ردّ روایتِ افضلیتِ شیخین بر لسانِ امام علیؑ: امام زین العابدینؑ کی گواہی کی روشنی میں
ردّ روایتِ افضلیتِ شیخین بر لسانِ امام علیؑ: امام زین العابدینؑ کی گواہی کی روشنی میں
اہل سنت محدث ابو سعد احمد بن محمد المالینی (م 421ھ) اپنی سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں:
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَجَّارُ الْمِصْرِيُّ بِهَا، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنِي أَخِي أَبُو سَهْلٍ يُونُسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدُ الْمَلِكِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ عَلِيًّا قَالَ: إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، وَالثَّانِي عُمَرُ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الثَّالِثَ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ: كَيْفَ أَصْنَعُ بِحَدِيثٍ حَدَّثَنِيهِ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَهَا، وَقَالَ: مَنْ هَذَا الَّذِي هُوَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ "۔
حکیم بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے امام علی بن حسین (زین العابدین) علیہ السلام سے کہا کہ لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر اور اسکے بعد حضرت عمر ہیں اور اگر آپ چاہتے ہو تو میں تیسرے کا بھی نام بتا سکتا ہوں؟
امام علی بن حسین علیہ السلام نے جواب دیا: پھر اس حدیث کا کیا کرو گے جو نقل کی ہے سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی ابن ابی طالبؑ کے بارے میں فرمایا: آپکو مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسی علیہ السلام سے تھی سوائے یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا؟
راوی کہتا ہے کہ انہوں نے پھر میری ران پر زور سے ہاتھ مارا اور کہا : بتا یہ کون ہے جس کا رتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک وہی ہے جو حضرت ہارونؑ کو حضرت موسیؑ کے ساتھ تھا۔
کتاب کے محقق نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔
کتاب الاربعین في شیوخ الصوفیة، صفحہ191، رقم29، طبع دار البشائر الاسلامیه بیروت لبنان
اس روایت سے حاصل ہونے والے فوائد:
١: اس روایت میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے بیٹے امام علی بن الحسین علیہ السلام نے صریح طور پر اہل سنت منابع میں اس روایت کا انکار کیا جس میں آیا ہے کہ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام حضرت ابوبکر و عمر کو اپنے اوپر فضیلت دیتے تھے۔
٢: امام زین العابدین علیہ السلام نے حدیثِ منزلت «أنت مني بمنزلة هارون من موسى» کو پیش کر کے حضرت امیر المومنین علیہ اسلام کی افضلیت کو نہ صرف واضح کیا بلکہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نص صریح کے طور پر پیش کیا۔
٣: امام زین العابدین علیہ السلام کا سوالیہ انداز اور راوی کی ران پر ہاتھ مارنا دراصل باطل نسبت کے خلاف ان کی شدتِ رد کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی روایات، جو بعض صحابہ کی افضلیت کے عنوان سے گھڑی گئیں، ان کا تردید اہل بیت علیہم السلام کی سنت رہی ہے۔
٤: چونکہ یہ روایت اہل سنت مصادر سے نقل ہوئی ہے، لہٰذا اہل سنت کے لیے اس میں غور و فکر اور تجدیدِ نظر کی بنیاد موجود ہے۔
نتیجہ:
اس روایت سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ امام زین العابدینؑ، حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی افضلیت کو مسلم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نص پر مبنی مانتے تھے، اور یہ بھی کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی طرف بعض صحابہ کی افضلیت کا قول منسوب کرنا آئمہ اہل بیت علیہم السلام کے نزدیک باطل و مردود ہے۔
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی