Back to ادارہ البلاغ مکتب اہل بیت ع

رسولِ خداؐ کی عاشوراء کے دن کیفیت: اہل سنت مصادر کی روشنی میں

رسولِ خداؐ کی عاشوراء کے دن کیفیت: اہل سنت مصادر کی روشنی میں

 

قارئین کرام! اہل سنت کی معتبر کتب میں ایک ایسا خواب منقول ہے جو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے دن پیش آیا اور جس میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امام حسین علیہ السلام اور انکے اصحابؓ کا خون اکٹھا کرتے ہوئے دیکھا۔ یہ خواب بظاہر خواب ہے، لیکن تمام محدثین کا اس بات پر اجماع ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھنا حقیقت کے قائم مقام ہوتا ہے کیونکہ شیطان ان کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ 

 

جیسا کہ صحیح بخاری میں ایک حدیث بھی نقل ہوئی ہے:

 

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: ‏ "‏ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ بِي ‏"‏ ‏.‏

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے واقعی مجھے دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا۔

 

(صحيح بخاری، جلد8، صفحہ294، رقم6994)

 

یہ واقعہ امام حسین علیہ السلام کے حق پر ہونے، اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ان کی مظلومیت پر عملی اظہار غم اور شہادتِ امام حسین علیہ السلام کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔

 

امام اہلسنت احمد بن حنبل نے اپنی سند سے حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے : 

 

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ " قَالَ عَمَّارٌ: " فَحَفِظْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ۔

 

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتہ مجھے نصف دن کو خواب آیا جس میں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، اور وہ گرد آلود اور الجھی ہوئی حالت میں تھے اور انکے پاس ایک بوتل تھی جس میں خون تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ حسین علیہ السلام اور انکے اصحاب کا خون ہے اور میں اس کو صبح سے جمع کر رہا ہوں۔ 

عمار کہتا ہے کہ ہم نے اس دن کی تاریخ یاد کرلی جب یہ خواب نظر آیا اور بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس ہی دن (یعنی 10 محرم 61 ہجری) امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا گیا تھا۔ 

 

کتاب کے محقق شعیب الارنؤط نے اس حدیث پر " قوی علی شرط شیخین " کا حکم لگایا۔

 

(مسند احمد بن حنبل، جلد4، صفحہ59/60، رقم2165 طبع الرسالہ العالمیہ بیروت لبنان)

 

اس روایت کو احمد بن حنبل نے اپنی دوسری کتاب میں بھی نقل کیا ہے:

 

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ، أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ قَالَ عَمَّارٌ: فَحَفِظْنَا ذَلِكَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ".

 

کتاب کے محقق ڈاکٹر وصی اللہ عباس نے اس حدیث پر " اسنادہ صحیح " کا حکم لگایا۔

 

(فضائل صحابہ، صفحہ457، رقم1380)

 

حاکم نیساپوری نے بھی اس روایت کو اپنی سند سے نقل کیا ہے اور حدیث نقل کرنے کے بعد اس پر " صحیح علی شرط شیخین " کا حکم لگایا:

 

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ نِصْفَ النَّهَارِ، أَشْعَثَ أَغْبَرَ مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ، لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ "، قَالَ: «فَأُحْصِيَ ذَلِكَ الْيَوْمُ فَوَجَدُوهُ قُتِلَ قَبْلَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ "

 

شمس الدین ذھبی نے بھی اس روایت پر "علی شرط مسلم" کا حکم لگایا: 

 

[التعليق - من تلخيص الذهبي]٨٢٠١ - على شرط مسلم

 

(المستدرک علی صحیحین، جلد4، صفحہ439/440، رقم8201 طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)

 

امامِ اہلسنت نور الدین ھیثمی بھی اپنی کتاب میں اس روایت کو نقل کرتے ہیں:

 

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ، أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ، فَلَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ [قَالَ عَمَّارٌ: فَحَفِظْنَا وَذَلِكَ الْيَوْمَ، فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ].

 

روایت نقل کرنے کے بعد امام اہل سنت ہیثمی لکھتے ہیں:

 

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

 

اس روایت کو احمد بن حنبل اور طبرانی نے روایت کیا ہے، اور امام احمد کے تمام راوی صحیح بخاری و مسلم کے رجال میں سے ہیں (یعنی سند صحیح درجے کی ہے)۔

 

(مجمع الزوائد، جلد9، صفحہ225/226، رقم15141 طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)

 

ابوببکر بیہقی نے بھی اپنی سند سے اس روایت کو نقل کیا ہے:

 

وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بن محمد المقري، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذِهِ؟ قَالَ: هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ فَأُحْصِيَ ذَلِكَ الْوَقْتُ فَوُجِدَ قَدْ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ .

 

(دلائل النبوۃ، جلد6، صفحہ471، تحقیق الدکتور عبد المعطی قلعجی، طبع دار الکتب العلمیة بیروت لبنان)

 

کتاب دلائل النبوة کے دوسرے محقق سید ابراہیم نے اس روایت کی سند کو "اسنادہ جید" قرار دیا ہے۔

 

(دلائل النبوۃ، جلد6، صفحہ415، رقم2846، تحقیق سید إبراهیم، طبع دار الحدیث القاهرہ)

 

ابن کثیر الدمشقی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا کہ اسکی سند "قوی" ہے:

 

وقال الإمام أحمد [۲٤٢/١ ، ۲۸۳]: حدثنا عبد الرحمن وعفان حدثنا حماد بن سلمة عن عمار بن أبي عمار عن ابن عباس قال: رأيت رسول الله ﷺ في المنام بنصف النهار أشعث أغبر معه قارورة فيها دم، فقلت: بأبي أنت وأمي يا رسول الله ﷺ ما هذا؟ قال: هذا دم الحسين وأصحابه لم أزل التقطه منذ اليوم». قال عمار: فأحصينا ذلك اليوم فوجدناه قد قتل في ذلك اليوم.

 

تفرد به أحمد وإسناده قوي.

 

(البدایۃ و النہایۃ، صفحہ1281 طبع بیت الافکار الدولیة)

 

مشکوة المصابیح میں خطیب تبریزی نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے:

 

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: رَأَيْت النَّبِي صلی اللہ عَلَيْہِ وسل فِيمَا يَرَی النَّائِمُ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّہَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِہِ قَارُورَةٌ فِيہَا دَمٌ فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا ہَذَا؟ قَالَ: ((ہَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِہِ وَلَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُہُ مُنْذُ الْيَوْم)) فأحصي ذَلِك الْوَقْت فأجد قبل ذَلِكَ الْوَقْتِ. رَوَاہُمَا الْبَيْہَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ وَأحمد الْأَخير۔

 

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ایک روز نصف النہار کے وقت نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے بال پراگندہ ہیں اور جسم اطہر غبار آلود ہے،آپ کے ہاتھ میں خون کی بوتل ہے،میں نے عرض کیا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں! یہ کیا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے، میں آج صبح سے اسے اکٹھا کر رہا ہوں۔ میں نے اس وقت کو یاد رکھا اور بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اسی وقت انہیں شہید کیا گیا تھا۔ دونوں احادیث کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے اور آخری حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔

 

اس کتاب کے محقق علامہ زبیر علی زئی اس روایت کی سند کو "حَسن" قرار دیتے ہیں۔

 

(مشکوة المصابیح، جلد3، صفحہ561، رقم6181)

 

شمس الدین قرطبی نے بھی اس کو نقل کرتے ہیں:

 

وذكر الإمام أحمد بن حنبل قال : ثنا عبد الرحمن بن مهدي قال : حدثنا حماد بن سلمة عن عمار بن أبي عمار عن ابن عباس قال: رأيت النبي ﷺ نصف النهار أشعث أغبر معه قارورة فيها دم، يلتقطه أو يتبع فيها، قال قلت : يا رسول الله ما هذا ؟ قال : دم الحسين وأصحابه، لم أزل أتتبعه منذ اليوم. قال عمار: فحفظنا ذلك اليوم فوجدناه قتل ذلك اليوم، 

 

روایت نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:

 

وهذا سند صحيح لا مطعن فيه .

 

اور اس روایت کی سند صحیح ہے اور اس میں کوئی طعن نہیں ہے۔

 

(التذکرہ فی احوال الموتیٰ و امور الاخرۃ، صفحہ1120، طبع مکتبة دار المنهاج)

 

پاکستان کے سلفی عالم حافظ زبیر علی زئی اس روایت کے متعلق بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 

میرے علم کے مطابق کسی معتبر محدث اور قابلِ اعتماد عالم نے س روایت کو ضعیف، منکر یا شاذ نہیں کہا۔

 

(مقالات، جلد2، صفحہ410) 

 

اس روایت سے حاصل ہونے والے نکات:

 

١: خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس حال میں نظر آنا کہ چہرہ خاک آلود ہے اور خون جمع کر رہے ہیں، یہ امام حسین علیہ السلام سے غیر معمولی محبت اور شہادت پر شدید غم کو ظاہر کرتا ہے۔

 

٢: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امام حسین علیہ السلام اور انکے اصحاب کا خون ایک بوتل میں جمع کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی شہادت کو آسمانی و الٰہی اہمیت حاصل ہے، اور یہ شہداء کا خون محض زمین پر بہنے والا خون نہیں، بلکہ قربِ الٰہی کا وسیلہ ہے۔

 

٣: یہ خواب روز عاشور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی تصدیق بھی کرتا ہے، کیونکہ حضرت عمار کہتے ہیں کہ "ہم نے وہ تاریخ یاد رکھی اور وہی یومِ عاشور تھا"۔

 

نتیجہ: 

 

یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ امام حسینؑ کی شہادت محض ایک تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ آسمانی طور پر اہم ترین قربانی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا درد اور اشک اس شہادت پر بہے، تو امت کو اس پر غم کرنا اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ وفا کا اظہار کرنا لازم ہے۔

 

تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری

ترتیب: عبداللہ امامی