خلافتِ امیر المومنینؑ ضامنِ رزق و رحمت
خلافتِ امیر المومنینؑ ضامنِ رزق و رحمت
امامِ اہل سنت بلاذری (م 279ھ) نے اپنی سند سے اس روایت کو یوں بیان کیا ہے :
الْمَدَائِنِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْجَوْنِيِّ ، قَالَ : قَالَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حِينَ بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ : كرداذ وناكرداذ ، أَيْ : عَمِلْتُمْ وَمَا عَمِلْتُمْ ، لَوْ بَايَعُوا عَلِيًّا لأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ۔
ابو عمرو الجونی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر کی بیعت کی جا رہی تھی تو حضرت سلمان فارسیؑ نے یوں فرمایا : تم نے بظاہر کچھ کیا، مگر اصل کام نہ کیا، اگر تم لوگ علی علیہ السلام کی بیعت کرتے تو تم پر اوپر (آسمان) سے بھی رزق آتا اور تمہارے قدموں کے نیچے (زمین) سے بھی رزق آتا۔
(الانساب الاشراف، جلد2، صفحہ776 طبع دار الفکر بیروت لبنان)
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
اس اثر سے حاصل ہونے والے فوائد و نکات:
١: حضرت سلمان فارسیؑ کے الفاظ «لَوْ بَايَعُوا عَلِيًّا لأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ» قرآن مجید کی سورہ المائدہ کی آیت 66 سے ماخوذ ہے۔ اس کلام سے حضرت سلمان فارسیؑ نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی بیعت کو الہی برکات نازل ہونے کی شرط قرار دیا، جو صراحتاً حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی خلافت کو الہی مرضی کے مطابق قرار دیتا ہے۔
٢: حضرت سلمان فارسیؑ کی زبان سے حضرت ابوبکر کی بیعت پر تنقید کی ہے یہ کہہ کر کہ «كرداذ و ناكرداذ» یعنی تم نے بظاہر کچھ کیا، مگر اصل کام نہ کیا۔
حضرت سلمان فارسیؑ کا یہ جملہ سراسر اعتراض، تنقید اور افسوس کا اظہار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صحابہ نے جسے خلیفہ بنایا، وہ اصل مستحق نہ تھا۔ یہ جملہ خود بیعتِ حضرت ابوبکر کو ناقص اور غلط قرار دیتا ہے۔
نتیجتاً یہ روایت شیعہ عقیدہ امامت کے بنیادی دعوے کی تائید کرتی ہےکہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام ہی اصل امام تھے، اور خلافت ان کا حق تھا، اور ان کی بیعت سے امت کو دنیاوی اور روحانی فائدہ ہوتا، اور دوسروں کی بیعت "بظاہر عمل" تو تھا مگر حقیقت سے خالی تھا۔
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی