِيَةَ فِي رِضَا فَاطِمَةَ وَ النَّارَ بِالْأَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ الَّتِي تَصَدَّقْتَ بِهَا فَأَدْخِلِ الْجَنَّةَ مَنْ شِئْتَ بِرَحْمَتِي وَ أَخْرِجْ مِنَ النَّارِ مَنْ شِئْتَ بِعَفْوِي فَعِنْدَهَا قَالَ عَلِيٌّ (ع) أَنَا قَسِيمُ اللَّهِ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَ النَّارِ

 

حضرت ابو ذرؒ بیان کرتے ہیں کہ میں اور جعفر بن ابی طالب علیہ السلام حبشہ کی طرف مہاجر تھے۔ وہاں جعفر علیہ السلام کو ایک باندی ہدیہ کی گئی جس کی قیمت چار ہزار درہم تھی۔ جب ہم مدینہ واپس آئے تو جعفر علیہ السلام نے وہ باندی حضرت علی علیہ السلام کو خدمت کے لیے ہدیہ کر دی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس باندی کو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر میں رکھا تاکہ وہ ان کی خدمت کرے۔

 

ایک دن حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا گھر میں داخل ہوئیں تو دیکھا کہ حضرت علی علیہ السلام کا سر اس باندی کی گود میں ہے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: اے ابا الحسنؑ! کیا آپ نے ایسا کیا؟

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:خدا کی قسم، اے بنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے کچھ نہیں کیا۔ تو تم کیا کرنا چاہتی ہو؟

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے کہا: کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں اپنے والد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر جاؤں؟

حضرت علیؑ نے فرمایا: ہاں، میں نے تمہیں اجازت دی۔

 

چنانچہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے چادر اوڑھی، نقاب کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس روانہ ہوئیں۔ اس دوران جبرئیلؑ نازل ہوئے اور کہا:

اے محمد! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: یہ فاطمہ سلام اللپ علیہا آپ کے پاس حضرت علی علیہ السلام کی شکایت لے کر آ رہی ہیں، پس آپ ان کی کوئی بات حضرت علی علیہ السلام کے خلاف قبول نہ کریں۔

 

پھر جب حضرت فاطمہؑ سلام اللہ علیہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم علی علیہ السلام کی شکایت لے کر آئی ہو؟

 

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: "ہاں، ربِ کعبہ کی قسم!"۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس جاؤ اور علی علیہ السلام سے کہو: میری ناک خاک آلود ہو جائے اگر تم مجھ سے راضی نہ ہو۔

چنانچہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا واپس گئیں اور حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: اے ابا الحسنؑ! میری ناک خاک آلود ہو اگر تم مجھ سے راضی نہ ہو۔ یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ دہرایا۔

 

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم نے مجھے میرے خلیل اور حبیب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت کی؟ وا حسرتا! رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرمندگی کا مقام ہے! اے فاطمہؑ! میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ یہ باندی میں نے اللہ کی رضا کے لیے آزاد کر دی، اور میرے عطیے میں سے جو چار سو درہم بچے تھے، وہ میں نے اہل مدینہ کے فقراء پر صدقہ کر دیے۔

 

پھر حضرت علی علیہ السلام نے لباس پہنا، نعلین پہنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے۔ اسی وقت جبرئیلؑ نازل ہوئے اور کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: علی علیہ السلام کو کہہ دو کہ میں نے جنت اس باندی کو فاطمہ سلام اللہ علیہا کی رضا کے لیے آزاد کرنے کے بدلے تمہیں عطا کی، اور جہنم سے نجات وہ چار سو درہم صدقہ کرنے کے سبب دی۔ پس اے علیؑ! میری رحمت سے جس کو چاہو جنت میں داخل کرو اور میرے عفو سے جس کو چاہو جہنم سے نکالو۔

 

تب حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: "میں ہوں اللہ کی طرف سے جنت و جہنم کا تقسیم کرنے والا"۔ 

 

علل الشرائع، جلد1، صفحہ162/163

 

اس روایت کے بھی مکمل حصے کو نہیں نقل کیا جاتا۔ لیکن اسکی اسناد کا اعتبار یہ ہے:

 

أَبِي رحمه الله (والدِ شیخ صدوق):

 

یہ علی بن حسین بن موسیٰ بن بابویہ قمی ہیں، جو کہ ثقہ شمار ہوتے ہیں۔ 

 

سعد بن عبد الله القمی:

 

یہ بھی ایک جلیل القدر، ثقہ اور کثیر التالیف شیعہ راوی ہیں، جن پر شیعہ علماء کا اجماع ہے۔

 

حسن بن عرفة:

 

یہ راوی شیعہ رجال کی کتب میں غیر مذکور ہیں، یعنی مجہول بلکہ مہمل ہیں۔ البتہ سنی رجال میں ذکر موجود ہے۔ یہاں شیخ نجاشیؒ کی بات کا ذکر اہم ہے کہ سعد بن عبد اللہ (مذکورہ بالا روای) نے بہت سے اہل تسنن راویوں سے احادیث سنی تھی، اور یہ حسن بن عرفہ بھی اہل سنت کی رجال میں موجود ہے اور انکے نزدیک ثقہ ہے۔

 

وکیع (وکیع بن جراح):

 

شیعہ رجال میں یہ راوی مجہول ہیں، جبکہ اہل تسنن میں یہ حدیث کا حافظ اور امام تصور کیا جاتا ہے، اس وجہ سے اہل سنت کے ہاں ثقہ ہے۔

 

محمد بن اسرائیل: 

 

یہ راوی بھی شیعہ رجال کی کتب میں مجہول ہیں، لیکن سنی رجال میں انکا بڑا نام ہے، مگر اہم نکتہ یہ ہے کہ وکیع سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے۔ لہٰذا اہل سنت کے نزدیک بھی یہ روایت مرسل شمار ہوگی کیونکہ محمد بن اسرائیل، وکیع کے مشائخ میں سے نہیں۔

 

ابو صالح: 

 

ان کے بارے میں شیعی رجال کی کتب میں کوئی ذکر موجود نہیں، لہٰذا یہ بھی مجہول قرار پاتے ہیں۔

 

حضرت ابو ذر غفاریؓ: 

 

یہ معروف صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اور شیعہ و سنی دونوں کے نزدیک ثقہ اور معتبر ہیں۔ 

 

مذکورہ بالا روایت کے اسنادی تجزیے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ان میں کم از کم چار راوی مجہول الحال ہیں۔ علاوہ ازیں، اس سند میں متعدد اہل سنت رواة شامل ہیں، جو ان روایتوں کو عامی سند (سندِ عامہ) کا رنگ دیتے ہیں۔ خصوصاً حسن بن عرفہ، وکیع، محمد بن اسرائیل، اور ابو صالح جیسے رواة کا شیعہ رجال میں عدمِ ذکر یا عدمِ وثاقت روایت کے اعتبار کو مزید مشکوک بنا دیتا ہے۔

اسی بنا پر روایت کے متن میں اضطراب بھی بعید از قیاس نہیں، کیونکہ سند کا تسلسل اہل سنت کی طرف مائل ہے اور متن کا اختلاط یا تحریف روایت کے سلسلے میں ممکن ہے۔ خاص طور پر جب سند میں ثقہ اور معروف شیعہ رواة ناپید ہوں۔

 

نتیجہ:

 

لہٰذا یہ دونوں روایات سنداً شدید ضعیف ہیں، اور ایسی تعجب خیز باتیں ان معصوم و جلیل القدر ہستیوں کی طرف منسوب کرنا جن کا ذکر ان روایتوں میں ہے، ہرگز متوقع اور مناسب نہیں۔ اس لیے ان روایتوں کو کسی بھی عقائدی یا تاریخی استدلال میں پیش کرنا غلط اور غیر معتبر عمل ہوگا۔

 

تحریر: سيد علی أصدق نقوی

ترتیب: عبداللہ امامی